یوگی راج میں یوپی ملک کی مقروض ترین ریاست بن گئی

Updated: October 21, 2020, 8:48 AM IST | Jeelani Khan Aleeg | Lucknow

گزشتہ ۳؍ برسوں میں قرض میں ۲۷؍ فیصد کا اضافہ ، اتر پردیش پرمجموعی طورپر ۶؍ لاکھ کروڑ سے زائد کا قرض، ریاست کے ہر شہری پر اوسطاً ۳۰؍ ہزار روپے کے قرض کا بوجھ، فی شہری قرض کے لحاظ سے پنجاب سرفہرست، مقروض ریاستوں کی فہرست میں مہاراشٹر دوسرے اورمغربی بنگال تیسرے مقام پر ملک کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ آبادی والی ریاست یوپی یوگی راج میں ملک کی سب سے زیادہ مقروض  ریاست بن گئی ہے۔ گزشتہ ۳؍برسوں میں اترپردیش کے قرض میں ۲۷؍ فیصد کااضافہ ہو ا ہے جو تشویشناک ہے۔

Yogi Adityanath - Pic : INN
یوگی آدتیہ ناتھ ۔ تصویر : آئی این این

ملک کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ  آبادی  والی ریاست  یوپی  یوگی راج میں ملک کی سب سے زیادہ مقروض  ریاست بن گئی ہے۔ گزشتہ ۳؍برسوں میں اترپردیش کے قرض میں ۲۷؍ فیصد کااضافہ ہو ا ہے جو تشویشناک ہے۔  یعنی بی جے پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد سےاس  صوبہ پر قرض کا بوجھ کافی تیزی سے بڑھا ہے۔نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج یہاں کا ہر ایک شہری ۳۰؍ہزار سے بھی زائد کا مقروض ہے۔حالانکہ، ریاست کے شہریوں کےلئے سکون کی بات یہ ہے کہ دیگر کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں فی کس قرض ان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ پنجاب اس معاملے میں سرفہرست ہے جس کے قرض کا اوسط فی شہری  ۸۲؍ہزار روپے ہے۔
 ریزرو بینک کی رپورٹ سے انکشاف
 ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مردل کے ساگر کی سربراہی وا لی کمیٹی کی حالیہ رپورٹ سے کئی چونکادینے والےا نکشافات ہوئے ہیں۔اس کمیٹی نے ’ریاستوں کے معاشی نظام اور آبادی‘ کا جائزہ لیتے ہوئے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش پر رواں مالی سال میں قرض بڑھ کر ۶ء۰۲؍لاکھ کروڑ ہوچکا ہے ۔اس معاملے میں یہ ملک کی  تمام ریاستوں سے آگے ہے۔ دوسرے نمبر پر مہاراشٹرا  ہے جس پر کل قرض ۵ء۰۲؍لاکھ کروڑ  روپے ہے۔ مغربی بنگال ۴ء۳۷؍لاکھ کروڑ کے ساتھ تیسرے نمبر پر اور تمل ناڈو ۴ء۰۴؍لاکھ کروڑ کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ پانچویں  مقام پر  راجستھان ہے جسے ۳ء۴۳؍ لاکھ کروڑ کا قرضہ چکانا ہےجبکہ مودی کے صوبہ گجرات پر بھی ۳ء۲۵؍لاکھ کروڑکا قرض ہے اور وہ ملک میں چھٹے نمبر پر ہے۔
اگر ان ریاستوں کی آبادی اور قرض کا مشترکہ جائزہ لیا جائے تو ۲۰۱۱ءکی مردم شماری کو بنیاد بنانا ہوگا، کیونکہ تاحال ملک کی یہی آخری مردم شماری ہے۔اس کے مطابق، ۲۰۱۱ءمیں یوپی کی کل آبادی ۱۹ء۹۸؍کروڑ تھی۔اس حساب سے فی شہری قرض ۳۰۱۳۶؍ روپے ہے۔یعنی یوپی کا ہر شہری حکومت کی عنایتوں کے سبب ۳۰؍ہزار سے بھی زائد کا مقروض ہوچکا ہے۔
دیگر ریاستوں کی حالت بھی اچھی نہیں 
 تاہم، اس معاملے میں یوپی سے زیادہ ترقی یافتہ مانی جانے والی کئی دیگر ریاستوں کا حال اور بھی برا ہے۔پنجاب میں فی کس قرض ۸۲؍ہزار  روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ اس کا پڑوسی صوبہ ہریانہ بھی ۸۱۲۸۷؍ روپے فی شہری قرض کا بوجھ اٹھارہا ہے۔ کیرالا کا حال بھی کچھ بہتر نہیں۔ وہاں کا ہر شہری ۷۹۷۷۱؍ روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔یوپی کی پڑوسی ریاست اترا کھنڈکا حال بھی کم برا نہیں۔اس کا ہر ایک شہری ۶۴۱۳۶؍ روپے کا قرضدار ہے تاہم دیگر پڑوسی ریاستوں میں بہار پر ۱ء۸۵؍لاکھ کروڑ  روپے کاقرض ہے اور اس کا ہر شہری ۱۷۸۳۰؍ روپے کا مقروض ہے۔ جھارکھنڈ ایک ایسا صوبہ ہے جو کافی غریب مانا جاتا ہے مگراس پر بھی ۰ء۹۱؍لاکھ کروڑ کا قرض ہے اوراس کے ہرشہری  پر ۲۷۶۷۰؍ روپے کا قرض چڑھ چکا ہے۔
 یوپی  کے قرض میں ۳؍ برسوں میں اضافہ
 اگر یوپی پر بڑھ رہے قرض کا جائزہ لیں تو ۲۰۱۷ءمیں یہ ۴ء۷۳؍لاکھ کروڑ کی مقروض تھی جو اگلے سال بڑھ کر ۵ء۱۷؍لاکھ کروڑ پہنچ گیا۔اسی طرح، ۲۰۱۹ءمیں یہ قرض بڑھ کر۵ء۶۳؍لاکھ کروڑ ہوگیا جبکہ ۲۰۱۹ءمیں یہ ۶ء۰۲؍لاکھ کروڑ پہنچ چکا ہے۔اسی طرح، گزشتہ چند برسوں میں یوپی کے شہریوں پر بڑھ رہے قرض کے بوجھ پر نظر ڈالیں تو یہ پائیں گے کہ ۲۰۱۷ءمیں یوپی کا ہر ایک باشندہ ۲۳۶۸۹ء روپے کا قرضدار تھا مگر ۲۰۱۸ءمیں یہ بڑھ کر ۲۵؍ہزار پار ہوچکا تھا۔ اسی طرح، ۲۰۱۹ءمیں ان پر فی کس قرض کی رقم ۲۸۱۸۲؍ روپے پہنچ چکی تھی جو اگلے برس یعنی ۲۰۱۹ء میں مزید اضافہ کے ساتھ ۳۰۱۳۶؍ہزار تک پہنچ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK