Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ میں داخلے سے انکار کے بعد صومالی ریفری کا وطن واپسی پر شاندار استقبال

Updated: June 10, 2026, 8:34 PM IST | Mogadishu

امریکہ میں داخلے سے انکار کے بعد صومالی ریفری کی وطن واپسی پر شاندار استقبال کیا گیا، جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹرٹیڈروس ادانوم گیبریوسس نے صومالی ریفری عمر ارتان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

Omar Artan received a grand welcome upon his return home. Photo: X
عمر ارتان کا وطن واپسی پر شاندار استقبال کیا گیا۔ تصویر: ایکس

صومالی فٹ بال ریفری عمر ارتان کو جب امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں ریفرنگ نہیں کر سکے، تو وطن واپسی پر ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔بدھ کو دارالحکومت موغادیشو کے ادن ادے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سینئر سرکاری اہلکاروں بشمول وزیر کھیل محمد عبدالقادر علی، وزیر دفاع احمد معلم فقی، اور صومالی فٹ بال فیڈریشن کے سینئر عہدیداروں نے ان کا استقبال کیا۔ارتان نے آمد کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’میں آپ سے وعدہ کر سکتا ہوں کہ میں اگلے فیفا ورلڈ کپ میں ریفرنگ کروں گا، اور میں فیفا اور صومالی عوام کا ان کی حمایت کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ ارتان پہلے صومالی ریفری بننے والے تھے جو فیفا ورلڈ کپ میں ریفرنگ کریں گے۔انہوں نے اس سے قبل ایک بیان میں کہاتھا، ’’مخالف حالات کے باوجود، میں مثبت موڈ میں ہوں اور اپنے ریفرنگ کیریئر میں آنے والے اگلے چیلنجز پر توجہ مرکوز کر رہا ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۶ء ورلڈ کپ ریفریز کی تنخواہیں کتنی ہوں گی ، معلومات سامنے آگئیں

بعد ازاں صومالی فٹ بال فیڈریشن نے ارتان کے سفر کو صومالیہ، سی ای سی اے ایف اے (مشرقی و وسطی افریقہ فٹ بال ایسوسی ایشنز کی کونسل) اور افریقی فٹ بال کے لیے’’ فخر ‘‘ قرار دیا۔ تاہم امریکہ میں ان کے داخلے سے انکار نے بین الاقوامی سطح پر ہنگامہ برپا کر دیا جبکہ کچھ فٹ بال شائقین نے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ ارتان کو حال ہی میں افریقی فٹ بال کنفیڈریشن کی طرف سے۲۰۲۵ء کے لیے افریقہ کا بہترین ریفری قرار دیا گیا تھا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے۴؍ جون۲۰۲۵ء کو جاری کردہ ایک اعلامیے میں صومالی شہریوں کے ملک میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔اس میں کہا گیا تھا، ’’صومالیہ کے شہریوں کا بطور تارکین وطن اور غیر تارکین وطن ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخلہ مکمل طور پر معطل کیا جاتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نائیجر کے صحرا میں ٹرک خراب ہونے کے بعد کم از کم ۴۹؍ افراد پیاس سے ہلاک

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادانوم گیبریوسس نے صومالی ریفری عمر ارتان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ عمر ارتان کا بطور اولین صومالی ریفری ورلڈ کپ تک پہنچنا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارتان نے نہ صرف ورلڈ کپ کوالیفائی کیا بلکہ افریقہ کے بہترین ریفری کے طور پر تاریخ رقم کی، اور یہ کامیابی کسی بھی رکاوٹ سے کم نہیں ہوتی۔ٹیڈروس نے مزید کہا کہ ارتان اپنے پیشے کی بلند ترین سطح پر پہنچے اور اپنی کامیابی سے نوجوان صومالی نسل کو متاثر کیا۔بعد ازاں انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس میدان میں کھیلنے سے روکا گیا جس کے وہ حقدار تھے، لیکن یہ ان کی کہانی کا انجام نہیں ہوگا۔ٹیڈروس نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ارتان کے ساتھ کھڑی ہے، اور انہیں مزید بڑے مقابلوں کی امید ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK