ریاست میں ۲ء۰۴؍ کروڑ نام حذف کئے گئے، عوام میں شدید بے چینی، ایس آئی آر کی شفافیت پر سوال۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 10:13 AM IST | Ahmedullah Siddiqui | New Delhi
ریاست میں ۲ء۰۴؍ کروڑ نام حذف کئے گئے، عوام میں شدید بے چینی، ایس آئی آر کی شفافیت پر سوال۔
اتر پردیش میں ایس آئی آر کے بعد جاری کی گئی فائنل ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پرناموں کے حذف ہونےپر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ یوپی میں ایس آئی آر کے بعد جاری کی گئی حتمی فہرست سے ۲ء۰۴؍ کروڑ نام غائب ہیں۔
متعدد مقامات پر ایسے ووٹروں کے نام بھی فہرست سے غائب ہیں جو مکمل طور پر اہل تھے اور ہر طرح کے ضروری دستاویز بھی جمع چکے تھے۔ اس کی وجہ سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ کئی اضلاع میں ایک ساتھ بڑی تعداد میں ناموں کی کٹوتی نے اس عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ریکارڈ پیٹنٹ فائلنگ پر پیوش گوئل نے کہا: ہندوستان کا انوویشن انجن اب رکنے والا نہیں
اپوزیشن، خصوصاً سماجوادی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ اس عمل میں خواتین، غریبوں اور دیہی علاقوں کے ووٹروں کو زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں کمزور طبقات کے نام فہرست سے نکال دیئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کئی ووٹروں کو یہ اطلاع ہی نہیں مل سکی کہ ان کا نام حذف کیا جا رہا ہے یا انہیں اپنے دستاویزات کی تجدید کی ضرورت ہے، جسے بیداری کی کمی قرار دیا جا رہا ہے۔ کچھ علاقوں میں ڈپلیکیٹ ناموں کو ہٹاتے وقت درست نام بھی غلطی سے حذف ہوگئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے ترجمان عباس حیدرنے ’انقلاب ‘ کو بتایا کہ حتمی ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر ناموں کا حذف ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ اقدام جمہوریت اور عوام کے بنیادی حق یعنی آزادی رائے کے حق پر براہ راست حملہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واضح وجہ اور مکمل شفافیت کے بغیر نام ہٹانا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا سے فوری طور پر تحقیقات کرنے، متاثرہ افراد کے ناموں کو بحال کرنے اور اس طرح کی غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔