ہاریٹز کی کتاب پر مبنی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محمد بن زاید نے ۴۵؍ منٹ کی فون کال میں یحییٰ سنوار کے بڑے آپریشن کی اطلاع دی تھی، نیتن یاہو کے دفتر نے رپورٹ کو ’مکمل جھوٹ‘ قرار دے کر تردید کی۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 7:00 PM IST | Tel Aviv
ہاریٹز کی کتاب پر مبنی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محمد بن زاید نے ۴۵؍ منٹ کی فون کال میں یحییٰ سنوار کے بڑے آپریشن کی اطلاع دی تھی، نیتن یاہو کے دفتر نے رپورٹ کو ’مکمل جھوٹ‘ قرار دے کر تردید کی۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حماس حملے سے تقریباً ۱۰؍ دن قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو براہِ راست فون کرکے بڑے حملے کی وارننگ دی تھی، لیکن مبینہ طور پر نیتن یاہو نے نہ تو ملک کے اعلیٰ سیکوریٹی حکام کو اس اطلاع سے آگاہ کیا اور نہ ہی اس بنیاد پر کوئی فوری کارروائی کی۔ یہ انکشاف اسرائیل میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے اور نیتن یاہو کی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ہاریٹز کے صحافی شلومو ایلدار اور روتھ یووال کی نئی کتاب ’’Kidnapped: 843 Days of Abandonment‘‘ میں شامل تحقیق کے مطابق بن زاید نے ستمبر ۲۰۲۳ء کے اواخر میں ابوظہبی سے نیتن یاہو سے تقریباً ۴۵؍ منٹ بات کی۔ اماراتی صدر نے مبینہ طور پر بتایا کہ غزہ میں حماس کے لیڈر یحییٰ سنوار ایک بڑے آپریشن کی تیاری کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوسکتی ہے، خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے اور اسرائیل۔عرب ممالک کے درمیان ابراہیمی معاہدوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل واپس آنے والے شہریوں کی تعداد میں ۵۸؍ فیصد کی کمی: کنیسیٹ کمیٹی
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اس اطلاع پر نسبتاً پرسکون ردعمل ظاہر کیا اور بن زاید کو یقین دلایا کہ اسرائیل کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے مبینہ طور پر یہ امکان ظاہر کیا کہ اگر حماس کوئی کارروائی کرتی ہے تو اس کا مرکز غزہ کے بجائے مقبوضہ مغربی کنارہ ہوسکتا ہے۔ ہاریٹز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس گفتگو کی اطلاع بعد میں ۳؍ اعلیٰ سطحی غیر ملکی حکام کو بھی دی گئی تھی۔ تحقیق میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی سیکوریٹی اداروں کے سربراہان کو اس مبینہ وارننگ سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس وقت کے شن بیت سربراہ رونین بار اور سابق اسرائیلی فوجی سربراہ ہرزی ہلیوی نے ہاریٹز کو بتایا کہ انہیں بن زاید کی مبینہ وارننگ کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ایک سابق اعلیٰ شن بیت عہدیدار کے مطابق اگر یہ معلومات ادارے کے تجزیے میں شامل ہوتیں تو ’’پورا جائزہ‘‘ مختلف ہوسکتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ہانگ کانگ کے پہلے چیف ایگزیکٹو تنگ چی ہوا ۸۹؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے
رپورٹ میں ۷؍ اکتوبر سے قبل موصول ہونے والی دیگر اطلاعات کا بھی ذکر ہے۔ اس کے مطابق مصر کے اس وقت کے انٹیلی جنس سربراہ عباس کامل کی جانب سے بھی حماس کی غیر معمولی سرگرمی کے بارے میں انتباہ دیا گیا تھا۔ اسی طرح یحییٰ سنوار کی جانب سے ایک فلسطینی ثالث کے ذریعے ’’بڑے سرپرائز‘‘ اور ’’زلزلے‘‘ جیسے الفاظ پر مشتمل پیغام بھی پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ شن بیت کے اس وقت کے سربراہ رونین بار نے اس پیغام کے بعد نیتن یاہو کو بریف کیا تھا۔نیتن یاہو کے دفتر نے تاہم ان تمام دعوؤں میں سے خاص طور پر اماراتی صدر کی براہِ راست وارننگ کی سختی سے تردید کی ہے۔ دفتر نے رپورٹ کو ’’مکمل جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے متعلقہ عرصے میں محمد بن زاید سے بات نہیں کی اور انہیں متحدہ عرب امارات کی طرف سے کوئی وارننگ نہیں ملی۔ بعد کی وضاحت میں کہا گیا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی متعلقہ انٹیلی جنس معلومات تھیں تو وہ دونوں ملکوں کے متعلقہ سیکوریٹی ذرائع کے درمیان منتقل ہوئی ہوں گی۔
متحدہ عرب امارات نے براہِ راست اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ بن زاید اور نیتن یاہو کے درمیان مذکورہ گفتگو ہوئی تھی۔ اماراتی وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومت سربراہان حکومت کے درمیان مبینہ گفتگو سے متعلق میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی، تاہم اس نے کہا کہ اسرائیل اور امارات کے متعلقہ اداروں کے درمیان براہِ راست رابطے موجود ہیں اور ضرورت کے وقت متعلقہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ انکشاف کے بعد اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کے خلاف شدید حملہ کردیا ہے۔ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ نیتن یاہو ۷؍ اکتوبر کی ناکامی کے ’’ذاتی اور براہِ راست ذمہ دار‘‘ ہیں، جبکہ سابق فوجی سربراہ اور نیتن یاہو کے انتخابی حریف گادی آئزن کوٹ نے الزام لگایا کہ وزیراعظم کو حملے سے قبل متعدد وارننگز ملیں لیکن انہوں نے انہیں نظرانداز کیا۔ اپوزیشن لیڈروں نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ نیتن یاہو کو کیا معلوم تھا، کب معلوم تھا اور انہوں نے سیکوریٹی اداروں کو کیوں آگاہ نہیں کیا۔
۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے میں تقریباً ایک ہزار ۲۰۰؍ افراد ہلاک اور ۲۵۱؍ افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائی نے غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور غزہ کی وزارت صحت کے مطابق فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد ۷۳؍ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اسرائیل میں حملے سے قبل کی سیکوریٹی ناکامیوں پر ایک آزاد سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ طویل عرصے سے جاری ہے، تاہم نیتن یاہو کی حکومت نے اس مطالبے کی مخالفت کی ہے۔