Updated: October 04, 2026, 3:59 PM IST
| New York
جنگوں، تنازعات اور بے گھری کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں پناہ گزین بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ امدادی فنڈز میں کمی نے ان کے مستقبل کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً ۵۸ لاکھ پناہ گزین بچے اسکول نہیں جا سکے، جب کہ تعلیمی امداد میں کمی سے یہ بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ نے جمعے کو بتایا کہ ۲۰۲۵ء میں تقریباً۵۸؍ لاکھ پناہ گزین بچے اسکول نہیں جا سکے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ فنڈز میں کمی سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں اسکول جانے کی عمر کےایک کروڑ۳۱؍ لاکھ پناہ گزین بچوں میں سے۴۴؍ فیصد اسکولوں سے باہر تھے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین برہم صالح نے کہا’’ تعلیم تحفظ کا ذریعہ ہے اور مواقع اور خود انحصاری کی جانب ایک راستہ بھی ہے۔ ‘‘انہوں نے خبردار کیا کہ انسانی اور ترقیاتی سرگرمیوں کی فنڈنگ پر شدید دباؤ کے باعث تعلیم کیلئے مالی معاونت میں کمی کئی دہائیوں کی اجتماعی سرمایہ کاری کو ضائع کرنے اور نوجوانوں کی ایک نسل کے لیے مواقع کے دروازے بند کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، مشرق وسطیٰ میں ۹؍ ہزار امریکی فوجی بھیجے
عراق کے سابق صدر برہم صالح جو خود بھی ماضی میں پناہ گزین رہ چکے ہیں، نے مزید کہا کہ جب وہ اپنی زندگی کے سفر پر نظر ڈالتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم نے مجھے ایسے مواقع فراہم کئےجو بے گھر ہونے کے حالات کے باعث شاید میرے ہاتھ سے نکل جاتے۔ انہوں نے زور دیا کہ بے گھری کو کسی بچے کی زندگی کی حدود یا اس کے مستقبل کے امکانات کا تعین نہیں کرنا چاہئے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق۲۰۲۵ء میں پرائمری اسکول کی عمر کے ۶۵؍ فیصد پناہ گزین بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے، تاہم، سیکنڈری اسکول کی سطح پر یہ شرح صرف۳۲؍ فیصد رہی۔ پناہ گزینوں کی اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح۲۰۲۵ء میں ریکارڈ سطح پر پہنچتے ہوئے۱۱؍ فیصد ہو گئی۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ: مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی افواہ، سیکوریٹی حکام نے تردید کی
رواں ہفتے کے آغاز میں یو این ایچ سی آر نے بتایا تھا کہ اسے دستیاب فنڈنگ۲۰۲۴ءمیں ۵؍اعشاریہ۲؍ارب ڈالر سے کم ہو کر۲۰۲۵ء میں ۳؍اعشاریہ۹؍ارب ڈالر رہ گئی، حالانکہ اس کی امداد کے ذمہ دار افراد کی تعداد بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔ یو این ایچ سی آر نے بتایا کہ اسے رواں سال پناہ گزینوں کے تحفظ کیلئے۸؍اعشاریہ۵؍ ارب ڈالر درکار ہیں، تاہم جولائی کے اختتام تک اسے اس رقم کا صرف۳۲؍ فیصد، یعنی۲؍اعشاریہ۷؍ ارب ڈالر موصول ہوا تھا۔ ادارے نے مزید بتایا کہ تقریباً۸۳؍ لاکھ پناہ گزین اور دیگر جبری طور پر بے گھر افراد اس کی جانب سے فراہم کی جانے والی انتہائی ضروری امداد سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ فنڈز میں ’’شدید‘‘ کمی کے باعث تحفظ کی خدمات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔