Updated: August 25, 2026, 8:02 PM IST
| New York
اقوام متحدہ نے منگل کو حکومتوں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ زمین کی بحالی اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت کو معاشی ترجیحات میں شامل کریں۔ عالمی ادارے نے کہا کہ اقدامات نہ کرنے کی لاگت، زمین اور لوگوں کے ذریعہ معاش کے تحفظ کے لیے درکار سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ۔ تصویر:آئی این این
اقوام متحدہ نے منگل کو حکومتوں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ زمین کی بحالی اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت کو معاشی ترجیحات میں شامل کریں۔ عالمی ادارے نے کہا کہ اقدامات نہ کرنے کی لاگت، زمین اور لوگوں کے ذریعہ معاش کے تحفظ کے لیے درکار سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ ہے۔
منگولیا میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرائی زوال (یو این سی سی ڈی) کی سی او پی۱۷؍کے موقع پر جدید مالیاتی طریقہ کار سے متعلق وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل امینہ جے محمد نے کہا کہ زمین کا انحطاط اب بنیادی طور پر ماحولیاتی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ’’زرخیز زمین ماحولیاتی آسائش نہیں بلکہ پیداواری سرمایہ ہے۔ خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت کسی ایک شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پائیدار اور جامع معاشی ترقی ہے۔ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق زمین کی بحالی کے لیے سالانہ تقریباً ۳۵۵؍ ارب ڈالر درکار ہیں، لیکن موجودہ سرمایہ کاری کے رجحان کے مطابق یہ رقم صرف تقریباً ۷۷؍ ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے تقریباً ۲۷۸؍ارب ڈالر کا خلا باقی رہ جائے گا۔دوسری جانب، اقدامات نہ کرنے کی سالانہ لاگت کم از کم ۸۷۸؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جبکہ زمین کی بحالی میں سرمایہ کاری سے سالانہ تقریباً ۸ء۱؍ ٹریلین ڈالر کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ نائب سیکریٹری جنرل نے یہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری پر اندازاً ۷؍ سے۳۰؍ ڈالر تک معاشی منافع حاصل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاید ہم غلط سوال پوچھ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کیا ہم پائیدار زمین کے استعمال کے لیے مالی اعانت برداشت کر سکتے ہیں؟ بلکہ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ `معیشتیں مزید کتنے عرصے تک اس کے متحمل ہو سکتی ہیں کہ وہ ایسا نہ کریں؟
یہ بھی پڑھئے:روی چندرن اشون، اجنکیا رہانے سمیت کئی بڑے ستارے ایکشن میں نظر آئیں گے
نائب سیکریٹری جنرل نے ممالک پر زور دیا کہ وہ زمین کے تحفظ اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت کو اپنی قومی ترقیاتی حکمت عملیوں، مالیاتی فریم ورک، سرکاری سرمایہ کاری کے منصوبوں اور خودمختار مالیاتی حکمت عملیوں کا حصہ بنائیں۔انہوں نے وزارتِ خزانہ پر زور دیا کہ وہ قدرتی سرمائے کی قدر اور اس کے انحطاط سے پیدا ہونے والے مالی خطرات کا جائزہ لیں، جبکہ ایسی سبسڈیز میں اصلاحات کی جائیں جو زمین کے انحطاط، پانی کے غیر مؤثر استعمال اور غیر پائیدار زراعت کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتیں ان وسائل کا رخ ایسے کسانوں، مویشی پالنے والوں، چرواہوں اور کاروباری اداروں کی جانب موڑ سکتی ہیں جو پائیدار پیداوار میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی ٹیکس، ماحولیاتی نظام کی خدمات کے عوض ادائیگی اور گرین، پائیداری سے منسلک اور لچکدار بانڈز کے ذریعے سرمایہ کاری کے رجحانات کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی عہدیدار نے کہا کہ اصل چیلنج صرف نئی رقم تلاش کرنا نہیں بلکہ موجودہ مالیاتی بہاؤ کو مختلف انداز میں استعمال کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ منصوبے بہت چھوٹے ہیں، خطرات بہت زیادہ سمجھے جاتے ہیں، مدتِ ملکیت بہت مختصر ہے، کرنسی کا خطرہ بہت زیادہ ہے اور ماحولیاتی نظام کی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذرائع اب بھی غیر یقینی ہیں۔
انہوں نے زمین کی بحالی میں نجی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے مخلوط مالی اعانت، ضمانتوں، ابتدائی نقصانات برداشت کرنے والے مالیاتی ذرائع، پورٹ فولیو میکانزم اور خشک سالی و پیرامیٹرک انشورنس کے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ نائب سیکریٹری جنرل نے کثیر الجہتی ترقیاتی بینکوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ نجی سرمایہ متحرک کرنے کے لیے زیادہ خطرات مول لیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’راز‘‘ کے بعد بالی ووڈ چھوڑنے والی مالینی شرما فارمنگ میں مصروف ہیں
انہوں نے سوال کیاکہ ’’اگر زمین کا انحطاط خودمختار حکومتوں کی مالیاتی صورتحال کے لیے خطرہ ہے تو پھر زمین کی بحالی کے لیے مالی اعانت اب بھی بڑے پیمانے پر منصوبہ بہ منصوبہ اور گرانٹ بہ گرانٹ کیوں منظم کی جاتی ہے؟ انہوں نے مقامی کرنسی میں زیادہ مالی اعانت اور ملکی سطح پر سرمایہ کاری کے پلیٹ فارم قائم کرنے کا مطالبہ کیا، جو حکومتوں، ترقیاتی بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، فلاحی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کو ایک جگہ اکٹھا کر سکیں۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہونا چاہیے کہ رعایتی مالی اعانت نجی سرمائے کے کہیں بڑے ذخیرے کو راغب کرے اور ساتھ ہی ان کسانوں، پیداواری شعبے سے وابستہ افراد اور ان کمیونٹیز تک بھی پہنچے جو زمین کا انتظام کرتی ہیں۔