• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۶ء: ہندوستان کے سیوریج، سیپٹک ٹینکوں اور تنگ نالیوں میں ۱۲۵؍ افراد جاں بحق

Updated: October 06, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں رواں سال اب تک سیوریج، سیپٹک ٹینک، مین ہولز اور دیگر تنگ نالیوں میں خطرناک صفائی و متعلقہ کام کے دوران کم از کم ۱۲۵؍ افراد جان گنوا چکے ہیں۔ ڈی اے ایس اے ایم کے مطابق یہ اموات ۲۰؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پیش آئیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دلت آدیواسی شکتی ادھیکار منچ (ڈی اے ایس اے ایم) کے مطابق ہندوستان میں رواں سال یکم جنوری سے ۲؍ اکتوبر تک سیوریج، سیپٹک ٹینک، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور دیگر تنگ جگہوں میں خطرناک صفائی اور متعلقہ کام کے دوران کم از کم ۱۲۵؍ افراد جان گنوا چکے ہیں۔ یہ اموات ۲۰؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پیش آئیں۔ تنظیم نے ۵؍ اکتوبر کو نئی دہلی میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ان واقعات میں صفائی کارکنوں، دستی صفائی پر مامور افراد، کنٹریکٹ مزدوروں، تعمیراتی کارکنوں اور مہاجر مزدوروں سمیت دیگر افراد کی جانیں گئیں۔ ڈی اے ایس اے ایم کے مطابق یہ اموات سیوریج لائنوں، سیپٹک ٹینکوں، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، مین ہولز، سیوریج چیمبرز، ڈرینج ٹینکوں، کیچڑ کے ٹینکوں، زیرِ زمین پانی کے ٹینکوں اور کنوؤں جیسی محدود جگہوں میں کام کے دوران ہوئیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے ذات پات کی بنیاد پر پیشہ ورانہ تفریق، ٹھیکیداروں کے استحصال، غیر رسمی روزگار، ادارہ جاتی غفلت، قوانین پر کمزور عمل درآمد اور خطرناک صفائی کے کام کو مشینی بنانے میں ناکامی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: چندرپور: آشرم اسکول کے ۸۲؍طلبہ کا بطور سزا آدھا سر منڈوایا گیا

تنظیم نے کہا کہ ان اموات کو محض حادثات یا انفرادی لاپروائی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ مزدوروں کے تحفظ، انتظامی نگرانی اور قوانین کے نفاذ میں موجود نظامی خامیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ڈی اے ایس اے ایم کے مطابق کئی واقعات میں کسی کارکن کے ٹینک یا سیوریج چیمبر کے اندر بے ہوش ہونے کے بعد دوسرا شخص اسے بچانے کیلئے بغیر حفاظتی سامان کے اندر داخل ہوا اور وہ بھی زہریلی گیس یا آکسیجن کی کمی کا شکار ہوگیا۔ اس طرح ایک کارکن کو بچانے کی کوشش میں مزید اموات واقع ہوئیں۔ ڈی اے ایس اے ایم نے ان اموات کو قابلِ پیش گوئی اور قابلِ روک تھام قرار دیتے ہوئے کہا کہ دستی صفائی پر پابندی اور خطرناک سیوریج و سیپٹک ٹینک کے کام کو مشینی بنانے سے متعلق قانونی احکامات کے باوجود ایسے واقعات جاری ہیں۔ تنظیم کے مطابق فروری میں ایک، مارچ میں ۲۵؍، اپریل میں ۱۰؍، مئی میں ۱۹؍، جون میں ۲۰؍، جولائی میں ۲۸؍، اگست میں ۱۰؍، ستمبر میں ۹؍ اور اکتوبر کی ۲؍ تاریخ تک ۳؍ اموات درج کی گئیں۔ جولائی سب سے زیادہ ہلاکتوں والا مہینہ رہا۔

ریاستی اعتبار سے بہار میں ۱۴؍، تمل ناڈو میں ۱۲؍، ہریانہ میں ۱۱؍، اتر پردیش میں ۱۰؍، میگھالیہ اور اڈیشہ میں ۹؍، مدھیہ پردیش میں ۸؍، آسام اور مہاراشٹر میں ۷؍، چھتیس گڑھ میں ۶؍ جبکہ دہلی، پنجاب اور راجستھان میں ۵،۵؍ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ گجرات اور کرناٹک میں ۴،۴؍ جبکہ جھارکھنڈ، میزورم، مغربی بنگال اور جموں و کشمیر میں ۲،۲؍ اور کیرالا میں ایک موت درج ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعات صرف سرکاری سیوریج نظام تک محدود نہیں رہے بلکہ بلدیاتی اداروں کے علاوہ نجی گھروں، اسپتالوں، کارخانوں، صنعتی یونٹس، رہائشی سوسائٹیوں، تعمیراتی مقامات، نجی ریزورٹس اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس میں بھی پیش آئے۔ ڈی اے ایس اے ایم نے کہا کہ اس صورتحال میں سرکاری اداروں کے ساتھ نجی آجر، ٹھیکیدار، ذیلی ٹھیکیدار اور مکان یا جائیداد کے مالکان بھی جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتے۔ رپورٹ میں ممبئی کا ایک واقعہ بھی شامل ہے۔ ۴؍ فروری کو ۲۶؍ سالہ کنٹریکٹ مزدور شمیم رزاق غازی، جو سیوریج سے متعلق کام انجام دے رہا تھا، گوریگاؤں میں تقریباً ۲۵؍ فٹ گہرے نالے کی صفائی کے دوران زہریلی گیس اور اچانک پانی کے بہاؤ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔ ڈی اے ایس اے ایم کے مطابق یہ واقعہ زیرِ زمین نکاسیٔ آب کے کام میں زہریلی گیس، آکسیجن کی کمی، ڈوبنے کے خطرے اور گہرے محدود مقامات سے بچاؤ کی دشواری جیسے متعدد خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لاتور کے وڈوال گاؤں میں پانی کا بحران، گھنٹوں قطار میں لگنا پڑ رہا ہے

بہار کے ویشالی ضلع میں یکم مارچ کو ایک گھر کے سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران ایک ہی خاندان کے چار افراد زہریلی گیس سے متاثر ہوکر جاں بحق ہوگئے۔ اس کے اگلے ہی دن مدھیہ پردیش کے اندور میں ایک سیوریج چیمبر میں داخل ہونے والا کارکن زہریلی گیس کی زد میں آکر بے ہوش ہوگیا۔ اسے بچانے کیلئے اندر جانے والا دوسرا کارکن بھی متاثر ہوا اور دونوں کی موت ہوگئی۔ ۴؍ مارچ کو بہار کے سیتامڑھی ضلع میں بھی سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران ایک خاندان کے چار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ میں مارچ اور اپریل کے دوران مغربی بنگال، راجستھان، چھتیس گڑھ، اتر پردیش، ہریانہ اور مہاراشٹر میں بھی متعدد اموات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سیوریج چیمبرز، صنعتی یونٹس کے کیچڑ والے ٹینکوں، اسپتالوں کے سیپٹک ٹینکوں اور ڈرینج ٹینکوں میں کام کرنے والے مزدور شامل تھے۔ کئی واقعات میں مزدوروں کے پاس مناسب حفاظتی سامان، گیس کی جانچ کے آلات یا ہنگامی ریسکیو کا انتظام موجود نہیں تھا۔ مئی اور جون میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ دہلی، ہریانہ، مہاراشٹر، اڈیشہ، آسام، اتر پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات، کرناٹک، جموں و کشمیر اور تمل ناڈو میں سیپٹک ٹینکوں، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، کنوؤں اور زیرِ زمین ٹینکوں میں کام کے دوران کئی افراد کی موت ہوئی۔ جون میں بنگلورو کے ایک سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں دو کارکن لاپتہ ہونے کے بعد مردہ پائے گئے، جبکہ جموں و کشمیر کے کپواڑہ میں کنویں کی صفائی کے دوران بھی دو افراد زہریلی گیس کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے۔

جون کے آخر میں دہلی کے منڈکا صنعتی علاقے میں ایک فیکٹری کے سیپٹک ٹینک میں تین مزدوروں کی موت ہوئی۔ ڈی اے ایس اے ایم کے مطابق کارکنوں کو ٹینک کے اندر بھیجے جانے کے بعد ایک ایک کرکے وہ بے ہوش ہوتے گئے اور انہیں بچانے کی کوشش میں مزید کارکن بھی اندر داخل ہوئے۔ تنظیم نے اس واقعے میں حفاظتی سامان، گیس کی جانچ، آکسیجن کی فراہمی، حفاظتی ہارنس اور ہنگامی ریسکیو نظام کی عدم موجودگی پر سوال اٹھائے۔ جولائی میں ۲۸؍ اموات کے ساتھ صورتحال مزید سنگین رہی۔ مدھیہ پردیش، میگھالیہ، اڈیشہ، اتر پردیش، کیرالا، ہریانہ، جھارکھنڈ، پنجاب، آسام اور تمل ناڈو سمیت کئی ریاستوں میں سیوریج چیمبرز، سیپٹک ٹینکوں، زیرِ زمین پانی کے ٹینکوں اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس میں حادثات پیش آئے۔ میگھالیہ میں ایک زیرِ زمین پانی کے ٹینک میں ڈیزل جنریٹر کے استعمال کے بعد زہریلی گیس اور آکسیجن کی کمی سے پانچ افراد کی موت کا واقعہ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔

اگست اور ستمبر میں بھی متعدد اموات ہوئیں۔ چنئی میں کنویں کی صفائی کے دوران ایک مزدور کے بے ہوش ہونے کے بعد اسے بچانے کیلئے اندر جانے والا اس کا بیٹا بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بہار، تمل ناڈو، میگھالیہ اور مہاراشٹر میں سیپٹک ٹینکوں اور مین ہولز میں داخل ہونے والے مزدور بھی زہریلی گیس اور آکسیجن کی کمی کے باعث ہلاک ہوئے۔ ۲۸؍ ستمبر کو ممبئی کے سانتاکروز ایسٹ میں ایک نجی عمارت کی اندرونی ڈرین لائن کی صفائی کیلئے مین ہول میں اترنے والا ۴۷؍ سالہ سنتوش کاشتے زہریلی گیس کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا، جبکہ اس کا ساتھی زخمی ہوا۔ ڈی اے ایس اے ایم نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایسے واقعات میں مزدوروں کے پیشے یا کام کی نوعیت کو مختلف نام دے کر اصل مسئلے کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ تنظیم کے مطابق بعض مزدوروں کو تعمیراتی کارکن یا عام یومیہ اجرت والے مزدور کے طور پر درج کیا جاتا ہے، حالانکہ انہیں سیپٹک ٹینک، سیوریج ٹینک یا ڈرینج چیمبر کے اندر داخل کرکے صفائی یا دیگر خطرناک کام کرایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: ناگپور ضلع میں تقریباً آٹھ لاکھ ۶۵؍ہزار ووٹروں کو نوٹس بھیجے گئے

تنظیم کا کہنا ہے کہ سیوریج اور سیپٹک ٹینکوں جیسے محدود مقامات میں زہریلی گیسیں جمع ہوسکتی ہیں اور آکسیجن کی سطح خطرناک حد تک کم ہوسکتی ہے۔ ایسے مقامات پر بغیر مناسب حفاظتی انتظامات کے داخل ہونا کارکنوں کے ساتھ ساتھ انہیں بچانے کی کوشش کرنے والوں کیلئے بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈی اے ایس اے ایم نے خطرناک صفائی کے کام کو مکمل طور پر مشینی بنانے، مناسب تربیت، حفاظتی آلات، گیس کی جانچ اور ہنگامی ریسکیو نظام کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں اعداد و شمار سے متعلق چند داخلی تضادات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر اگست کے واقعات کی تفصیلات میں ۱۲؍ اموات بنتی ہیں، جبکہ ماہانہ مجموعی جدول میں ۱۰؍ اموات درج ہیں۔ اسی طرح ریاست وار اعداد و شمار کا مجموعہ ۱۲۶؍ بنتا ہے، جبکہ تنظیم کا مجموعی عدد ۱۲۵؍ ہے۔ کانپور کے ایک واقعے میں بھی دو اموات درج ہیں، لیکن تین افراد کے نام دیے گئے ہیں۔ اس لیے ۱۲۵؍ کا مجموعی عدد ڈی اے ایس اے ایم کی جانب سے جاری کردہ مجموعی تعداد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK