Updated: September 06, 2026, 7:04 PM IST
| Tehran
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب(آئی آر جی سی) نے امریکی اقتصادی دباؤ اور ناکہ بندی کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کے نتائج واشنگٹن کی توقعات کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ تہران پہلے بھی طویل عرصے سے امریکی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے ۔
امریکی معیشت۔ تصویر:آئی این این
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب(آئی آر جی سی) نے امریکی اقتصادی دباؤ اور ناکہ بندی کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کے نتائج واشنگٹن کی توقعات کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ تہران پہلے بھی طویل عرصے سے امریکی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے اور اس نے متبادل تجارتی و مالی راستے اختیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرلی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے اگست میں کہا تھا کہ ایران کے پاس امریکی ’’اقتصادی جنگ‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف منصوبے اور منظرنامے موجود ہیں۔ ان کے مطابق اقتصادی جنگ ایران کے لیے کوئی نئی صورتحال نہیں، کیونکہ ملک پہلے ہی کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے۔ انہوں نے امریکی اقتصادی اقدامات کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کے راستے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان نے انڈرورلڈ کی دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا
دوسری جانب امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی کارروائیوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ’’Operation Economic Outcast‘‘ کے تحت ایران کی تیل آمدنی، مالیاتی نیٹ ورکس اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کی ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت اور پاسدارانِ انقلاب کے لیے آمدنی کے ذرائع محدود کرنا ہے۔ ۴؍ستمبر کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایک ترک سرمایہ کاری بینک اور اس سے وابستہ دو اداروں پر بھی پابندیاں عائد کیں۔ امریکہ نے ان اداروں پر ایران سے متعلق مالی لین دین میں سہولت کاری اور پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس سے وابستہ مالی سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کا الزام لگایا، جسے متعلقہ ادارے نے مسترد کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا۔
امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کی تیل برآمدات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق ایرانی خام تیل کی لوڈنگ مارچ ۲۰۲۶ء میں تقریباً ۲۰؍لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہوکر اگست میں صرف ۲ء۲؍ سے ۵۵ء۲؍ لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔ اس صورتحال نے ایران کے لیے زرمبادلہ کے سب سے اہم ذرائع میں سے ایک پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران کو ایشیا میں موجود تیرتے ہوئے تیل کے ذخائر پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ٹینکروں کی وجہ سے سپلائی کا سلسلہ بھی متاثر ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو ایرانی معیشت پر مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یوکی بھامبری اور این سری رام بالاجی یو ایس اوپن کے پہلے راؤنڈ سے باہر
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں آبنائے ہرمز مرکزی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یہ راستہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی کے بارے میں بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ نے ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے امریکی بحری سرگرمیوں کے خلاف جوابی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق سخت موقف اختیار کیا ہے۔
امریکہ کی حکمت عملی کا مقصد صرف ایرانی معیشت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ تہران کو مذاکرات اور اپنے مطالبات قبول کرنے پر مجبور کرنا بھی ہے۔ تاہم ایران کی قیادت اب تک دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ دوسری جانب طویل ناکہ بندی ایران میں مہنگائی، ایندھن کی قلت، تجارت میں کمی اور زرمبادلہ کے بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے۔