تیل صنعت کو قومیانے کے سابق صدر ہیوگو شاویز کے فیصلے سےجن کمپنیوں کو اپنا کاروبار بند کرنا پڑا تھا ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں پھر وینزویلا میںسرگرم ہونے کی پیشکش کی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے وینرویلا پر حملہ کرکے عالمی سطح پر ایک بحرانی کیفیت پیدا کردی ہے۔ تصویر: آئی این این
وینزویلا پر حملے اور صدر مادوروکو اغوا کرنے سےقبل ہی وہائٹ ہاؤس اور امریکی وزار ت خارجہ ملک کی بڑی تیل کمپنیوں کو وینزویلا میں سرمایہ کاری کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دے دی تھی۔ مذکورہکمپنیوں کے ایگزیکٹوزسے کہا گیاہے کہ اگر وہ ۲؍ دہائی قبل وینزویلا کی جانب سے ضبط کئے گئےاپنےاثاثہ جات کا معاوضہ چاہتے ہیں تو انہیں تیزی سے وینزویلا واپس جانا ہوگا اور تباہ حال تیل کی صنعت کو بحال کرنے کیلئے ملک میں بھاری سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ نے اطلاع مذکورہ بات چیت سے واقف ۲؍ افراد کے حوالے سے ان کا نام ظاہر کئے بغیر دی ہے۔
یاد رہے کہ۲۰۰۰ءکی دہائی میں اُس وقت کے صدر ہیوگو شاویز نے وینزویلا کی تیل صنعت کو قومیاتے ہوئے متعدد بین الاقوامی تیل کمپنیوں کے اثاثے ضبط کر لئے تھے اور انہیں ایک خطیر رقم بطور معاوضہ دے کر ملک سے رخصت کردیاتھا۔ مذکورہ کمپنیوں نے سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کو زیادہ عملی کنٹرول دینے کے شاویز کے مطالبے کو ٹھکرادیاتھا جس کے بعد انہیں اس کارروائی کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ امریکی تیل کمپنی شیورون بھی ان کمپنیوں میں شامل تھی جنہوں نے ملک میں رہنے اور پی ڈی وی ایس اے کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بنانے کیلئے مذاکرات کیے، جبکہ ایکسن موبیل اور کونوکو فلپس جیسی کمپنیاں ملک چھوڑ کرچلی گئیں اور ثالثی کیلئے مقدمہ دائر کردیاتھا۔
مذکورہ میٹنگ کے ہی پس منظر میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچر کو دعویٰ کیا کہ امریکی کمپنیاں وینزویلا واپس جانے اور مشکلات کا شکار تیل کے شعبے کو دوبارہ فعال کرنے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کرنے کوتیار ہیں۔ان کا یہ بیان وینزویلا میں گھس کر صدر نکولس مادورو کی امریکی افواج کے ذریعہ پکڑے جانے کے چند ہی گھنٹے بعد سامنے آیا تھا ۔ اتوار کو ٹرمپ نے اپنے ایک اور بیان میں واضح کردیا ہے کہ وہ واشنگٹن سے وینزویلا کو کنٹرول کرنے اور اس کی تیل کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سمجھا جارہاہے کہ امریکی انتظامیہ نے تیل کمپنیوں کے ذمہ داران کے ساتھ بات چیت میں واضح کردیاتھا کہ مادورو کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل کی صنعت کی تعمیر نو کیلئےسرمایہ خود فراہم کرنا ہوگا۔ یہ ان شرائط میں سے ایک ہوگی جن کے تحت وہ بالآخر وینزویلا میں اپنے کاروبار کے ضبط کئے جانے کے نتیجے میں وہاں واجب الادا رقوم کی وصولی کر سکیں گی۔ یاد رہے کہ کونوکو فلپس برسوں سے شاویز دور کی قومی تحویل میں لئے جانے کے نتیجے میں اپنے وینزویلا کے اثاثوں کے بدلے تقریباً۱۲؍ارب ڈالر کی وصولی کی کوشش کر رہی ہے۔ ایکسن موبل نے بھی بین الاقوامی فورم میں مقدمہ دائر کررکھا ہے۔ وہ ۶۵ء۱؍ ارب ڈالر کی وصولی کی کوشش کررہی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ جب پابندیوں کے شکار وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کی ناکہ بندی کا حکم دیا تبھی انہوں نے عوامی طور پر وینزویلا میں امریکی تیل کمپنیوں کے اثاثے ضبط کئے جانے کا حوالہ دینا شروع کردیاتھا۔
شیئر مارکیٹ میں تیل کمپنیوں کو فائدہ
وینزویلا میں تیزی سےآنےوالی تبدیلی اور وہاں کی تیل صنعت کی توسیع نیزتیل سپلائی میں اضافہ کی امیدوں کا اثر پیر ہندوستانی شیئر مارکیٹ پر بھی نظر آیا۔ یہاں ریلائنس انڈسٹریز اور آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) کے شیئر کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ وینزویلا کے تیل کے شعبے سے جڑی تازہ جغرافیائی اور سیاسی پیش رفت کے تناظر میں سرمایہ کاروں کی توجہ توانائی کے شیئرز پر مرکوز رہی۔
ریلائنس انڈسٹریز کے حصص ابتدائی کاروبار میں ایک فیصد سے زیادہ بڑھے اورایک ہزار ۶۰۰؍ روپے سے اوپر جا کر ۵۲؍ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ۔ مسلسل چوتھے سیشن میں خریداری کے رجحان کے باعث کمپنی کا مارکیٹ اثاثہ تقریباً۲۲؍ لاکھ کروڑ روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
او این جی سی کے حصص میں بھی پیر کو تیزی رہی، جو ابتدائی کاروبار میں تقریباً۲؍ فیصد بڑھے اور نِفٹی-۵۰؍ انڈیکس میں سرفہرست فائدہ اٹھانے والوں میں شامل رہے۔ مجموعی طور پر آئل اینڈ گیس کے شیئرس نےمارکیٹ میں شعبہ جاتی کارکردگی کی قیادت کی۔ سرمایہ کار تجزیہ نگاروں کی ان رپورٹس پر حرکت میں آئے کہ اگر وینزویلا میں پیش رفت کے نتیجے میں پابندیاں نرم ہوتی ہیں اور خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہوتی ہے تو ہندوستانی توانائی کمپنیاں ممکنہ طور پر فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اس پس منظر میں آئل انڈیا اور انڈین آئل کارپوریشن جیسے توانائی کے دیگر شیئرس میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔