الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کا فر مان:کورونا کی جانچ کرو، یا دکان بند رکھو

Updated: September 14, 2020, 12:36 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Ulhasnagar

الہاس نگر میونسپل کارپوریشن نے کووڈ۔ ۱۹؍ کے بڑھتے معاملات پر قابو پانے کیلئے دکانداروں کو کورونا کی جانچ لازمی طور پر کرنے کا مشورہ دیا ہے بصورت دیگر دکان بند رکھنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔

Coronavirus India - Pic : PTI
کورونا وائرس

الہاس نگر میونسپل کارپوریشن نے کووڈ۔ ۱۹؍ کے بڑھتے معاملات پر قابو پانے کیلئے دکانداروں کو کورونا کی جانچ لازمی طور پر کرنے کا مشورہ دیا ہے بصورت دیگر دکان بند رکھنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ شہری انتظامیہ کے اس فر مان سے دکانداروں میں کافی ناراضگی پائی جارہی ہے۔ 
    الہا س نگر میں کورونا کو قابو میں رکھنے کیلئے شہر ی انتظامیہ نے مختلف احتیاطی قدم اٹھائے ہیں جن کے سبب شہر میں مر یضوں کی تعداد بڑی حد تک کنٹرول میں ہے اور صحت یاب ہو نے والے مر یضوں کا تناسب ۹۱؍ فیصد سے بھی زیادہے۔ اس در میان میونسپل انتظامیہ نے عوام کے رابطہ میں آنے والے دکاندار اور ہوٹل مالکان کیلئے اینٹی جن ٹیسٹ کر انے کا فیصلہ کیا ہےمگر دیکھا یہ جارہا ہے کہ دکاندار اینٹی جن ٹیسٹ کر انے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ ۲؍ دن قبل کیمپ نمبر ۳؍ اور کیمپ نمبر ۵؍ میں واقع دکانداروں کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے میونسپل انتظامیہ نے کورونا کی جانچ کر نے کو لازمی قرار دیا ہے۔ وہیں جو دکاندار کورونا کی جانچ نہیں کر وائے گا اُسے دکان کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس معاملے میں ناراض دکانداروں نے بیوپاری سنگھ کے صدر کشور بنواری سے ملاقات کی اور کورونا کی جانچ کو لازمی کئے جانے کی سخت مخالفت کی۔ 
 اس ضمن میں کشور بنواری نے بتایا کہ کچھ دنوں قبل ناگپور کے میونسپل کمشنر تکارام منڈے نے بھی اسی طر ح کا  ایک فر مان جاری کیا تھا جس کی دکانداروں نے سخت مخالفت کی تھی ۔اس کے بعد انہیں کورونا کی جانچ کا فرمان واپس لینا پڑا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے سبب دکانداروں اور تاجروں کازبردست نقصان ہو گیا تھا اب دھیرے دھیرے حالات قابو میں آرہے ہیں ایسے میں میونسپل انتظامیہ نے اینٹی جن ٹیسٹ کی سختی کی تو دکانداروں میں تذبذب قائم ہو جائے گا۔ دوسری جانب الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کے پی آر او یوراج بھدانے نے کہا ہے کہ شہر میں کورونا کو قابو میں رکھنے کیلئے دکانداروں کو اینٹی جن ٹیسٹ ضرور کر نا چاہیے کیونکہ یومیہ ہز اروں لوگ اُن کے رابطہ میں آتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK