• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکام نے گراؤنڈ زیرو کی زہریلی ہوا کے بارے میں جھوٹ بولا: ممدانی؛ ثبوت کےطور پر ۱۷۰۰۰۰ صفحات جاری کئے

Updated: September 09, 2026, 9:04 PM IST | New York

ممدانی کے ذریعے جاری کردہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد حکام نے گراؤنڈ زیرو کے ارد گرد ہوا کے معیار اور حفاظت کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا۔ ان کا یہ اقدام حملوں کی ۲۵ ویں برسی سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔ سٹی ہال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ ”لوگ اس لئے بیمار ہوئے کیونکہ ان لیڈران نے، جن پر وہ بھروسہ کرتے تھے، جھوٹ بولا اور انہیں بتایا کہ وہ زہریلی ہوا میں سانس لینے کیلئے محفوظ ہیں۔“

Zohran Mamdani. Photo: INN
ظہران ممدانی۔ تصویر: آئی این این

نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے منگل کے روز ایک لاکھ ۷۰ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل اندرونی ریکارڈ جاری کیا، جس میں انکشاف ہوا کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد حکام نے گراؤنڈ زیرو کے ارد گرد ہوا کے معیار اور حفاظت کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا۔ ان کا یہ اقدام حملوں کی ۲۵ ویں برسی سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔ سٹی ہال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ ”لوگ اس لئے بیمار ہوئے کیونکہ ان لیڈران نے، جن پر وہ بھروسہ کرتے تھے، جھوٹ بولا اور انہیں بتایا کہ وہ زہریلی ہوا میں سانس لینے کیلئے محفوظ ہیں۔“

کامیڈین اور فرسٹ ریسپونڈرز (ہنگامی امدادی کارکنوں) کے حامی جان اسٹیورٹ بھی اس پریس کانفرنس میں ممدانی کے ہمراہ شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حملوں کے بعد مہینوں تک زہر نے ہوا، زمین اور آس پاس کی عمارتوں کو آلودہ کئے رکھا۔ نئے جاری کردہ ریکارڈز اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ شہر اس وقت اس حقیقت سے آگاہ تھا۔

یہ بھی پڑھئے: حماس کے ۷؍ اکتوبر ۲۳ء حملے سے ۱۰؍ دن قبل یو اے ای نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا: رپورٹ

اعلان سے قبل دی نیویارک ٹائمز کے زیرِ جائزہ آنے والی دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ ۱۱ ستمبر کے بعد کے دنوں میں لوئر مین ہیٹن کی دھول کے نمونوں میں ایسبیسٹس کی مقدار خطرناک حد سے تجاوز کر گئی تھی۔ ساتھ ہی، ۲۰۱۱ء کے ایک آڈٹ میں پایا گیا کہ برسوں بعد بھی ٹاورز کے کھنڈرات کے قریب بینزین کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا، جس کے ساتھ ساتھ فریش کِلز لینڈ فل پر بھی ایسبیسٹس کی آلودگی بڑھ رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، یہ ریکارڈ گزشتہ سال دریافت ہونے سے قبل ایک سرکاری دفتر میں ۶۸ ڈبوں میں چھپا کر رکھے گئے تھے۔

ان دستاویزات کا اجرا ’۹/۱۱ ہیلتھ واچ‘ نامی تنظیم کی جانب سے دائر کردہ ایک مقدمے کو حل کرتا ہے۔ یہ نتائج ۱۱ ستمبر سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کی جانب سے نئے قانونی دعووں کو بھی ہوا دے سکتے ہیں اور وفاقی ’۱۱ ستمبر وکٹم کمپنسیشن فنڈ‘ کے ذریعے معاوضے کے مقدمات کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سیگریٹ کا سیکنڈ ہینڈ دھواں ۲۰۲۳ء میں دنیا بھر میں۱۷؍ لاکھ اموات کا سبب: مطالعہ

ممدانی نے اپنی انتظامیہ کے طریقہ کار کا موازنہ اپنے پیشروؤں سے کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی ماضی کی قیادت نے اس معاملے پر شفافیت کے مطالبات کو بار بار نظر انداز کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حملوں میں براہِ راست ہلاک ہونے والے افراد کے مقابلے ۱۱ ستمبر سے جڑی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ شہر کا تحقیقاتی محکمہ (ڈپارٹمنٹ آف انویسٹی گیشنز) اب اس بات کی جانچ کر رہا ہے کہ حکام ہوا کے معیار کے خطرات سے متعلق کیا جانتے تھے، انہیں اس کا علم کب ہوا اور یہ معلومات عوام سے کیوں چھپائی گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK