شیوپال کو ڈپٹی اسپیکر بنانے کی چہ میگوئیوں سےسماجوادی پارٹی میں بے چینی،

Updated: April 05, 2022, 9:49 AM IST | unnao

: پرگتی شیل سماج وادی پارٹی(پی ایس پی) کے صدر شیوپال سنگھ یادو کو اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر بنائے جانے کی گردش کرنےوالی خبروں سے سماج وادی پارٹی(ایس پی) میں بے چینی دکھائی دینے لگی ہے

Samajwadi Party MLA Shivpal Yadav
سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی شیوپال یادو

: پرگتی شیل سماج وادی پارٹی(پی ایس پی) کے صدر شیوپال سنگھ یادو کو اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر بنائے جانے کی گردش کرنےوالی خبروں  سے سماج وادی پارٹی(ایس پی) میں بے چینی دکھائی دینے لگی ہے۔سیاسی حلقے میں چہ میگوئیوں کا بازار گرم ہے کہ ایس پی صدر اکھلیش یادو کے ایم ایل اے چچا کو بی جے پی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر کے عہدے سے نواز سکتی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے بی جے پی کے لیڈروں سے رابطہ بڑھا نےوالے شیوپال، کیا اس عہدے کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں؟یہ بھی ایک سوال ہے جس کا جواب ابھی ملنا باقی ہے۔خود کے بارے میں طرح طرح کی چہ میگوئیوں پر صفائی دینے کے بجائے شیوپال صرف یہ کہہ کر خاموش ہو جا رہے ہیں کہ وقت آنے پر بتائیں گے۔ دراصل  ان کی یہی ادا ایس پی خیمے کو بے چین کئے ہوئے ہے۔
 دراصل اس طرح بی جے پی ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتی ہے۔ اول تو اکھلیشپر نفسیاتی برتری مل جائے گی، دوسرے یادو برادری کے ایک طبقے کی حمایت حاصل ہوگی جو لوک سبھا میں کام آئے گی۔ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی کرسی کو اگر شیوپال قبول کرتے ہیں تو وہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اکھلیش یادو کے پاس بیٹھیں گے کیونکہ اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی سیٹ ایوان  میں ٹھیک  اپوزیشن لیڈر کے بعد کی ہوتی ہے۔
 پی ایس پی سربراہ شیوپال یادو ضلع اٹاوہ کی جسونت نگر اسمبلی سیٹ سے لگاتار چھٹی بار ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی شیوپال سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے نشان سائیکل سے منتخب ہوئے ہیں۔۱۰؍مارچ کو ووٹنگ میں جب سماجوادی پارٹی اقتدار کے قریب بھی نہیں پہنچ سکی تو شیوپال سنگھ یادو نے اپنے بھتیجے  اکھلیش یادو کے طرز عمل پر سوال اٹھانا شروع کردیا تھا۔ اس کے بعد ہی سے  اکھلیش یادو سے دوریاں بڑھنی شروع ہوگئیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایس پی نے نومنتخب اراکین اسمبلی کی میٹنگ میں شیوپال کو بلایا بھی نہیں۔ اس کی وجہ سے شیوپال کھل کر سامنے آگئے۔
 ہولی کے موقع پر ملائم ، رام گوپال اور اکھلیش یادو کے ساتھ سیفئی میں ہولی کھیلنے والے شیوپال۲۶؍مارچ کے بعد یہ کہہ کر ناراض ہوگئے کہ انہیں ایس پی کی میٹنگ میں نہیں بلایا گیا لیکن جب۲۹؍مارچ کو ایس پی کی اتحادی پارٹیوں کی میٹنگ میں انہیں بلایا گیا تو شیوپال نے میٹنگ میں شامل ہونے کے بجائے بھجن میں شرکت کو ترجیح دی۔
 اس درمیان۳۰؍مارچ کو شیوپال نے حلف برداری کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات تو کی ہی تھی، نوراتری کے پہلے دن سوشل میڈیا پر وزیر اعظم مودی کو فالو بھی کرنے لگے، جس سےبی جےپی سے ان کی قربت کے اشارے ملنے لگے۔اس سے پہلے بی جے پی کی طرف سے انہیں راجیہ سبھا بھیجے جانے اور ان کی سیٹ جسونت نگر پر ضمنی الیکشن میں بیٹے آدتیہ یادو کو اتارنے کی خبریں بھی گردش میں تھیں۔
 سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ بی جے پی کے صلاح کاروں کے پاس راجیہ سبھا کے علاوہ ڈپٹی اسپیکر بنانے کا بھی متبادل ہے۔ اسمبلی میں اس بار  اکھلیش یادو نے بطور اپوزیشن لیڈر جارح رویہ اپنانے کے اشارے دئیے ہیں۔ایسے میں اسمبلی ڈپٹی اسپیکر کے طور پر شیوپال کو منتخب کر کے بی جے پی ایس پی سربراہ پر ذہنی دباؤ بنا کر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ شیوپال یادو کیلئے بی جے پی اسی طرح کی حکمت عملی اپنا سکتی ہے جیسی اس نے  اس سے پہلے ایس پی ایم ایل اے نتن اگروال کو اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر منتخب کئے جانے کیلئے اپنائی تھی۔ اس میں وہ کامیابی بھی ہوئی۔ نتن اگروال سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے تھے اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے بی جے پی کے ساتھ چلے گئے تھے۔
 سیاسی ماہرین بتاتے ہیں کہ پالیمانی روایات کے مطابق اسمبلی اسپیکر حکمراں جماعت کا اور ڈپٹی اسپیکر حزب اختلاف کا ہوتا ہے۔ اسلئے تکنیکی طور پر ایس پی ایم ایل اے نتن اگروال کو بی جے پی نے اپوزیشن کا امیدوار قرار دیتے ہوئے  بلا مقابلہ انہیں ڈپٹی اسپیکر منتخب کروا دیا تھا۔ اس کیلئے ایس پی کی مرضی نہیں تھی لیکن  وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپائی۔ اب نتن اگروال بی جے پی سے الیکشن جیت کر آبکاری وزیر ہیں۔
 شیوپال کے بی جے پی میں شمولیت کی چہ میگوئیوں کے درمیان بی جے پی کے سینئر لیڈروں کی مانیں تو انہیں ایسی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ شیوپال کے بی جے پی میں شامل ہونے کو نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے بعد وزیر تعلیمات یوگیندر اپادھیائے  نے طنز کستے ہوئے کئی طرح کے سوال کھڑے کئے ہیں۔شیوپال کے بی جے پی میں شامل ہونے کے مسئلے پر کیشو پرساد موریہ  کے’نو ویکنسی‘ والے بیان کے بعد وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بی جے پی کو اب کسی پارٹنر کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ ایسے سوال ہیں جو کہیں نے کہیں شیوپال کے بی جے پی میں مبینہ شامل ہونے کے مشن پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK