اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کا اپنی رپورٹ میں انکشاف، تہران پر بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کاالزام عائد کیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 1:03 PM IST | Agency | New York
اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کا اپنی رپورٹ میں انکشاف، تہران پر بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کاالزام عائد کیا گیا۔
ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال جاننے کے لئے اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ یہ یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ امریکہ نے ایران میں اسکول اور ایک رہائشی علاقے پر حملوں کی صورت میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ اور رواں سال احتجاجی مظاہروں میں شریک افراد کو قتل کیا، حراست میں لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا جو کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔ ایران میں شہری بیک وقت دو طرفہ تشدد کی زد میں آ رہے ہیں۔ ایک جانب حکومت کی جانب سے مظاہروں کو کچلنے کے لئے پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کی افواج ان پر مہلک فضائی حملے کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:۹؍سال سے بند آزاد میدان کے متعدد پچوں کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دو واضح طور پر قابل شناخت شہری اہداف پر اندھا دھند حملے کئے جن میں ایک میناب میں واقع پرائمری سکول اور دوسرا لامرد میں کھیلوں کا مرکز اور رہائشی علاقہ شامل ہیں۔ اسکول پر حملے میں۱۲۳؍ بچوں سمیت۱۵۷؍ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دوسرے حملے میں۲۲؍ شہری ہلاک اور۱۰۰؍سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
مشن کو ملنے والے شواہد اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ حملے امریکہ نے کئے اور ان میں استعمال ہونے والے میزائل انتہائی غیرواضح نوعیت کے تھے جنہیں کسی مخصوص عسکری ہدف کی جانب متعین نہیں کیا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:جنسی زیادتی معاملہ: متاثرہ کے اہل خانہ سےوی بی اے وفد کی ملاقات
ماہرین نے ایران اور امریکہ دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کریں۔ اس میں یہ ضمانت بھی شامل ہو سکتی ہے کہ مبینہ جرائم دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے جبکہ متاثرہ افراد کو معاوضہ یا دیگر مناسب تلافی بھی فراہم کی جائے۔تفتیش کاروں کے مطابق، دسمبر۲۰۲۵ء میں ایرانی حکومت کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے ابتدا ءمیں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خلاف ردعمل تھے لیکن بعد میں سیاسی تبدیلی کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔یہ احتجاج تیزی سے ایران کے تمام ۳۱؍صوبوں اور۲۰۰؍ سے زیادہ شہروں تک پھیل گئے اور اب بھی جاری ہیں۔حکومت نے احتجاج کے جواب میں انٹرنیٹ اور موبائل مواصلاتی نظام بند کر دیا جس کے باعث شہریوں کے لئے طبی امداد طلب کرنا بھی مشکل ہو گیا۔ دوسری جانب، سیکوریٹی فورسیز نے مظاہرین اور راہ گیروں کے خلاف مہلک گولہ بارود استعمال کیا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس کارروائی میں مبینہ طور پر کم از کم۲۲۱؍ بچے بھی ہلاک ہوئے۔
وہائٹ ہاؤس نے رپورٹ مسترد کی
وہائٹ ہاؤس نے ایران میں امریکی حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگی جرائم کا ارتکاب کیاگیا ۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے رپورٹ کے نتائج کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع میں جنگی جرائم کا ارتکاب صرف ایرانی حکومت نے کیا ہے۔