Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ نےہندوستان میں سوشل میڈیا بلاکنگ کو ’سیاسی محرکات‘ پر مبنی قرار دیا؛ تجارتی خدشات کا اظہارکیا

Updated: April 03, 2026, 3:12 PM IST | Washington

امریکی نمائندہ برائے تجارت نے ہندوستان میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے واقعات کو بھی اجاگر کیا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اقدامات آزاد انٹرنیٹ کے فروغ کو کمزور کرتے ہیں اور ڈجیٹل معیشت میں تجارت سمیت امریکہ سے خدمات کی برآمدات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

Modi and Trump. Photo: INN
ٹرمپ اور مودی: آئی این این

امریکہ نے ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے حوالے سے ہندوستان کے طرزِ عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا مواد ہٹانے کے بعض احکامات کو ”سیاسی محرکات“ پر مبنی قرار دیا ہے اور انہیں امریکی کمپنیوں کو متاثر کرنے والی ممکنہ ’نان ٹیرف‘ تجارتی رکاوٹوں کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے نمائندہ برائے تجارت کے دفتر کی جانب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور کانگریس کو پیش کی گئی سالانہ رپورٹ میں یہ مشاہدات شامل ہیں۔ اس دستاویز میں متعدد ممالک میں رائج ”غیر منصفانہ تجارتی طریقوں“ کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ان میں میں ہندوستان کے ڈجیٹل ریگولیٹری فریم ورک کی خصوصی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مرکز نے آزاد نیوز تخلیق کاروں کو بلاک کرنے کی اجازت دینےکیلئے آئی ٹی قوانین میں ترمیم کی تجویز پیش

رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے آئی ٹی قوانین، امریکی کمپنیوں پر بوجھ ڈالنے والی شرائط عائد کرتے ہیں۔ رپورٹ میں خاص طور پر ”غیر عملی ڈیڈ لائنز“ اور مواد ہٹانے کے پروٹوکولز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نوٹ کیا گیا ہے کہ ۲۰۲۱ء سے امریکی ٹیک کمپنیاں، ہندوستان میں آن لائن مواد اور صارفین کے اکاؤنٹس ہٹانے کی بڑھتی ہوئی حکومتی درخواستوں کا سامنا کررہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں سے بہت سے مطالبات سیاسی طور پر حساس مسائل سے منسلک ہوتے ہیں۔

امریکی نمائندہ برائے تجارت نے ہندوستان میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے واقعات کو بھی اجاگر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات معلومات اور خدمات تک رسائی میں خلل ڈالتے ہیں، جس سے کاروباری کام کاج متاثر ہوتے ہیں۔ یہ اقدامات آزاد انٹرنیٹ کے فروغ کو کمزور کرتے ہیں اور ڈجیٹل معیشت میں تجارت سمیت امریکہ سے خدمات کی برآمدات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آسام، یوپی میں مسلمانوں کے خلاف جرائم ظلم و ستم، نسل پرستی، نسلی صفائی کی تیاری کے مترادف: پینل

رپورٹ میں آن لائن اشتہارات پر ہندوستان کے ’مساوات ٹیکس‘ (equalisation levy) کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو عالمی ٹیک کمپنیوں کیلئے تنازع کا باعث رہا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ہندوستانی مارکیٹ میں کام کرنے والی کمپنیوں اور برآمد کنندگان کیلئے غیر یقینی صورتحال کی وجہ بنتے ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں، ہندوستانی حکومت نے کئی آن لائن پوسٹس کو ہٹانے کیلئے متعدد احکامات جاری کئے ہیں۔ ان متنازع پوسٹس میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی انتظامیہ پر تنقید کرنے والے پوسٹس بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، حکومت کی ان کارروائیوں سے کئی نیوز پلیٹ فارمز، طنز نگار، مزاح نگار، کارٹونسٹ اور سیاسی مبصرین متاثر ہوئے ہیں۔ ان احکامات کی تفصیلات محدود ہیں کیونکہ آئی ٹی ایکٹ کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK