Updated: September 03, 2026, 7:01 PM IST
| New York
بوسنیا اور ہرزیگووینا کے لیجنڈری فٹبالر اور مانچسٹر سٹی کے سابق اسٹار ایڈن زیکو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ ۴۰؍ سالہ زیکو قومی ٹیم کے لیے اپنا آخری میچ ۲؍اکتوبر کو کھیلیں گے، جب بوسنیا اور ہرزیگووینا کا مقابلہ نیشنز لیگ میں سویڈن سے ہوگا۔
بوسنیا اور ہرزیگووینا کے لیجنڈری فٹبالر اور مانچسٹر سٹی کے سابق اسٹار ایڈن زیکو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ ۴۰؍ سالہ زیکو قومی ٹیم کے لیے اپنا آخری میچ ۲؍اکتوبر کو کھیلیں گے، جب بوسنیا اور ہرزیگووینا کا مقابلہ نیشنز لیگ میں سویڈن سے ہوگا۔زیکو نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پوسٹ کے ذریعے اپنے فیصلے کا اعلان کیا اور گزشتہ ۲۰؍ سالہ بین الاقوامی کریئر کی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کی جرسی پہن کر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ان کے لیے فٹبال کی جانب سے ملنے والا سب سے قیمتی تحفہ تھا۔
زیکو نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ کبھی کبھی وہ سوچا کرتے تھے کہ ان کے ریٹائرمنٹ کا دن کب آئے گا، لیکن انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ اس اعلان کے وقت وہ اتنے جذباتی ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ۲؍ اکتوبر کو سویڈن کے خلاف میچ قومی ٹیم کے لیے ان کا اگلا اور آخری مقابلہ ہوگا۔ زیکو کے مطابق اپنے ملک کی جرسی پہننے سے جو فخر انہیں محسوس ہوتا تھا، اس کا موازنہ ان کے کریئر کی کسی اور کامیابی سے نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق ملک کی نمائندگی کرنا ان کا بچپن کا خواب تھا اور انہوں نے قومی ٹیم کے لیے کھیلے گئے ہر میچ میں اس خواب کو اپنے ساتھ رکھا۔
ایڈن زیکو نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے لیے ۱۵۱؍ بین الاقوامی میچز کھیلے اور ۷۳؍ گول کیے۔ وہ قومی ٹیم کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔تقریباً دو دہائیوں پر محیط بین الاقوامی کریئر کے دوران جیکو نے بوسنیا کی فٹبال ٹیم کے لیے کئی یادگار کامیابیاں حاصل کیں اور ملک کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم شناخت بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔زیکو نے تقریباً ۲۰؍ سال قبل ترکی کے خلاف اپنے پہلے بین الاقوامی میچ کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میچ کے بعد بہت کچھ تبدیل ہوگیا، وہ خود بھی بدل گئے، لیکن بوسنیا کی قومی ٹیم کی جرسی کے لیے ان کی محبت کبھی نہیں بدلی۔
یہ بھی پڑھئے:بابر اعظم اور برطانیہ کے کنگ چارلس کی دلچسپ گفتگو، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
زیکو نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کو عالمی فٹبال کے بڑے اسٹیج تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ءمیں پہلی مرتبہ بوسنیا کو فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بعد میں ۲۰۲۶ء میں بھی بوسنیا کی ٹیم نے عالمی کپ کے آخری ۳۲؍ کے مرحلے تک رسائی حاصل کی، جس میں زیکو کی خدمات کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے بارے میں جیکو نے کہا کہ اب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ قومی ٹیم سے پیچھے ہٹنے کا صحیح وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ۴۰؍ سال کی عمر تک قومی ٹیم میں کھیلتے رہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ہر مرتبہ ٹیم کے لیے اپنا سب کچھ دینے کی کوشش کی۔ زیکو کے الفاظ میں، انہوں نے ہر میچ میں پوری محنت، جذبہ اور عزم کے ساتھ بوسنیا کی نمائندگی کی۔
یہ بھی پڑھئے:میری ناکامیوں نے والدین کو بے بس کر دیا تھا: میگھنا گلزار
بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کے باوجود ایڈن زیکو نے مکمل طور پر فٹبال کو خیرباد نہیں کہا ہے۔ وہ کلب فٹبال میں اپنا سفر جاری رکھیں گے اور جرمن کلب شالکے کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔ایڈن زیکو کا ریٹائرمنٹ کا اعلان بوسنیا اور ہرزیگووینا کی فٹبال تاریخ کے ایک اہم باب کے اختتام کی علامت ہے۔ ۱۵۱؍میچز، ۷۳؍ گول، ورلڈ کپ میں ملک کی نمائندگی اور قومی ٹیم کے لیے دو دہائیوں کی خدمات نے انہیں ملک کے عظیم ترین فٹبالرز میں شامل کردیا ہے۔