Updated: March 01, 2026, 4:04 PM IST
| Washington
رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے خفیہ طور پر کر رہے تھے،جس میں امریکی اور اسرائیلی فوجی لیڈروںکے ساتھ قریبی رابطہ کاری کی گئی۔ آپریشن کی منظوری جوہری مذاکرات جاری ہونے کے باوجود، حملے شروع ہونے سے کچھ دیر قبل دے دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے خفیہ طور پر کر رہے تھے، جبکہ اسرائیلی کابینہ کے زیادہ تر اراکین کو جمعہ کی صبح ہی حتمی تصدیق ملی، اس سے ایک روز قبل امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وزراء کو آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا، جس کے بعد کابینہ نے محفوظ ریڈ فون لائن کے ذریعے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دی۔دی یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، محدود سیکورٹی کابینہ کے اراکین نے حملے والے دن صبح کے وقت یروشلم کی پہاڑیوں کے قریب ایک بنکر میں ملاقات کی۔ یہ وزراء کئی ہفتوں سے اس آپریشن کے بارے میں جانتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ غیر قانونی جارحانہ جنگ ہے: ظہران ممدانی
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان حملے کی تیاریوں کے سلسلے میں کئی مذاکرات ہوئے۔ زیادہ تر بات چیت کو ظاہر نہیں کیا گیا تاکہ ایران کی جانب سے کوئی غلط اندازہ لگانے سے بچا جا سکے۔نیتن یاہو کی ایک میٹنگ آپریشن پر تبادلہ خیال کے لیے ہوئی جو تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔ اس میٹنگ میں حملے کی فوجی منصوبہ بندی شامل تھی۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق، کوئی پریس بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی میڈیا دستاویز جاری کی گئی، سوائے ایک تصویر کے۔اسی دوران، آئی ڈی ایف (IDF) کے سینئر افسران اور امریکی فوجی عہدیداروں کے درمیان ایران پر مشترکہ حملے کے حوالے سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اسرائیل کے چیف آف جنرل اسٹاف، ایال زمیر، اور دیگر افسران امریکی فوجی عہدیداروں سے ملنے امریکہ گئے، جن میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل کین بھی شامل تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر جنرل بریڈ کوپر بھی کئی بار اسرائیل آئے۔دی یروشلم پوسٹ کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعاون کی سطح اتنی قریبی تھی کہ مشترکہ فوجی مہم کا طریقہ کار خاص طور پر اس مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی شہروں پر خوفناک حملے، تہران کی غیر معمولی جوابی یلغار
بعد ازاں رائٹرز نے پہلے بتایا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل مہینوں سے ان حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ایران پر حملے کی تاریخ واشنگٹن اور تل ابیب نے ہفتوں پہلے طے کر لی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے باوجود ان حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دو ہفتے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی افواج اگلےہفتے کے آخر تک ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں۔ حالیہ حملے بھی ہفتے کے آخر میں کیے گئے، تاہم پہلے کی متوقع تاریخ سے ایک ہفتہ بعد۔