• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیڈرو سانچیز کا اسپین میں قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان، ۲۹؍نومبر کو پولنگ

Updated: October 05, 2026, 4:57 PM IST | Madrid

اسپین میں بڑھتے ہاؤسنگ بحران اور حکومت کی پالیسیوں کو پارلیمانی شکست کے بعد سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے۲۹؍ نومبر کو عوام سے نیا مینڈیٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

Spanish Prime Minister Pedro Sanchez. Photo: INN.
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز۔ تصویر: آئی این این ۔

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے پیر۵؍ اکتوبر کو ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کردیا۔ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے کیلئے پیش کئے گئے اقدامات کو جمعہ ۲؍اکتوبر کو پارلیمنٹ میں شکست کا سامنا ہونے کے بعد کیا گیا۔ اسپین میں عام انتخابات اب۲۹؍ نومبر کو ہوں گے، حالانکہ معمول کے مطابق انتخابات ۲۰۲۷ءکے موسم گرما میں ہونے تھے۔ اسپین میں رہائش کے بڑھتے ہوئے بحران پر ملک گیر احتجاج جاری ہے۔ حکومت نے بحران سے نمٹنے کیلئے کرایہ داری کے معاہدوں کی خودکار تجدید اور کمزور و ضرورت مند کرایہ داروں کو بے دخل کرنے پر پابندی سمیت متعدد اقدامات تجویز کئے تھے۔ ان اقدامات کی ضرورت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب ۸۷؍سالہ ایک خاتون کو کرایے میں اچانک اضافے کی رقم ادا نہ کرنے پر اپنے گھر سے بے دخل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: عراق: امریکی پرچم کی بے حرمتی پر گرفتاریاں، وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا

انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے پیڈرو سانچیز نے کہا کہ حکومت کو عوام کی حمایت کو ’’تجدید اور وسیع‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین کو متحرک ہونا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پارلیمنٹ حکومت کو کہیں زیادہ وسیع ترقی پسند اکثریت فراہم کرے۔ سانچیز نے اپنی تقریر کا آغاز اپنی اتحادی حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور معیشت ترقی کر رہی ہے، باوجود اس کے کہ اس کی پیش رفت کو روکنے کی کوششیں کی گئیں۔ ان کے بقول اسپین ’’امن، حقوقِ نسواں اور خوشحالی کی دنیا کیلئے ایک مثال‘‘ بن چکا ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ برسوں کے دوران اسپین کو درپیش مختلف بحرانوں کا بھی ذکر کیا، جن میں روس اور یوکرین کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: مرکزی انتخابی کمیشن کی جانب سے تمام عرب جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کے اقدام

اسپین گزشتہ کئی برسوں سے ۲۰۲۳ءکے بجٹ کے تحت کام کر رہا ہے، جو سانچیز کی حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا آخری قومی بجٹ تھا۔ سانچیز نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں اسپین کی معیشت نے دیگر بڑی یورپی معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کی ہے۔ تاہم، تقریباً آٹھ سال سے اقتدار میں موجود سانچیز کو بدعنوانی کے ان اسکینڈلز کے باعث بھی دباؤ کا سامنا ہے جن میں ان کی اہلیہ اور ان کی سوشلسٹ پارٹی کے اہم لیڈروں سمیت ان کے قریبی افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی افریقی علاقے سیوتا میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں جولائی کے اواخر میں مراکش سے ہزاروں تارکینِ وطن داخل ہوگئے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK