ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اتوار کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کے شہر بیت شیمش کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرہلاکتوں کی خبر ہے۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 10:18 PM IST | Tel Aviv
ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اتوار کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کے شہر بیت شیمش کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرہلاکتوں کی خبر ہے۔
ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اتوار کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کے شہر بیت شیمش کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرہلاکتوں کی خبر ہے۔ اسرائیلی حکام نے اسے حالیہ تصادم کا اب تک کا شدیدترین واقعہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ غیر قانونی جارحانہ جنگ ہے: ظہران ممدانی
اسرائیلی ایمرجنسی سروسیز کے مطابق، یروشلم کے قریب واقع شہر بیت شیمش میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت پر ایرانی بیلسٹک میزائل براہِ راست آ گرا۔ اس حملے میں اب تک۹؍ افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ کم از کم ۲۷؍ افراد اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دریں اثناءاسرائیلی فوج کے سرچ اینڈ ریسکیو دستے اور ہیلی کاپٹر جائے وقوع پر زخمیوں کو ملبےسے نکالنے میں مصروف ہیں۔اسرائیلی پولیس کے بیان کے مطابق، میزائل لگنے سے عمارت کا ایک بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا ہے۔ جائے وقوع سے جاری ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: خامنہ ای کی شہادت کے بعد عبوری نظام قائم، علی رضا اعرافی کا تقرر
بعد ازاں ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔یہ حملہ ہفتے کی صبح سے شروع ہونے والے اس سلسلے کا حصہ ہے جس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا جواب دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیت شیمش جیسے گنجان آباد علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اسرائیل کے لیے ایک بڑا صدمہ ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں جاری جنگ کے مزید بھیانک رخ اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔اسرائیلی شہری علاقوں میں بیلسٹک میزائل کے براہِ راست گرنے پر نام نہاد دفاعی نظام کی تاثیر پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے اور بنکروں کے قریب قیام کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے کیونکہ مزید حملوں کا خطرہ ہنوز برقرار ہے۔