Updated: May 27, 2026, 10:18 PM IST
| New Delhi
رپورٹ کے مطابق، ہر ۱۰ میں سے تقریباً ۸ گھرانوں نے ایل پی جی کی دستیابی اور سپلائی میں رکاوٹوں سے متعلق مشکلات کی اطلاع دی ہے۔ قریباً ۳۷ فیصد گھرانوں نے کہا کہ ایل پی جی سلنڈر کی ڈیلیوری میں معمول سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ سروے میں پایا گیا کہ ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور سپلائی کی پابندیاں گھروں میں کھانا پکانے کے طریقے بدل رہی ہیں، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں میں یہ تبدیلی واضح ہے۔
ملک میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے سبب گھرانوں پر مالی دباؤ میں اِضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی کے مسلسل خدشات کے درمیان اب ایل پی جی کی قیمت میں ممکنہ اضافے نے گھرانوں کو پریشان کردیا ہے۔ یہ بات ’ورلڈ پینل بائی نیومیریٹر‘ (Worldpanel by Numerator) کی ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
ورلڈ پینل کی جانب سے ملک میں ۳۶۰۰ گھرانوں میں کرائے گئے سروے کے نتائج میں انکشاف ہوا کہ تقریباً ۷۴ فیصد گھرانوں کو توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور اس سے ان کا بجٹ مزید بگڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے سے گھرانوں کا بجٹ پہلے ہی متاثر ہوا ہے۔ یہ تشویش پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو ہفتوں کے اندر چوتھی دفعہ اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان اضافوں کے سبب ٹرانسپورٹ، ضروری خدمات اور روزمرہ کی ضروری اشیاء میں وسیع پیمانے پر مہنگائی کے خدشات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی بنا پر۱۹؍ لاکھ ٹرک بند
رپورٹ کے مطابق، ہر ۱۰ میں سے تقریباً ۸ گھرانوں نے ایل پی جی کی دستیابی اور سپلائی میں رکاوٹوں سے متعلق مشکلات کی اطلاع دی ہے۔ تقریباً ۳۷ فیصد گھرانوں نے کہا کہ ایل پی جی سلنڈر کی ڈیلیوری میں معمول سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ ۴۲ فیصد نے سلنڈر حاصل کرنے کو ”انتہائی مشکل“ قرار دیا۔ سروے میں پایا گیا کہ ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور سپلائی کی پابندیاں گھروں میں کھانا پکانے کے طریقے بدل رہی ہیں، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں میں یہ تبدیلی واضح ہے۔
تقریباً ۵۷ فیصد گھرانوں نے بتایا کہ وہ ایل پی جی کے دباؤ کی وجہ سے کھانا پکانے کے متبادل طریقوں جیسے لکڑی، روایتی چولہوں یا مٹی کے تیل (کیروسین) کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ مزید ۲۵ فیصد گھرانوں نے گیس کے زیادہ استعمال والی سرگرمیوں، جیسے پانی ابالنا، دودھ گرم کرنا اور بار بار چائے یا کافی بنانا، کو کم کرنے کی اطلاع دی۔ کچھ گھرانوں نے بتایا کہ انہوں نے کم پکوان بنانا یا ایسے کھانوں سے پرہیز کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں پکانے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مئی میں چار بار میں چھ روپے سی این جی مہنگی ہوئی
ورلڈ پینل نے بتایا کہ ۳۴ فیصد گھرانے اپنے مجموعی ماہانہ بجٹ پر ایل پی جی کی مہنگائی کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں، جہاں اب کھانا پکانے کا ایندھن تیزی سے مالی تحفظ کا ایک اہم اشاریہ بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ کم آمدنی والے گھرانے زیادہ شدید متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے ماہانہ اخراجات کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی خوراک اور ایندھن پر خرچ ہو جاتا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں سے ریستوران مالکان بھی پریشان
یہ اثر اب گھروں سے نکل کر ریستورانوں اور فوڈ بزنس (کھانے پینے کے کاروبار) تک بھی پھیل رہا ہے۔ کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں میں مارچ سے مسلسل تین مہینوں سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے فوڈ سروس کے شعبے میں آپریشنل لاگت بڑھ گئی ہے۔ صنعتی عہدیداروں نے قیمتوں میں ان اضافوں کی وجہ جزوی طور پر مغربی ایشیاء کے جاری تنازع سے جڑی سپلائی کی رکاوٹوں اور اتار چڑھاؤ کو قرار دیا ہے، جس نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی ایشیا کا بحران : وہ عوامل کیا ہیں جو ہندوستان کے لاجسٹکس اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں
ریستوران مالکان کا تخمینہ ہے کہ کمرشیل ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی لاگت نے مالی سال ۲۰۲۶ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران آپریٹنگ منافع کے مارجن کو ۱۰۰ سے ۲۰۰ بیسس پوائنٹس تک کم کر دیا ہے۔ اس کے سبب کاروبار، قیمتوں اور آپریشنز پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ رپورٹ میں نقل کئے گئے ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور یوٹیلیٹی کے اخراجات کو بیک وقت بڑھا کر وسیع تر اثرات کو جنم دیتی ہیں اور گھریلو کھپت اور صوابدیدی اخراجات کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں۔