Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان: ایک ٹیچر والے ۳۲۸۲؍ اسکول بند مگر آندھرا پردیش میں تعداد بڑھ گئی

Updated: August 08, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں ایک استاد پر منحصر اسکولوں کی تعداد ایک سال میں مجموعی طور پر ۳۲۸۲؍ کم ہوئی ہے، لیکن ریاستی سطح پر صورتحال یکساں نہیں رہی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ایک ٹیچر والے اسکولوں کی تعداد گھٹ کر ۱۰۰۸۴۳؍ رہ گئی۔ اس کے برعکس آندھرا پردیش میں ایک استاد والے اسکولوں کی تعداد ۳۴۴۵؍ بڑھ کر ۱۶۳۵۷؍ ہوگئی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان میں ایک استاد والے اسکولوں کی مجموعی تعداد میں ایک سال کے دوران کمی ضرور آئی ہے، لیکن ریاستوں کے درمیان صورت حال میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ سرکاری UDISE+ اعداد و شمار کے مطابق ۲۵۔۲۰۲۴ء میں ملک میں ایسے ۱۰۴۱۲۵؍ اسکول تھے، جن میں صرف ایک استاد تمام جماعتوں اور مضامین کی ذمہ داری سنبھالتا تھا۔ یہ تعداد ۲۶۔۲۰۲۵ء میں کم ہوکر ۱۰۰۸۴۳؍ رہ گئی، یعنی ایک سال میں خالص ۳۲۸۲؍ اسکولوں کی کمی ہوئی۔ یہ اعداد و شمار جولائی کے اواخر میں راجیہ سبھا میں اساتذہ کی خالی آسامیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بھی پیش کیے گئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ملکی سطح پر نوجوانوں کی ۳؍ تحریکیں مودی سرکار کیلئے بڑا چیلنج

ایک استاد والے اسکولوں کو عام طور پر ایسے تعلیمی اداروں کی علامت سمجھا جاتا ہے جہاں وسائل اور تدریسی عملہ محدود ہو۔ تاہم قومی سطح پر سامنے آنے والی ۳۲۸۲؍ کی کمی کو تمام ریاستوں میں یکساں بہتری نہیں سمجھا جاسکتا۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف ۵؍  ریاستوں میں ایسے اسکولوں کی تعداد میں مجموعی طور پر ۱۱؍ ہزار سے زیادہ کمی ہوئی، جو قومی خالص کمی سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ دوسری جانب بعض ریاستوں میں ایسے اسکولوں کی تعداد ہزاروں میں بڑھی، جس کے نتیجے میں دونوں رجحانات کو ملا کر قومی سطح پر خالص کمی سامنے آئی۔مدھیہ پردیش میں سب سے نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں ایک استاد والے اسکولوں کی تعداد ۲۵۔۲۰۲۴ء کے ۷۲۱۷؍ سے کم ہوکر ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ۲۲۶۹؍  رہ گئی، یعنی ۴۹۴۸؍ اسکولوں کی کمی ہوئی۔ یہ تعداد اکیلے ہی ملک کی مجموعی خالص کمی سے زیادہ ہے۔ 
چھتیس گڑھ میں بھی ایسے اسکول ۵۹۷۳؍ سے گھٹ کر ۲۴۶۱؍  رہ گئے، یعنی ۳۵۱۲؍ کی کمی ہوئی۔ اترپردیش، جہاں بڑے صوبوں میں اب بھی ایک استاد والے اسکولوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، وہاں یہ تعداد ۹۸۰۵؍ سے کم ہوکر ۷۸۷۴؍ رہ گئی، یعنی ۱۶۳۴؍ اسکولوں کی کمی ہوئی۔ پنجاب میں ۶۸۲؍ اور گجرات میں ۶۰۱؍ اسکول کم ہوئے۔ اس کے برعکس آندھرا پردیش میں صورتحال بالکل مختلف رہی۔ ریاست میں ایک استاد والے اسکولوں کی تعداد ۱۲۹۱۲؍ سے بڑھ کر ۱۶۳۵۷؍ ہوگئی، یعنی ۳۴۴۵؍ کا اضافہ ہوا۔ یہ ملک میں سب سے بڑا اضافہ ہے، حالانکہ آندھرا پردیش میں ۲۵۔۲۰۲۴ء ہی میں ایسے اسکولوں کی تعداد بڑی تھی۔ مہاراشٹر میں ۱۱۱۷؍ اور راجستھان میں ۱۰۸۳؍ کا اضافہ ہوا، جبکہ کرناٹک میں ۶۹۳؍ اور جھارکھنڈ میں ۶۵۵؍ مزید ایک استاد والے اسکول ریکارڈ کیے گئے۔
مرکزی حکومت کے راجیہ سبھا میں دیے گئے جواب میں ریاستوں کے درمیان اس بڑے فرق کی مخصوص وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ حکومت نے عمومی طور پر اساتذہ کی خالی آسامیوں کے اسباب میں ریٹائرمنٹ، استعفیٰ، نئی اسامیوں کی تخلیق، اساتذہ کی تعیناتی کو ضرورت کے مطابق دوبارہ منظم کرنا اور طلبہ کے داخلوں میں تبدیلی جیسے عوامل کا ذکر کیا۔ تاہم ان میں سے کسی وجہ کو ان ریاستوں میں ایک استاد والے اسکولوں کی تعداد میں ہونے والی مخصوص کمی یا اضافے سے براہِ راست نہیں جوڑا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جھارکھنڈ: ہم روشنائی سے تاریخ لکھیں گے: اے آئی ایس اے کی صدر نیہابورا

سرکاری جواب میں ریاست وار منظور شدہ، کام کرنے والے اور خالی تدریسی عہدوں کی مکمل تعداد بھی پیش نہیں کی گئی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے انتظامیہ کے پاس برقرار رکھے جاتے ہیں۔ اسی لیے صرف ایک استاد والے اسکولوں کی تعداد میں کمی کو نئی بھرتیوں کا براہِ راست نتیجہ قرار دینا فی الحال ممکن نہیں۔ دستیاب سرکاری جواب سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ۳۲۸۲؍ اسکولوں کی خالص کمی میں کتنے اسکولوں میں نئے اساتذہ تعینات ہوئے، کتنے اسکولوں کو دوسرے اداروں میں ضم کیا گیا، کتنے بند ہوئے یا کتنے اداروں کی درجہ بندی تبدیل ہوئی۔
اساتذہ اور طلبہ کے تناسب میں بھی کچھ بہتری کا اشارہ ملتا ہے، اگرچہ دونوں برسوں کے اعداد و شمار ایک ہی طریقے سے مرتب نہیں کیے گئے، اس لیے براہِ راست موازنہ درست نہیں ہوگا۔ ۲۵۔۲۰۲۴ء میں ملک کا مجموعی طالب علم، استاد تناسب 24:1 بتایا گیا تھا، جبکہ ۲۶۔۲۰۲۵ء کے اعداد و شمار میں تعلیمی سطح کے اعتبار سے تناسب دیا گیا: پرائمری میں 19:1، اپر پرائمری میں 17:1، سیکنڈری میں 15:1 اور ہائر سیکنڈری میں 23:1۔ حکومت کے مطابق یہ تمام سطح وار تناسب قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے مقررہ معیار کے اندر ہیں۔ پالیسی میں ملک کے لیے طالب علم، استاد تناسب ۳۰؍ سے کم اور سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ طلبہ کی زیادہ تعداد والے علاقوں میں ۲۵؍ سے کم رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK