Inquilab Logo Happiest Places to Work

مظفرنگر میں ۲؍ ماہ قبل مقفل کردی گئی عمر مسجد ہائی کورٹ کے حکم سے کھول دی گئی

Updated: April 02, 2026, 11:07 AM IST | Mohammed Rizwan Ansari | Muzaffarnagar

مسلمانوں میں خوش کی لہر، دیگر ۲؍ مساجد کے تعلق سے بھی مثبت فیصلے کی امید، مساجد کو ’’بغیر اجازات تعمیر‘‘کا حوالہ دیکر انتظامیہ نے سیل کردیاتھا۔

Umar Mosque Which Has Been Ordered To Be Opened By The High Court.Photo:INN
عمر مسجد جسے ہائی کورٹ نے کھولنے کا حکم دیا ہے۔تصویر:آئی این این
 ضلع کے بھوپا تھانہ علاقہ میں واقع ۳؍ مساجد سے متعلق جاری تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم پر عمر مسجد کی سیل کھول دی گئی ہے، جبکہ دیگر ۲؍مساجد کے معاملات تاحال ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔ عمر مسجد کے تعلق سے کورٹ  کے مثبت حکم سے جہاں  مسلمانوں  میں  خوش کی  لہر دوڑ گئی ہے وہیں یہ امید بھی پیدا ہوگئی ہے کہ دیگر مساجد کے معاملات میں بھی مسلمانوں کو انصاف ملے گا۔
اطلاع کے مطابق رحمانیہ کالونی میں واقع عمر مسجد اور رحمانیہ مسجد کو تقریباً ۲؍ماہ قبل ضلع انتظامیہ اور پولیس نے بغیر اجازت تعمیر کے الزام میں سیل کر دیا تھا۔ اس کارروائی پر مقامی افراد اور مسجد انتظامیہ کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آئے تھے۔مسجد کے نگراں افراد کا کہنا ہے کہ دونوں مساجد تقریباً دس برس قبل نجی زمین پر تعمیر کی گئی تھیں اور زمین کا باقاعدہ بیع نامہ بھی موجود ہے۔
 
 
ان کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک سیل کرنے کی کارروائی انجام دی۔سابق پردھان محمد اظہار نے بھی انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے روز کی گئی کارروائی کے دوران نہ صرف مسجد کو سیل کیا گیا بلکہ امام کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ان کے مطابق متعدد بار حکام سے رجوع کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی، جس کے بعد معاملہ عدالت میں لے جایا گیا۔بعد ازاں الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران عمر مسجد کی سیل کھولنے کا حکم جاری کیا گیا، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے مسجد کو کھول دیا گیا۔ تاہم رحمانیہ مسجد کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔
 
 
ادھر مدینہ کالونی میں زیرِ تعمیر مدینہ مسجد کو لے کر بھی تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ پولیس نے بغیر اجازت تعمیر کا الزام عائد کرتے ہوئے مسجد کے متولی اور ایک دیگر شخص کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے قبل انہیں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ان تینوں معاملات کے باعث علاقے میں صورتحال حساس بنی ہوئی ہے اور عوام کی نظریں اب ہائی کورٹ کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں، جو باقی مساجد کے مستقبل کا تعین کریں گے۔عمر مسجد کے فیصلے نے عوام میں امید جگادی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK