امریکہ یورپی ممالک سےحزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کرتا رہے گا

Updated: September 15, 2020, 8:28 AM IST | Agency | Washington

مائیک پومپیو کا اعلان۔ امریکی وزیر خارجہ نے سربیا کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کی ستائش کی، دیگر ممالک سے بھی اسی طرح کے فیصلے پر اصرار

Mike Pompeo - Pic : INN
مائیک پومپیو ۔ تصویر : آئی این این

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو  کا کہنا ہے کہ امریکہ  ، یورپی یونین اور یورپی ممالک سے حزب اللہ کو ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دینےیا اس پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر  اتوار کو شائع ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ’’ امریکہ حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اسے بلیک لسٹ کرنے کے سربیا کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ دوسرے ملکوں کو بھی چاہیے کہ وہ سربیا کے فیصلے کی پیروی کریں۔ ‘‘
 انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق سربیا کا اعلان قابل تقلید ہے۔ اس اقدام سے ایرانی حمایت  یافتہ جنگجو  تنظیم کی   یورپ میں کام کرنے کی صلاحیت کو کم کردے گا۔انہوں نے وضاحت کی کہ حزب اللہ دہشت گردانہ حملوں ،فوجی ٹیکنالوجی کی خریداری ، اور یورپ میں فنڈ جمع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔امریکی وزیر خارجہ  نے زور دے کر کہاکہ امریکہ یورپی یونین اور یورپی ممالک سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا رہتا ہے کہ حزب اللہ مجموعی طور پر ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ اس کے فوجی اور سیاسی ونگ کے مابین کوئی فرق نہیں ہے۔
 امریکی محکمہ خارجہ نے تمام ممالک سے حزب اللہ کو اپنی سرگرمیاںبند کرنے  اور لبنان اور بیرون ملک  اپنے ایجنٹوں اور مددگاروں کو روکنے کےلئے ضروری اقدامات کرنے کی تلقین کی ہے۔ گزشتہ ہفتے واشنگٹن نے لبنان کے دو سابق وزراء کے خلاف حزب اللہ کی حمایت کرنے اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزام میںپابندیوں کا اعلان کیا تھا۔امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پابندیوں کے باوجود  حزب اللہ کو مدد فراہم کرنے اور بدعنوانی میں ملوث ہونے پر سابق لبنانی حکومت کے دو وزراء یوسف فینیانوس اور علی حسن خلیل کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔
  واضح رہے کہ حزب اللہ لبنان کی ایک مسلح تنظیم ہے جو کہ وہاں کی حکومت میں بھی شامل تھی۔ مبینہ طور پر حزب اللہ کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ مسلسل حزب اللہ پر قدغن لگانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔  حالانکہ حزب اللہ کو لبنان میں عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔   یہی وجہ ہے کہ  وہ لبنانی حکومت میں بھی شامل تھی  جسے بیروت دھماکے کے بعد استعفیٰ  دینا پڑا تھا۔   حسن نصراللہ کی قیادت والی یہ وہی  حزب اللہ ہے جس نے ۲۰۰۶ء میں  اسرائیلی  حملوں کا منہ  توڑ جواب دیا تھا  اور  اسے پسپا ہونے پر مجبور کیا تھا۔  تب سے اسرائیل  اور امریکہ کا کا اس بات پر زور  ہے کہ اس تنظیم پر کسی طرح پابندی عائد کی جائے۔ ویسے جرمنی اور کچھ دیگر ممالک  پہلے ہی حزب اللہ کو دہشت گرد قرار  دے چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK