Updated: October 16, 2026, 8:01 PM IST
| New York
امریکہ نے بعض غیر ملکی تارکینِ وطن کے ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد اسے خودکار طور پر ۵۴۰؍ دن تک بڑھانے کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ نافذ کردیا ہے۔ اس تبدیلی سے امریکہ میں کام کرنے والے متعدد ہندوستانی شہریوں، خصوصاً ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ملازمین کے بعض شریکِ حیات اور مستقل رہائش کے منتظر درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ اور مودی۔ تصویر:آئی این این
امریکہ نے بعض غیر ملکی تارکینِ وطن کے ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد اسے خودکار طور پر ۵۴۰؍ دن تک بڑھانے کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ نافذ کردیا ہے۔ اس تبدیلی سے امریکہ میں کام کرنے والے متعدد ہندوستانی شہریوں، خصوصاً ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ملازمین کے بعض شریکِ حیات اور مستقل رہائش کے منتظر درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکوریٹی کے حتمی ضابطے کے مطابق، ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء سے بعض زمروں میں ورک پرمٹ کی تجدید کے لیے درخواست جمع کرانے سے ملازمت کی اجازت خودکار طور پر جاری نہیں رہے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر موجودہ ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہوجائے اور تجدید کی درخواست پر فیصلہ ابھی نہ آیا ہو تو متعلقہ شخص کو نئی منظوری ملنے تک کام روکنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی حکام نے اکتوبر ۲۰۲۵ء میں عبوری ضابطے کے ذریعے بعض زمروں کے ورک پرمٹ کی خودکار توسیع ختم کی تھی، جسے اب حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس سے پہلے اہل درخواست گزار اگر اپنے ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہونے سے قبل تجدید کی درخواست جمع کرادیتے تھے تو انہیں درخواست پر فیصلے میں تاخیر کی صورت میں زیادہ سے زیادہ ۵۴۰؍ دن تک کام جاری رکھنے کی خودکار اجازت مل سکتی تھی۔ یہ سہولت سرکاری ادارے میں درخواستوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور کارروائی میں تاخیر کے باعث متعارف کرائی گئی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ملازمت کی اجازت دوبارہ دینے سے پہلے درخواست گزار کی اہلیت اور ضروری جانچ پڑتال مکمل کرنا ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کارتک آرین اور سری لیلا کی رومانوی میوزیکل فلم ملتوی ، ۲۰۲۷ء میں ریلیز متوقع
اس تبدیلی سے خاص طور پر ان ہندوستانی شہریوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جو ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ملازمین کے شریکِ حیات ہیں اور ایچ فور ویزا کے تحت کام کرنے کی اجازت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ میں مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے والے بعض افراد، جن کی درخواست زیرِ غور ہے اور جو ملازمت کی اجازت کے لیے الگ دستاویز رکھتے ہیں، بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اگر ان کا موجودہ ورک پرمٹ ختم ہوجائے اور تجدید منظور نہ ہوئی ہو تو انہیں عارضی طور پر ملازمت چھوڑنا پڑسکتی ہے، جس سے آمدنی، ملازمت کے تسلسل اور دیگر فوائد پر اثر پڑسکتا ہے۔ تاہم، یہ ضابطہ تمام غیر ملکی ملازمین پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتا اور ہر شخص کی صورتِ حال اس کے ویزا، ملازمت کی اجازت کے زمرے اور موجودہ قانونی حیثیت کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔
یہ تبدیلی بعض زمروں میں ورک پرمٹ کی تجدید کی درخواستوں پر لاگو ہوتی ہے، نہ کہ ہر غیر ملکی ملازم کی ملازمت کی اجازت پر۔ امریکی حکام کے مطابق۳۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے پہلے دائر کی گئی اہل تجدید کی درخواستوں کے تحت پہلے سے ملنے والی خودکار توسیع اس نئے ضابطے سے متاثر نہیں ہوتی۔ اسی طرح، بعض افراد کی ملازمت کی اجازت ان کے بنیادی ویزا یا قانونی حیثیت سے منسلک ہوتی ہے، اس لیے ان کی صورتِ حال مختلف ہوسکتی ہے۔ بین الاقوامی طلبہ کے لیے بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ضابطہ خودبخود تمام طلبہ کی ملازمت کی اجازت ختم نہیں کرتا؛ اثر کا انحصار متعلقہ اجازت نامے کے زمرے پر ہوگا۔
نئی پالیسی کے تحت ملازمین کو اپنے ورک پرمٹ کی میعاد اور تجدید کی درخواست کی پیش رفت پر پہلے سے زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ اگر تجدید کا فیصلہ موجودہ اجازت کی میعاد ختم ہونے سے پہلے نہیں آتا تو بعض افراد کو کام روکنا پڑسکتا ہے۔ اس سے ان کمپنیوں کو بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں جو ایسے ملازمین پر انحصار کرتی ہیں، کیونکہ اجازت نامے میں وقفے کی صورت میں انہیں ملازم کو عارضی طور پر کام سے ہٹانا پڑسکتا ہے۔ درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مخصوص صورتِ حال کے مطابق امریکی شہریت اور امیگریشن خدمات کے ادارے کی ہدایات دیکھیں اور ضرورت پڑنے پر مستند امیگریشن وکیل سے مشورہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے:سوریہ کمار یادو نے شاہ رخ خان سے منسوب منصوبے میں سرمایہ کاری کی
اس پالیسی کو عدالت میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق، ستمبر ۲۰۲۶ء میں کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت نے مقدمے میں شامل درخواست گزاروں کے حوالے سے عبوری ضابطے کے نفاذ پر محدود پابندی عائد کی تھی۔ یہ حکم تمام متاثرہ افراد کے لیے ملک گیر چھوٹ نہیں ہے۔ حتمی ضابطہ ۱۴؍اکتوبر ۲۰۲۶ء سے نافذ ہے، تاہم مخصوص مقدمات اور درخواست گزاروں پر اس کے اطلاق کے لیے متعلقہ عدالتی حکم اور انفرادی حالات دیکھنا ضروری ہے۔ امریکی ورک پرمٹ کی خودکار توسیع ختم ہونے سے ہندوستانی شہریوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ تجدید کی درخواست جمع کرانا اب بعض زمروں میں کام جاری رکھنے کی ضمانت نہیں رہا۔ اس لیے متاثرہ افراد کو اپنی اجازت کی میعاد، درخواست کے زمرے اور قانونی حیثیت کی تصدیق بروقت کرنی چاہیے تاکہ ملازمت میں ممکنہ تعطل سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔