امریکی سپرمارکیٹ میں اندھادھند فائرنگ، ۱۰؍افراد ہلاک

Updated: May 16, 2022, 12:14 PM IST | Agency | Washington

سیاہ فام افراد کے علاقے میں واقع مارکیٹ میں سفید فام نوجوان نےگولیاں چلائیں،جوبائیڈن نے اسے داخلی دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا

Locals are expressing grief and anger after the shooting.Picture:INN
فائرنگ کے واقعے کے بعدمقامی افراد غم اور غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

امریکی ریاست نیو یارک کے دوسرے بڑے شہر بفیلو کی ایک سپر مارکیٹ میں ’’بڑے پیمانے پر فائرنگ‘‘میں کم از کم ۱۰؍افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ بفیلوکی ’ٹاپس فرینڈلی مارکیٹ‘نامی سپر مارکیٹ میں پیش آیاجس میں دیگر۳؍افرادزخمی بھی ہوگئے۔ امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے اسے’نفرت آمیز جرم‘ اور ’نسلی تعصب کی بنیاد پرشدت پسندی‘ کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
حملہ آور کون تھا؟
 حکام کے مطابق ایک ۱۸؍سالہ سفید فام شخص  نےبھاری اسلحے کے ساتھ سپر مارکیٹ میں داخل ہوکر اندھادھند فائرنگ شروع کردی۔تفتیش کاروں کو شبہ ہےکہ حملہ آور اس شوٹنگ کے مناظر انٹرنیٹ پر براہ راست نشر کر رہا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور فوجیوں کے انداز کا لباس اور باڈی آرمر پہنے ہوئے تھا اور اس کے ہاتھوں میں ایک رائفل بھی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ سپرمارکیٹ ایک ایسے رہائشی علاقےمیں واقع ہے جہاں سیاہ فام شہریوں کی اکثریت مقیم ہے۔علاوہ ازیں حملہ آور پولیس کی حراست میں ہے اور ایف بی آئی اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
’داخلی دہشت گردی کی کارروائی‘
 امریکی صدر جو بائیڈن نے اسے ملک میں ’داخلی دہشت گردی کی کارروائی‘  قرار دیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کرین ژاں پیئر نے بتایا کہ صدر بائیڈن کواس ’خوفناک شوٹنگ‘ اور اس کے بعد کی صورتحال کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ایک بیان میں صدر جو بائیڈن نے کہاکہ تفتیش کارابھی فائرنگ کے محرکات پر غور کر رہے ہیں لیکن ’’ہمیں سچائی بیان کرنےکیلئےواضح طور پر کسی اور چیز کی ضرورت نہیں: نسلی تعصب کی بنیاد پر کیا گیا نفرت آمیزجرم اس قوم کی ساخت کے لیے سخت ناگوار ہے۔‘‘
 انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا،’’داخلی دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی، جس میں سفید فام قوم پرست نظریےکےنام پر انجام دیا جانے والا عمل شامل ہے، ہمارے اُن نظریات کے برخلاف ہے جن کے لیے ہم امریکہ میں کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ نیویارک کی گورنر کیتھی حوخل نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ وہ ’’اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جس کے ذریعے وہ کھل کر حملہ آور کے خلاف کارروائی کر سکیں۔‘‘سنیچرکےروز کی گئی فائرنگ امریکہ میںحالیہ  نسلی بنیادوںپرہونے والے خونریز واقعات کی تازہ ترین کارروائی ہے۔ ملک بھر میں بار بار فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے باوجود کانگریس میں ’گن وائلنس‘ کو روکنے کے لیے کئی اقدامات ناکام ہو چُکے ہیں۔ سینٹرفار ڈسیزکنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی)کےمطابق۲۰۲۰ءکےدوران امریکہ میں آتشیں ہتھیاروں کے ساتھ ۱۹؍ ہزار ۳۴۵؍ ہلاکتیں ہوئیں، جو کہ۲۰۱۹ءکےمقابلے میں تقریباً ۳۵؍فیصد زیادہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK