ایران نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اب بھی اسلامی جمہوریہ ایران کا تختہ پلٹنے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے امید افزاء مذاکرات جاری ہیں۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 9:04 PM IST | Tehran
ایران نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اب بھی اسلامی جمہوریہ ایران کا تختہ پلٹنے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے امید افزاء مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’دشمن اب وہی مقصد (تختہ الٹنے اور ملک کو تقسیم کرنے کا) دوسرے ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا اس نے حالیہ جنگ کے آغاز میں کھلے عام اعلان کیا تھا لیکن فوجی حملے کے ذریعے اسے حاصل کرنے میں ناکام رہا۔‘‘وزارت کے مطابق، ایران کو اطلاعات ملی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے، مذہبی اور نسلی برادریوں میں اختلافات کو ہوا دینے، تخریب کاری اور دیگر "دہشت گردانہ کارروائیاںکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس کا فلوٹیلا کارکنوں پر اسرائیلی حملے کے بعد یورپی یونین سے پابندی کا مطالبہ
وزارت نے بیان میں امریکہ پر ملک میں بد امنی پھیلانے ، ہتھیاروں کی اسمگلنگ کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ اس کے علاوہ خفیہ آلات جس میں اسٹارلنک کے انٹرنیٹ سے وابستہ مشینیں بھی شامل ہیں ، ملک میں پہنچانے کی بات کہی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر اور جنوری میں بڑے پیمانے پر معاشی بحران کے خلاف عوامی احتجاج ہوئے تھے، جو پر تشدد حکومت مخالف مظاہرے میں تبدیل ہوگئے، اس دوران ٹرمپ نے واضح طور پر ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکلنے اور حکومت کا تختہ پلٹنے کی اپیل کی تھی، ساتھ ہی اپنی مدد کا وعدہ بھی کیا تھا۔ حالانکہ ایرانی حکومت نے بزور طاقت اس احتجاج کو ناکام بنادیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: قطر مذاکرات میں اہم پیش رفت، ایران کا محتاط موقف برقرار، امریکہ پر تنقید
بعد ازاں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر ۲۸؍ فروری کو حملہ کردیا ، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت ۴۰؍ سے زائد لیڈر اور کمانڈر شہید ہوگئے تھے۔جس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ساتھ ہی اسرائیل پر بھی ڈرون اور میزائل سے حملے کئے۔ اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے کر بحری جہازوں کی آمد ورفت مکمل طور پر بند کردی۔ جس کے بعد سعودی عربیہ، ترکی، پاکستان، قطر کی کوششوں سے امن مذاکرات کا آغازہوا، اور عارضی جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم امریکہ نے سخت شرائط کے ساتھ امن معاہدہ پیش کیا، جسے ایران سے مسترد کردیا۔ تب سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
دوسری جانب ایران میں عوامی بغاوت میں شامل اسرائیلی جاسوسوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے، اورممکنہ طور پر ان سے حاصل کردہ معلومات کی بناء پر ہی ایرانی حکام نے اس سازش کی بات کہی ہے۔