ایم ایل سی انتخاب: ۲؍ سیٹوں پر شرد پوار کے امیدوار فاتح ،مہا یوتی میں بی جےپی اور شندے کو ایک ایک سیٹ ملی، ناگپور سیٹ پر سسپنس برقرار۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 1:04 PM IST | Iqbal Ansari/ZA Khan | Mumbai/ Nanded
ایم ایل سی انتخاب: ۲؍ سیٹوں پر شرد پوار کے امیدوار فاتح ،مہا یوتی میں بی جےپی اور شندے کو ایک ایک سیٹ ملی، ناگپور سیٹ پر سسپنس برقرار۔
مہاراشٹر قانون ساز کونسل( ایم ایل سی ) کی ۵؍نشستوں (۳؍ گریجویٹس: پونے ، ناگپور اور اورنگ آباد) اور ۲؍ ٹیچر (پونے اور امراوتی) کے بیلٹ پیپر پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جو منگل سے ۴؍ مراکز پر شروع کی گئی تھی وہ بدھ کو بھی پورا دن جاری رہی۔ معتبر ذرائع کے مطابق ۴؍ سیٹوں کے نتائج تقریباً حتمی مرحلہ میں پہنچ چکے ہیں جن میں ۲؍ سیٹیں مہا وکاس اگھاڑی( ایم وی اے)کی جانب سے این سی پی( شرد) جبکہ مہا یوتی کو۲؍ سیٹوں ( پونے ٹیچر حلقہ میں بی جےپی اورامراوتی ٹیچر شندے شیو سینا) پر فتح ملی ۔ البتہ تادم تحریر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے گڑھ مانے جانے والے ناگپور گریجویٹس حلقہ کیلئے ووٹوں کی گنتی جاری تھی تب تک کانگریس اور بی جےپی کے امیدوار وںمیں کانٹے کا مقابلہ جاری تھا۔ اس انتخاب سے ایک بار پھر شرد پوار نے اپنا لوہا منوایا ہے۔
پونے گریجویٹ حلقہ این سی پی ( شرد) نے بی جے پی کو شکست دی
اس نشست پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی امیدوار ہرشدا جادھو دیشمکھ نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی ڈاکٹر سمیتا جادھو کو شکست دی۔اس حلقے میں مجموعی طور پر۲؍ لاکھ ۲۶؍ ہزار ۲۲۴؍ ووٹ درست قرار دیئے گئے تھے، جس کی وجہ سے جیت کا کوٹاایک لاکھ ۱۳؍ ہزار ۱۱۳؍ طے ہوا تھا۔ پہلی ترجیح میں کوٹا پورا نہ ہونے پر دوسری ترجیح کے ووٹوں کی بنیاد پر این سی پی (شرد) کی ہرشدا جادھو دیشمکھ نے ۹؍ ہزار ۷۰۰؍ ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ ہرشدا کو ایک لاکھ ۱۱؍ہزار ۴۲۵؍ ووٹ جبکہ ڈاکٹر سمیتا جادھو کو ایک لاکھ ۲؍ ہزار ۵۵۴؍ ووٹ ملے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ۱۰۰؍میٹر کے دائرہ میں۳؍ ہیلتھ سینٹر۔ اسٹینڈنگ کمیٹی میں سوالات
ناگپور گریجویٹ حلقہ میں کانٹے کی ٹکر جاری
اس نشست پر کانگریس کے ابھیجیت ونجاری اور بی جے پی کے سدھاکر کوہلے کے درمیان انتہائی کانٹے کا مقابلہ چل رہا ہے۔ ترجیحی ووٹوں کی گنتی کے آخری مراحل میں زبردست الٹ پھیر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ابھیجیت ونجاری کے فتح کے اعتماد پر کانگریس ورکروں نے پارٹی آفس میں جشن منایا، حالانکہ ا س فتح کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
امراوتی اساتذہ حلقہ شیوسینا ( شندے ) نے بازی ماری
اس نشست پر شندے شیو سینا کے کِرن سرنائک نے دوسری ترجیح کے ووٹوں کی گنتی کے بعد مقررہ کوٹا :۱۶؍ ہزار ۱۳۴؍ ووٹ حاصل کر کے جیت درج کی۔ جبکہ پروفیسر ادیتی پوہرے (کانگریس) کو ۸؍ ہزار ۶۳۶؍ ووٹ ملے ۔
مراٹھواڑا گریجویٹ حلقہ انتخاب میں بڑا سیاسی الٹ پھیر، ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل کامیاب
مراٹھواڑا گریجویٹ حلقہ انتخاب کا نتیجہ اس بار کئی اعتبار سے غیر معمولی رہا۔ اس انتخاب میں جہاں مہاوکاس اگھاڑی اور مہایوتی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا، وہیں سوشل میڈیا پر مقبول ’رِیل اسٹار‘ اور آزاد امیدوار روی راج سابڑے پاٹل نے تقریباً۲۰؍ ہزار ووٹ حاصل کرکے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی۔۳؍ مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے مہایوتی سے این سی پی اجیت پوار کے امیدوار ستیش چوہان کو اس انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے امیدوار ڈاکٹر پرتاپ سنگھ پاٹل نے کامیابی حاصل کی۔ روی راج سابڑے نے کسی بڑی سیاسی جماعت کے انتخابی نشان اور مضبوط سیاسی پشت پناہی کے بغیر تقریباً۲۰؍ ہزار ووٹ حاصل کیے۔ ان کی اس کارکردگی نے انتخابی مقابلے کے روایتی سیاسی حساب کتاب کو متاثر کیا۔مراٹھواڑہ گریجویٹ حلقہ انتخاب میں کامیابی کے لیے۸۸؍ہزار۵۵۸؍ ووٹوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم پہلی ترجیح کے ووٹوں کی گنتی میں کوئی بھی امیدوار یہ کوٹہ حاصل نہیں کر سکا۔