ؕایران نے ہرمز میں ۱۰؍ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ، اردن پر بھی حملے ، سعودی عرب نے سخت ا لفاظ میں مذمت کی۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 12:40 PM IST
ؕایران نے ہرمز میں ۱۰؍ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ، اردن پر بھی حملے ، سعودی عرب نے سخت ا لفاظ میں مذمت کی۔
جنگ بندی کے معاہدے اور امریکہ ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی ساری کوششوںکی ناکامی کے سبب اب مشرقی وسطیٰ کے حالات دھماکہ خیز ہوچکے ہیں۔بدھ کوایک مرتبہ پھر امریکہ اورایران کی جانب سے ایک دوسرے کے جہازوں اور فوجی تنصیبات پر میزائل حملے کئے گئے ۔ایرانی پاسداران انقلاب نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ۱۰؍بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ پاسداران انقلاب کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز کے ایک ایسے علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے ’ممنوع اور غیر محفوظ‘ قرار دیا گیا تھا۔یہ کارروائی امریکی حملے میں ۵؍ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد کی گئی۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا کہ خلیج میں ۲؍امریکی بحری جہازوں اور ۸؍تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم امریکہ نے اس دعوے کی تاحال تصدیق نہیں کی۔ اس سے قبل امریکی فوج نے منگل کی شام کو اعلان کیا تھا کہ اس نے ۸؍ستمبر کو ۵؍ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو تباہ کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے بیان کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایرانی پاسداران انقلاب نے گزشتہ ۲؍روز کے دوران ۲؍مرتبہ امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی فوج نے خلیج عمان میں ’کافیز‘، ’شارمینار‘، ’ہورائزن وَن‘ اور ’ریسکو‘ نامی ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو تباہ کیا۔ امریکی فوج نے انکشاف کیا کہ نشانہ بنائے گئے ایرانی تیل بردار ٹینکر پاسداران انقلاب کی خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ امریکی فوج نے زور دے کر کہا کہ ایران کے پاس اپنے تیل بردار ٹینکروں کے دفاع کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ سینٹکام نے مزید تصدیق کی کہ امریکی جنگی جہاز ایرانی حملوں سے بچنے میں کامیاب رہا اور علاقائی سمندری حدود میں اپنی گشت جاری رکھی۔ کمانڈ کے مطابق امریکی افواج کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
اس دوران ایرانی خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ اور ’فارس‘ نے منگل کی شام جنوبی ایران کے ۲؍ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی جبکہ امریکی عہدیدار نے خارک اور جاسک کے قریب ایرانی تیل بردار ٹینکروں پر حملوں کی تصدیق کی۔ امریکہ اور ایران نے اپریل اور جون میں ۲؍مرتبہ جنگ بندی کے معاہدوں کا اعلان کیا تھاجن کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنا اور تقریباً ۶؍ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت کرنا تھا تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے۔ جنگ بندی کے معاہدے کے خاتمے کے بعد امریکہ نے ۱۳؍جولائی کو ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ دوبارہ نافذ کردیا اور ایرانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردیں۔ اس اقدام کا مقصد تہران کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم کرنا تھا جو ملک کے لیے زرمبادلہ کا بنیادی ذریعہ ہے۔
اردن کی سرزمین پر ۲۰؍ بیلسٹک میزائل سے حملے
اردن کی فوج نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ اردن کو ایرانی سرزمین سے داغے گئے میزائلوں کے ذریعے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق فوج نے حملے کے دوران۲۰؍ بیلسٹک میزائلوں سے نمٹا۔اردن کی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ۱۸؍ میزائلوں کو تباہ کر دیاجبکہ۲؍ میزائل رہائشی آبادیوں سے دور خالی علاقوں میں گرے۔ فوج کے مطابق حملے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اردنی فوج نے مزید کہا کہ اس نے منظور شدہ آپریشنل طریقہ کار کے مطابق اس خطرے سے نمٹا تاکہ اردن کی فضائی حدود اور شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ خطرے کی نگرانی صورتِ حال کا جائزہ اور اس کے اثرات کا تجزیہ بدستور جاری ہے۔متعلقہ ٹیموں نے میزائلوں کے ٹکڑے اور گرنے والے دیگر ملبے کے مقامات پر کارروائی شروع کر دی، انہیں محفوظ بنایا اور اردگرد کے علاقوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔اردنی فوج نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی نامعلوم شے، میزائل کے ٹکڑے یا گرے ہوئے ملبے کے قریب نہ جائیں۔ سعودی عرب نے اردن پرایرانی حملوں وحشیانہ اور بلا جواز قراردیا ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ایرانی حملے بین الاقوامی قانون اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی‘‘ ہیں۔
حوثیوں کا ریاض پر حملہ، سعودی عرب کی جوابی کارروائی
یمن کے باغی گروپ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے بدھ کے روز یمن کے مختلف علاقوں پر۳۰؍ سے زائد فضائی حملے کیے۔ یہ حملےحوثیوں کی جانب سے ریاض پر حملے کے بعد کئے گئے ۔ حوثیوں کے حملے میںدرجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں ۔حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی نے کہا ’’دشمن کے طیاروں نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ماریب، الجوف، تعز اور حدیدہ گورنریٹس کے مختلف علاقوں پر۳۲؍ فضائی حملے کئے۔سعودی عرب نے ان حملوں پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ سعودی حکام نے منگل کو بتایا تھا کہ حوثیوں کے حملوں کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات پر عارضی طور پر کام روکنا پڑا ۔