Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو اے پی اے کے تحت درج مقدموں پر شنوائی ایک سال میں مکمل کرنے پر زور

Updated: March 26, 2026, 10:31 AM IST | Agency | New Delhi

سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو حکم دیا کہ جائزہ لے کر رپورٹ دیں کہ اس کیلئے کتنی خصوصی عدالتوں کی ضرورت ہے ۔

Superem Court.Photo:INN
سپریم کورٹ۔ تصویر:آئی این این
 سپریم کورٹ نے یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ) کے تحت درج مقدمات کی سماعت میں تاخیر پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایسے تمام مقدمات کی شنوائی  ہر حال میں ایک سال کے اندر مکمل کی جائے۔
عدالت نے کہا کہ قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے) کےذریعہ  درج کئے گئے  یو اے پی اے مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے تاکہ برسوں تک مقدمات کے زیر التوا رہنے کا مسئلہ ختم ہو سکے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ مقدموں  کے طویل عرصہ تک زیر التواء رہنے کی وجہ سے  ملزمین کو برسوں  ضمانت نہیں مل پاتی، جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔  
 
 
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے   مرکز، ریاستی حکومتوں  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کریں۔ عدالت نے کہا کہ ہر ریاست یہ تعین کرے کہ کتنی خصوصی عدالتوں کی ضرورت ہے اوراس کی رپورٹ پیش کرے تاکہ یو اے پی اے مقدمات کی روزانہ سماعت ممکن ہو اور ایک سال کے اندر فیصلہ سنایا جا سکے۔
 
 
عدالت نے  ہدایت دی کہ ان خصوصی عدالتوں میں مقدمات کی مؤثر پیروی کیلئے سرکاری وکیل (وکیل استغاثہ ) بھی بلاتاخیر متعین کئے جائیں تاکہ مقدمہ کی سماعت میں التوا نہ ہو۔ ساتھ ہی ہائی کورٹس کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان یو اے پی اے کے تحت قائم ہونے والی  خصوصی عدالتوں کیلئے  مناسب عملہ اور انتظامی سہولیات فراہم کریں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یو اے پی اے جیسے سنگین قوانین کے تحت درج مقدمات میں تاخیر نہ صرف عدالتی نظام پر بوجھ بڑھاتی ہے بلکہ ملزمین کے بنیادی حقوق پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد نمٹایا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK