Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابھجیت دِپکے نے پی ایس ۵ پر فیفا گیم کھیلنے کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی قائم کی

Updated: August 25, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi

دِپکے اس وقت آن لائن نوکری کی تلاش میں تھے اور اپنی شامیں جم میں گزارنے کے بعد فیفا کھیلنے گھر واپس آتے تھے۔ ایک شام گیم کھیلنے کے دوران ان کی نظر ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے کاکروچ والے تبصرے پر پڑی جو انہیں توہین آمیز لگا، جس پر انہوں نے گیم کی طرف واپس جانے سے پہلے ٹویٹ کیا: ”کیا ہوگا اگر سارے کاکروچ ایک ساتھ آ جائیں؟“

Abhijeet Dipke. Photo: X
ابھیجیت دپکے۔ تصویر: ایکس

مرکز کی نریندر مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کے غصے کی آواز بننے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دِپکے نے ایک نیوز چینل کے پروگرام میں انکشاف کیا کہ انہوں نے جب اس تحریک کی بنیاد ڈالی تب وہ بوسٹن میں اپنے پلے اسٹیشن پر فیفا کھیل رہے تھے۔  

دِپکے نے بتایا کہ وہ اس وقت آن لائن نوکری کی تلاش میں تھے اور اپنی شامیں جم میں گزارنے کے بعد فیفا کھیلنے گھر واپس آتے تھے۔ ایک شام گیم کھیلنے کے دوران ان کی نظر ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے کاکروچ والے تبصرے پر پڑی جو انہیں توہین آمیز لگا، جس پر انہوں نے گیم کی طرف واپس جانے سے پہلے ٹویٹ کیا: ”کیا ہوگا اگر سارے کاکروچ ایک ساتھ آ جائیں؟“

یہ بھی پڑھئے: ملک میں تقریباً ۲۵؍ فیصد نوجوان تعلیم، روزگار اور تربیت سے باہر ہیں: نیتی آیوگ کی رپورٹ میں انکشاف

بے روزگاری کے بارے میں اس طنزیہ پوسٹ نے جلد ہی ہزاروں نوجوان ہندوستانیوں کی توجہ حاصل کر لی اور ملازمتوں، امتحانات اور سیاسی مایوسی کے حوالے سے ایک وسیع تر بحث چھیڑ دی۔ دِپکے نے کہا کہ انہیں بوسٹن میں رات ۱۰ یا ۱۱ بجے کے قریب کاکروچ جنتا پارٹی کا نام سوجھا اور انہوں نے پارٹی کے ممبر بننے کی اہلیت کیلئے جان بوجھ کر انتہائی آسان معیارات لکھے: بے روزگار ہونا، ”سست“ ہونا اور ”پیشہ ورانہ انداز میں بھڑاس نکالنے“ کے قابل ہونا۔ انہوں نے بتایا کہ ”یہ الفاظ لوگوں کی تذلیل کیلئے استعمال کئے گئے تھے، مجھے لگتا ہے کہ یہی بات لوگوں کے دل کو لگی۔“

دِپکے کا ابتدائی طور پر اس خیال کو آگے لے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن ملنے والے زبردست ردِعمل نے ان کا ارادہ بدل دیا۔ انہوں نے ویب سائٹ بنانے سے پہلے ہی اے آئی سے تیار کردہ گرافکس کے ساتھ ایک گوگل فارم (Google Form) تیار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ”ایک گھنٹے کے اندر تعداد بڑھنے لگی۔ دو گھنٹوں میں ۵۰۰۰ سے زائد رجسٹریشنز ہو چکے تھے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں صرف ۱۰۰ سے ۲۰۰ اندراجات کی توقع تھی۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی، بہار میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن، آنسو گیس، الیکٹرک شاک والی لاٹھیوں کا استعمال: ایمنسٹی

اگلے اقدامات کے بارے میں اب بھی غیر یقینی کا شکار دپکے سو گئے، لیکن اگلی صبح جاگے تو دیکھا کہ ۱۲ گھنٹوں میں ۵۰ ہزار سے زائد رجسٹریشنز ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا، ”یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے اسے سنجیدگی سے لینے کا فیصلہ کیا۔“ فیفا کے ایک وقفے کے دوران جو چیز مذاق کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اگلی صبح تک ایک ایسی تحریک بن چکی تھی جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK