سنتوش کمار آر ایس نے الزام لگایا کہ انہوں نے ۲۰۲۳ء میں یہ کہانی لکھی تھی لیکن فلمساز نے اسے چُرالیا ہے۔
رنویر سنگھ۔ تصویر:آئی این این
’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ نہ صرف اپنی غیر معمولی باکس آفس کامیابی کے باعث سرخیوں میں ہے بلکہ اب ایک سنگین تنازع کا بھی سامنا کر رہی ہے۔ملک کے معروف مصنف سنتوش کمار آر ایس نے الزام لگایا ہے کہ فلم کی کہانی دراصل ان کے تحریر کردہ اسکرپٹ سے لی گئی ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ۲۰۲۳ء میں بڑی محنت سے ایک کہانی لکھی تھی اور اسے مختلف پروڈکشن ہاؤسیز کے سامنے پیش کیا تھا۔ جب میں نے ’’دھرندھر ۲‘‘ دیکھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ وہی کہانی ہے جس پر میں نے کام کیا تھا۔‘‘ سنتوش کمار کے مطابق انہوں نے اپنی اسکرپٹ کو متعدد بڑی فلم کمپنیوں کے ساتھ شیئر کیا تھا، جن میں سونی پکچرز ، زی انٹرٹینمنٹ ، ٹی سیریز اور دھرما پروڈکشن شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ان کا منصوبہ تھا کہ مرکزی کردار کے لئے آدتیہ رائے کپور کو کاسٹ کیا جائے۔
مصنف نے مزید بتایا کہ وہ اسکرین رائٹرس اسوسی ایشن کے رکن ہیں اور انہوں نے نومبر۲۰۲۳ء میں اپنی کہانی باضابطہ طور پر رجسٹر بھی کروائی تھی۔ ان کے مطابق ان کے پاس ای میلز اور دیگر دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو ان کے دعوے کو مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ جلد ہی قانونی کارروائی شروع کریں گے۔کمار نے اپنی شکایت میں یہ بھی کہا کہ اگرچہ فلم کو تکنیکی لحاظ سے اچھا بنایا گیا ہے، تاہم ان کی کہانی کو ’’استحصال‘‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’میں نے یہ کہانی تفریح کے لیے لکھی تھی، لیکن اسے سیاسی پروپیگنڈہ میں تبدیل کر دیا گیا، جو میرے لئے تکلیف دہ ہے۔‘‘ دوسری جانب، فلم کے ہدایت کار آدتیہ دھر یا پروڈکشن ٹیم کی طرف سے تاحال ان الزامات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث قیاس آرائیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔ فلمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس اسکرپٹ رائٹس اور دانشورانہ ملکیت کے حوالے سے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔