• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی توثیق کی

Updated: December 16, 2025, 5:58 PM IST | New York

جنرل اسمبلی نے اس قرارداد کو بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کیا اور ہندوستان سمیت ۱۶۴ ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

UN General Assembly. Photo: X
یو این جنرل اسمبلی۔ تصویر: ایکس

اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی نے پیر کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ایک آزاد ریاست فلسطین کے قیام کے حق میں توثیق کی گئی ہے۔ جنرل اسمبلی نے اس قرارداد کو بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کیا اور ہندوستان سمیت ۱۶۴ ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اسرائیل، امریکہ، مائیکرونیشیا، ارجنٹائن، پیراگوئے، پاپوا نیو گنی، پلاؤ اور ناؤرو نے اس قرارداد کی مخالفت کی جبکہ ایکواڈور، پنامہ، جنوبی سوڈان اور کئی پیسفک جزیرے کی ریاستوں سمیت نو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

جنرل اسمبلی کے ایجنڈا آئٹم کے تحت، فلسطین کے عوام کے حق خودارادیت کی توثیق کرنے والی اس قرارداد کو منظور کیا گیا ہے۔ اس میں فلسطینیوں کے اپنے سیاسی حیثیت کا آزادانہ طور پر تعین کرنے اور اقتصادی، سماجی اور ثقافتی ترقی کی پیروی کرنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے دیرینہ موقف کو دہرایا گیا ہے قرارداد میں اقوام متحدہ کی پچھلی قراردادوں اور کلیدی بین الاقوامی قانونی دستاویزات، بشمول اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ یہ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ حق خود ارادیت، فلسطینی عوام پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں عالمی استحکام فوج تعینات کرنے کا عمل آئندہ ماہ شروع ہوسکتا ہے

جنرل اسمبلی نے تمام ممالک، اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسیوں اور اقوام متحدہ کے نظام کے اندر موجود تنظیموں پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کو اس حق کو جلد از جلد حاصل کرنے میں مدد کیلئے حمایت اور امداد فراہم کرنا جاری رکھیں۔ قرارداد میں مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقے کی علاقائی وحدت اور سالمیت کا احترام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس نے بین الاقوامی قانون، یو این کی متعلقہ قراردادوں اور پہلے سے طے شدہ پیرامیٹرز پر مبنی ایک منصفانہ، پائیدار اور جامع امن تصفیے کیلئے حمایت کی توثیق کی۔

یہ بھی پڑھئے: لگاتار ۶۶؍ ویں دن اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی ، کئی علاقوں پر حملے

اگرچہ جنرل اسمبلی کی قراردادیں قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں، لیکن وہ سیاسی وزن رکھتی ہیں اور بین الاقوامی برادری کے موقف کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ ووٹ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی توجہ اور اقوام متحدہ میں احتساب، انسانی ہمدردی کی رسائی اور فلسطینی ریاست کے مستقبل پر نئی بحثوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔ یہ قرارداد فلسطینی حق خود ارادیت اور تنازعہ کے مذاکراتی سیاسی حل کی حمایت میں دہائیوں سے جنرل اسمبلی کے مستقل موقف کو تقویت دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK