چین اور روس نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور واشنگٹن سے کسی بھی مزید فوجی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: January 06, 2026, 4:13 PM IST | New York
چین اور روس نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور واشنگٹن سے کسی بھی مزید فوجی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
پیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں متعدد رکن ممالک نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی سرکاری رہائش گاہ سے اغوا کر لینے پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان ممالک میں واشنگٹن کے قریبی اتحادی بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی افواج نے گزشتہ ہفتے کراکس میں ایک فوجی آپریشن انجام دے کر مادورو کو گرفتار کرلیا اور مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے کیلئے انہیں امریکہ منتقل کردیا ہے۔ اس اقدام کے بعد لاطینی امریکہ، یورپ اور دیگر خطوں میں وسیع پیمانے پر امریکہ کی مذمت کی جارہی ہے۔ کئی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ یہ آپریشن بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور علاقائی استحکام کیلئے خطرہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے کونسل کو بتایا کہ وہ اس چھاپے پر ”شدید فکر مند“ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کی گرفتاری سے وینزویلا اور وسیع تر خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خطرہ ہے۔ غطریس نے سوال کیا کہ آیا یہ آپریشن اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے سفارت کاری کی واپسی اور بین الاقوامی اصولوں کے احترام پر زور دیا۔
اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے مندوب سیموئیل مونکاڈا نے کونسل کو خبردار کیا کہ سربراہِ مملکت کے اغوا کو برداشت کرنا اس بات کا اشارہ ہوگا کہ ”قانون اختیاری ہے اور طاقت ہی بین الاقوامی نظم کا حقیقی منصف ہے۔“ برازیل کے سفیر سرجیو فرانکا ڈینیس نے وینزویلا کی سرزمین پر بمباری اور مادورو کی گرفتاری کو ”ناقابلِ قبول حد“ پار کرنے اور ریاستوں کے مابین تعلقات کیلئے ”خطرناک مثال“ قائم کرنے سے تعبیر کیا۔ فرانس نے بھی ان خدشات کی تائید کی۔ فرانسیسی نائب سفیر نے متنبہ کیا کہ یہ کارروائی ’بین الاقوامی نظم کی بنیادوں کو کھوکھلا‘ کر رہی ہے۔ چین اور روس نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور واشنگٹن سے کسی بھی مزید فوجی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ کولمبیا اور میکسیکو نے کہا کہ یہ چھاپہ خطے میں امریکی مداخلت کی تاریخ کی یاد دلاتا ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا میں سرمایہ کاری کی ہدایت
آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ ”یہ وینزویلا کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔“ انہوں نے اس چھاپے کو ایک ایسی قانونی کارروائی قرار دیا جس کا مقصد ایک ’غیر قانونی‘ لیڈر کے خلاف طویل عرصے سے زیرِ التوا فردِ جرم پر عمل درآمد کرنا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کا وینزویلا پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔