عمر خالد گرفتار، ۱۰؍ دن کا ریمانڈ، مودی سرکار پر شدید تنقیدیں

Updated: September 15, 2020, 7:10 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

درس وتدریس سے وابستہ اہم شخصیات اور سماجی کارکنان نے پوری شدت سے آواز بلند کی،جواں سال لیڈر کے ساتھ یکجہتی کااظہار ۔ گرفتاری کو صدائے احتجاج بلند کرنے پر حکومت کی انتقامی کارروائی قراردیا، ششی تھرور نے کہا کہ یہ تنقید کی سزا ہے، سی پی ایم نے گرفتاری کواختلاف رائے کی آزادی پر حملہ سے تعبیر کیا ، ممتابنرجی نے کہا کہ سی اے اے مخالف تحریک میں شامل رہنےوالوںکو نشانہ بنایا جارہاہے

Umar Khalid - Pic : INN
عمر خالد ۔ تصویر : آئی این این

شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں میں کلیدی رول ادا کرنے والے جواں سال لیڈر  عمر خالد کو ۱۱؍ گھنٹے کی طویل پوچھ تاچھ کے بعد اتوار کی رات دہلی پولیس نے دہلی فسادات کی سازش رچنے کے الزام میں کو گرفتار کرلیا ہے۔ان کی گرفتاری کی اطلاع ا ن کے والد  قاسم رسول الیاس نےرات ۱۱؍ بجے ایک ٹویٹ کے ذریعہ دی۔  اس گرفتاری کی ایک طرف جہاں پورے ملک میں سماجی کارکنان،  درس وتدریس سے وابستہ انصاف پسند شخصیات اور  اپوزیشن کی سیاسی پارٹیاں مذمت کررہی ہیں وہیں  دہلی پولیس نے پیر کوعمر خالد کو عدالت میں پیش کرکے ان کا ۱۰؍ دن کا ریمانڈ حاصل کرلیا۔ 
 عمر خالد سے یکجہتی کااظہار
 عمر خالد کی گرفتاری کی پورے ملک میں    شدت کے ساتھ مذمت کی جارہی ہے۔ ان کی گرفتاری کی خبر عام ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ان کی حمایت میں تحریک چھیڑ دی گئی اور     کانگریس لیڈر ششی تھرور سمیت کئی اہم شخصیات   نے جے این یو کے سابق طالب علم کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا۔  عمر خالد پر فساد کی سازش رچنے کے الزام کے جواب میں وہ ویڈیو بھی پوری شدت سے شیئر کیا جارہاہے جس میں وہ  شہریت ترمیمی ایکٹ کے مظاہرین کو ہرحال میں پرامن رہنے کی تلقین کرتے  اور یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’ اگر وہ نفرت پھیلائیں گے تو ہم اس کا جواب پیار سے دیں گے۔‘‘
 آواز بلند کرنے کی قیمت
 ٹویٹر پر’اسٹینڈ وتھ عمر خالد‘ کے ہیش ٹیگ  کے ساتھ ششی تھرور نے جےاین یو طالب علم کی گرفتاری کی مذمت کرتےہوئے  وزیراعظم مودی کو نشانہ بنایا  اور لکھا ہے کہ ’’وزیراعظم کہتے ہیں کہ وہ تنقید کا خیرمقدم کرتےہیں مگر وہ یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ جو بھی آواز بلند کریگا اسے اس کی قیمت بھی چکانی پڑیگی۔‘‘ انہوں نے اپنے ہی شہریوں کے خلاف حکومت کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آج کے ہندوستان میں  جوابی کارروائی  اپنے ہی شہریوں  کے خلاف ہوتی ہےان ممالک کے خلاف نہیں ہوتی جو واقعی ہماری سالمیت اور خود مختاری کو چیلنج کرتے ہیں۔‘‘
عمر خالد ملک کا مستقبل: یوگیندر یادو
  عمر خالد کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے سوراج انڈیا کے لیڈر یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ وہ ایسے لیڈر ہیں جن کی آج ہندوستان کو ضرورت ہے۔  

   یوگیندر یادو کے مطابق’’یہ خبر سن کو حیران ہوں کہ عمر خالد جیسے سوچنے سمجھنے اور نظریات رکھنے والے نوجوان کو یو اے پی اے  قانون کے تحت گرفتار کرلیاگیاہے۔  انہوں نے ہر طرح کے تشدد  اور فرقہ پرستی کی مخالفت کی ہے۔ وہ بلاشبہ ایسے لیڈروں  میں سے ہیں جن کی ہندوستان کو آج ضرورت ہے۔  دہلی پولیس ہندوستان کے مستقبل کو بہت دن تک جیل میں نہیں رکھ سکے گی۔‘‘ پرشانت بھوشن نے کہا ہے کہ عمر خالد کی گرفتاری نے دہلی فسادات کی جانچ میں  پولیس کی بدنیتی کو پھر ظاہر کردیاہے۔ ان کے مطابق’’یچوری، یوگیندر یادو، جینتی گھوش اور اپوروانند کا نام چارج شیٹ میں شامل کرنے  اور پھر عمر خالدکو گرفتارکرنے    کے بعد دہلی فساد کی جانچ میں دہلی پولیس کی بدنیتی پرشک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔ ‘‘ سماجی کارکن ہرش مندر نےکہا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو عمر خالد پر فخر ہونا چاہئے  جو ہمیشہ عدم تشدد اور گاندھی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا  ہے کہ ’’سی اے اے مخالف تحریک کے دوران ہم نے ساتھ میں  تقریریں کیں، انہوں نے  ہمیشہ عدم تشدد اور گاندھی کی بات کی۔آج  انہیں یو اے پی اے جیسے ظالمانہ قانون کے تحت گرفتار کیاگیاہے اور سازش کے جھوٹے الزامات عائد کئے گئے ہیں، آواز بلند کرو، اے میرے ہم وطنو!‘‘
 سماجی کارکنوں ، دانشوروں اور درس وتدریس سے وابستہ افراد کا مشترکہ بیان
 ستیش دیشپانڈے ،میری  جان، اپوروانند، نندنی سندر، شدھابرتا سین گپتا، آکار پٹیل، ہرش مندر، فرح نقوی اور بیراج پٹنائک سمیت سماجی کارکنان ، درس وتدریس سے وابستہ اہم شخصیات اور دانشوروں کی جانب سے جاری کئے گئے ایک مشترکہ بیان میں عمر خالد کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیاگیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر سخت برہمی کااظہار کیا ہے کہ دہلی پولیس نے عمر خالد کو جھوٹے الزامات کےتحت  دہلی فساد کا ملزم بنادیا ہے  ساتھ ہی ملک کے تمام ترقی پسند نظریات کےحامل افراد سے متحد ہوکر آواز بلند کرنے کی اپیل کی ۔ 
’شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو نشانہ بنایا جارہاہے‘
 سی پی ایم نے عمر خالد کی گرفتاری کے خلاف جاری کئے گئے بیان میں اسے ’’آئین کے ذریعہ دیئے گئے آزادی ٔ اظہار رائے کے حق پرحملہ‘‘قرار دیا۔ پارٹی نے اس بات پر برہمی کااظہار کیا کہ ’’اعلیٰ بی  جےپی لیڈر  جنہوں نے نفرت  انگیز تقریریں کیں اور تشدد بھڑکایا انہیں  مرکزی حکومت  کے ذریعہ  بچایاجارہا ہے جبکہ ان  نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف پرامن طریقے سے آواز بلند کی۔ ‘‘ پارٹی نے اس بات کی بھی مذمت کی کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے مظاہروں کو پولیس دہلی فساد سے جوڑ رہی ہے۔  سی  پی ایم لیڈروں نے اسے سی اے اے مخالف تحریک کو بدنام کرنے کی سازش قراردیا ہے۔  ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں کو خاص طورسے نشانہ بنایا جارہاہے جو شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مہم میں شامل تھے۔ 
 عمر خالدکے خلاف پولیس کے پاس ۱۱؍ لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات
 اس بیچ دہلی پولیس نے عمر خالد کو پیر کو ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راؤت کی عدالت میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پیش کیا  جنہوں نے انہیں  ۱۰؍ دن کے ریمانڈ میں بھیج دیا۔ دہلی پولیس  نے عدالت میں بتایا کہ اسے عمر خالد  کے خلاف  موجود  ۱۱؍ لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات کو سامنے رکھ کر  پوچھ تاچھ کرنی ہے۔ 

 تمام الزامات بے بنیاد: قاسم رسول

  عمر خالد کے والد سید قاسم رسول الیاس  نے  دہلی فساد کے الزام میں اپنے بیٹے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر عائد کئے گئے تمام الزامات بے  بنیاد ہیں جن کا کوئی ثبوت دہلی پولیس کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے غداری اور یو اے پی اے کےتحت الزامات صرف اس لئے لگائے گئے ہیں تاکہ آسانی سے ضمانت  نہ مل پائے۔   طاہر حسین  کے ساتھ عمر خالد کی میٹنگ کے دعوے پر انہوں نے کہا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں طاہر حسین کا فون تھا اسی علاقے میں  خالد کا فون بھی ٹریس  ہواہے۔ اس سے یہ کہاں  سے ثابت ہوگیا وہ دونوں  ملے ہیں۔  پیر کو جب عمر خالد کو عدالت میں پیش کیاگیا تو قاسم رسول الیاس بھی وہاں  پہنچے مگر پولیس نے انہیں ان  کے بیٹے سےملنے نہیں دیا البتہ وکیل کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK