غذائی تحفظ کویقینی بنانےکیلئےاقوام متحدہ کااجلاس،غذائی قلت کےاثرات کوکم کرنےکی کوشش

Updated: May 20, 2022, 11:42 AM IST | Agency | New York

روس یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والی غذائی قلت کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے دنیا بھر کے ممالک عملی اقدامات پر غور کر رہے ہیں اور عالمی ادارے انہیں احساس دلا رہے ہیں کہ اس بحران سے بچے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں

 The conference, held at the United Nations, has been dubbed the Global Food Security Call to Action Open in Google Translate • Feedback.Picture:INN
اقوام متحدہ میںہونیوالی اس کانفرنس کو ’گلوبل فوڈ سیکوریٹی کال ٹو ایکشن ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

دنیا بھر سے وزراء اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام وزراء کی سطح کے اجلاس کیلئے نیویارک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔اقوامِ متحدہ میں بدھ ۱۸؍مئی کو وزارتی سطح پر ہونے والی اس کانفرنس کو، ’گلوبل فوڈ سیکوریٹی کال ٹو ایکشن ‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس اجلاس میں۳۰؍ سے۳۵؍ ممالک کے وزراء شرکت کر رہے ہیں جن میں ایسے ممالک ایک ساتھ ہوں گے جو غذا کے عدم تحفظ سے شدید متاثر ہیں اور وہ بھی جو اس پوزیشن میں ہیں کہ ان اثرات کو کم کر سکیں۔مئی کے شروع میں اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیرلِنڈا تھامس گرین فیلڈ نے ایک پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن اقوامِ متحدہ میں وزراء کی سطح کے ایک اجلاس کی صدارت کریں گے جس کا مقصد روس اور یوکرین کی جنگ کے باعث دنیا میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش خوراک میں کمی کے خطرے کے پیشِ نظر عملی اقدامات پر غور  وخوض ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ۱۸؍ مئی کو اس اجلاس کے ایک روز بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں، کونفلکٹ اینڈ فوڈ سیکوریٹی ( تنازع اور خوراک کا تحفظ) کے موضوع پر عام بحث ہو گی۔ اس کی صدارت بھی امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن کریں گے۔۱۹؍مئی کو ہونے والا یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں صدارت سنبھالنے کے بعد امریکی قیادت میں پہلا اجلاس ہو گا جس میں یوکرین کے خلاف روسی جنگ اور اس کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
خوراک کے بحران سے بچے متاثر ہو سکتے ہیں
 یوکرین کی جنگ سے پیدا ہونے والی غذائی قلت کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے دنیا بھر کے ممالک عملی اقدامات پر غور کر رہے ہیں اور عالمی ادارے انہیں احساس دلا رہے ہیں کہ اس بحران سے بچے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔منگل کے روز اقوامِ متحدہ نے کہا  تھا کہ غذا کی کمی کے شکار بچوں کے علاج کے خرچ میںایکدم ۱۶؍ فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے نے کہا کہ یوکرین پر روسی حملے اور کووِڈ کی عالمی وباء کے باعث تر سیلات میں رخنہ پیدا ہونے کی وجہ سے بچوں کا علاج ومعالجہ بھی متاثر ہوا ہے۔یونیسیف نے کہا ہے کہ بچوں کو جو طبی لحاظ سے ضروری تیار غذا مہیا کی جاتی ہے اس کے اجزاء کی قیمتیں خوراک کے اس عالمی بحران کی وجہ سے کافی بڑھ گئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق بچوں کے عالمی ادرے کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ ۶؍ ماہ میں۶؍ لاکھ بچے مونگ پھلی، تیل، شکر اور دیگر ضروری غذائی اجزاء کی عدم فراہمی کے باعث علاج کی کئی سہولتوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔ امریکہ یوکرین سے اناج مارکیٹ میں لانے کا حامی ہے۔امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوغطریس کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد یوکرین سے اناج بین الاقوامی منڈیوں میں لانا ہے۔اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے پیر کے روز کہاتھا سیکریٹری جنرل نے اپنے منصوبوں اور یوکرین اور روسی حکام سے اپنی بات چیت کے بارے میں ہم سے گفتگو کی ہے۔گزشتہ ماہ کے آخر میں، ماسکو اور کیف کے دورے کے بعد سیکریٹری جنرل نے کہا تھا کہ انہوں نے عزم کر لیا ہے کہ جنگ کے باوجود یوکرین سے زرعی پیداوار اور روس اور بیلا روس سے کھاد منڈیوں میں واپس لائیں گے۔
ہندوستان کےگندم کی برآمد بند کرنے  کے اعلان سے پریشانی
 گزشتہ ہفتے ہندوستان نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں گرمی کی شدت کے باعث گندم کی پیداوار میں کمی اور اناج کی قیمتوں میں شدید اضافے کی وجہ سے وہ اپنی گندم کی برآمد روک رہا ہے۔بی وی آر سبرامنیم ہندوستان کےکامرس سیکریٹری ہیں۔انہوں نے ہندوستان کے اس اقدام کی وضاحت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم اس پابندی کی مدد سے تجارت کوایک خاص سمت میں لے جا رہے ہیں ۔ہم نہیں چاہتے کہ گندم غیر منظم طریقے سےایسے ملکوں میں پہنچےجہاں اسے ذخیرہ کر لیا جائےیا اس مقصد کیلئےاستعمال نہ کیا جائے جس کی ہم امید کرتے ہیں ۔یعنی اناج کی کمی کے شکار ملکوں کی ضروریات کو پورا کرنا۔  ہندوستان کے اس اعلان سے ملکوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اگرچہ ہندوستان دنیا میں گندم پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن یوکرین کی جنگ کے باعث بحیرۂ اسود کے ذریعےیوکرین سے شپمنٹ رک جانے کے بعد بین الاقوامی تاجر ہندوستان سے سپلائی پر انحصار کر رہے تھے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا یہ اقدام قیمتیں اور بڑھا دے گا۔تاہم ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ اس اعلان سے پہلے کے معاہدوں کے مطابق اناج کی کمی کے شکار ملکوں کو سرکاری طور پر گندم برآمد کرتا رہے گا۔چین روس کی مدد نہ کرے:جی سیون گروپ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور مغربی اتحادیوں کو خدشہ تھا کہ چین روس کی حمایت کرے گا۔ تاہم چین نے اس کا کھل کر اظہار نہیں کیا ہے۔گزشتہ ہفتے جرمنی میں گروپ آف سیون کی سرکردہ معیشتوں کے اجلاس میں خبردار کیا گیا کہ یوکرین کی جنگ عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کا ایک ایسا بحران پیدا کر رہی ہے جو پسماندہ ممالک کو خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ یوکرین میں اناج کے اس ذخیرے سے رکاوٹیں ہٹانے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے جسے روس یوکرین سے باہر جانے سے روک رہا ہے۔جرمنی میں بحیرہ بالٹک کے ساحل پر اپنے تین روزہ اجلاس کے اختتام پر گزشتہ ہفتے  جی سیون ممالک نے چین سے بھی کہا کہ وہ روس کی مدد نہ کرے اور کوئی ایسا اقدام نہ کرے جو روس کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کو غیر مؤثر کرتا ہو یا روس کے یوکرین پر حملے کو جواز فراہم کرتا ہو۔دنیا کے ممالک خوراک کے بحران کے شدید ہونے سے پہلے ہی اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات طے کرنے کی غرض سے اکٹھے ہو رہے ہیں اور یہ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ اس کی ضرورت اپریل میں اس وقت ہی محسوس کر لی گئی تھی جب اقوامِ متحدہ کے ادارے ’فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن ‘( ایف اے او) کے ڈائریکٹر چونو ڈانیو نے رکن ممالک کے ایک اجلاس سے خطاب میں خبردار کیا تھا کہ یو کرین کی جنگ کے دنیا میں خوراک کی سلامتی پر شدید اثرات ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK