• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کی امریکی لاگت ۶ء۴۳؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی، میزائل ذخائر پر بھی تشویش

Updated: September 20, 2026, 3:05 PM IST | Washington

امریکی سینٹرل کمانڈ کا تازہ تخمینہ ۳؍ ستمبر تک کا ہے؛ ہتھیاروں کی لاگت ۱ء۲۸؍ ارب ڈالر۔ پینٹاگون کے مطابق ۱۸؍ امریکی فوجی ہلاک اور ۸۳۰؍ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

A US warplane destroyed in Iranian attacks. Photo: X
ایرانی حملوں میں تباہ ایک امریکی جنگی طیارہ۔ تصویر: ایکس

ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ کے فوجی اخراجات ۶ء۴۳؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے تازہ تخمینے کے مطابق یہ لاگت ۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک کی ہے اور اس میں جنگی کارروائیوں، ہتھیاروں، فوجی سازوسامان کے نقصانات اور دیگر فوجی اخراجات شامل ہیں۔ یہ اب تک سامنے آنے والا سب سے تازہ امریکی فوجی تخمینہ ہے۔ یہ جنگ ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی۔ اس سے قبل کانگریس کے غیر جانب دار کانگریشنل بجٹ آفس نے اندازہ لگایا تھا کہ یکم اگست تک جنگ پر تقریباً ۳۸؍ ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے۔ ادارے نے یہ بھی کہا تھا کہ جنگ کی شدت کے لحاظ سے امریکی اخراجات میں ہر ماہ مزید تقریباً ۲؍ سے ۳؍ ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ایران میں امریکی جنگی جرائم کے معقول شواہد ملے‘‘

تازہ اعداد و شمار میں سب سے بڑا حصہ جنگی ہتھیاروں کا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق استعمال شدہ گولہ بارود اور میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیار خریدنے یا تیار کرنے کی لاگت ۱ء۲۸؍ ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں اس مد میں ۶؍  ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے؛ کانگریشنل بجٹ آفس کے پہلے تخمینے میں ہتھیاروں کی لاگت ۷ء۲۱؍ ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔ تازہ تخمینے میں تقریباً ۲ء۱۱؍ ارب ڈالر پہلے ہی منظور شدہ جنگی آپریشنز کے اخراجات جبکہ تقریباً ۳ء۴؍ ارب ڈالر فوجی سازوسامان کے نقصان یا تباہی کی تلافی کے لیے شامل ہیں۔ تاہم اس میں مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل بحالی کی لاگت شامل نہیں ہے۔ جنگ کے دوران امریکی فوج کے مہنگے ترین وسائل میں دفاعی میزائل بھی شامل ہیں۔ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے نظاموں کے ذریعے استعمال ہونے والے میزائل روکنے والے میزائلوں کے ذخائر میں کمی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ امریکی اور نیٹو حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یورپ میں ایسے میزائل روکنے والے ہتھیاروں کی کمی ’’انتہائی سنگین‘‘ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ سعودی عرب کو بھی اپنے دفاعی میزائل ذخائر میں کمی کا سامنا ہے اور وہ علاقائی و مغربی اتحادیوں سے مدد حاصل کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنگ کے درمیان ایرانی صدر پیزشکیان امریکہ جائینگے

ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں سے بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کی سیکڑوں عمارتیں اور دیگر تنصیبات متاثر یا تباہ ہوئی ہیں۔ ان نقصانات کی مکمل بحالی کا خرچ ۶ء۴۳؍ ارب ڈالر کے موجودہ تخمینے میں شامل نہیں ہے۔ انسانی نقصان کے حوالے سے پینٹاگون کے عوامی اعداد و شمار کے مطابق ایران جنگ کے آغاز سے اب تک ۱۸؍ امریکی فوجی ہلاک اور ۸۳۰؍ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اصل ہلاکتیں سرکاری عوامی ریکارڈ میں درج تعداد سے زیادہ ہوسکتی ہیں۔ اخبار کے مطابق ۵؍ حکام نے کم از کم ۲۲؍ فوجیوں کی ہلاکت بتائی، جبکہ ایک اور اہلکار نے تعداد ۲۳؍ بتائی؛ پینٹاگون نے اس فرق پر فوری طور پر تفصیلی وضاحت نہیں کی۔ جنگ کا اثر صرف امریکی دفاعی بجٹ تک محدود نہیں رہا۔ خطے میں کشیدگی نے تیل کی قیمتوں، عالمی اسٹاک مارکیٹ اور توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ اسی دوران دفاعی بجٹ کو تاریخی سطح تک لے جانے کی کوشش کر رہی ہے اور کانگریس سے ایران جنگ سمیت دیگر دفاعی ترجیحات کے لیے ۹۵؍ ارب ڈالر کے اضافی پیکیج کی منظوری بھی چاہتی ہے۔ پینٹاگون نے مجموعی طور پر ۵ء۱؍ ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی حمایت کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK