دنیا کو آنے والے ۱۰؍ سے ۱۵؍ برسوں میں روزگار کے ایک بڑے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 9:02 PM IST | New Delhi
دنیا کو آنے والے ۱۰؍ سے ۱۵؍ برسوں میں روزگار کے ایک بڑے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دنیا کو آنے والے ۱۰؍ سے ۱۵؍ برسوں میں روزگار کے ایک بڑے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی بینک کے صدر اجے بانگا اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے خبردار کیا ہے کہ اگر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تقریباً ۸۰؍کروڑ نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں مل سکیں گی۔ اندازوں کے مطابق، آئندہ ڈیڑھ دہائی میں ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں تقریباً ۲ء۱؍ ارب نوجوان کام کرنے کی عمر کو پہنچیں گے، لیکن موجودہ رفتار سے ان کے لیے صرف ۴۰؍ کروڑ ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس طرح تقریباً ۸۰؍کروڑ ملازمتوں کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بحران کی ایک بڑی وجہ ترقی پذیر ممالک میں نوجوان آبادی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد اور اس کے مقابلے میں روزگار کے مواقع کی سست رفتار ہے۔ کئی ممالک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ہر سال تعلیم مکمل کرکے ملازمتوں کی تلاش میں نکلتی ہے، لیکن معیشت اتنی نئی ملازمتیں پیدا نہیں کرپارہی کہ ان سب کو روزگار فراہم کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ معاشی ترقی کی سست رفتار، سرکاری قرضوں کا بڑھتا بوجھ، سرمایہ کاری میں کمی، توانائی کی بلند قیمتیں اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورت حال بھی روزگار کی فراہمی کو متاثر کررہی ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق۲۰۲۵ء سے ۲۰۳۵ء کے دوران ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں تقریباً ۲ء۱؍ ارب نوجوان کام کرنے کی عمر کو پہنچیں گے، جس سے ملازمتوں کی فراہمی کا چیلنج مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
روزگار کی کمی کا اثر صرف بے روزگاری تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس سے غربت، آمدنی میں عدم مساوات، سماجی بے چینی اور بیرون ملک ہجرت جیسے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ملازمت نہ ملنے کی صورت میں نوجوانوں کے لیے مالی خودمختاری حاصل کرنا، خاندان کی کفالت کرنا اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارۂ محنت کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵ء میں دنیا بھر میں ۱۵؍ سے۲۴؍ سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح۴ء۱۲؍ فیصد رہی، جبکہ تقریباً ۲۵؍ کروڑ ۷۰؍ لاکھ نوجوان نہ ملازمت کررہے تھے، نہ تعلیم حاصل کررہے تھے اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام میں شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’جیلر۲‘‘ کے خلاف مبینہ بدنیتی پرمبنی آن لائن جائزوں پر قانونی کارروائی کی تیاری
مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام بھی مستقبل کی ملازمتوں کی نوعیت تبدیل کررہے ہیں۔ بعض روایتی دفتری، انتظامی اور درمیانی مہارتوں والی ملازمتوں میں کمی کا خدشہ ہے، جبکہ سائنس، صحت، انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں میں نئی مہارتوں کی طلب بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کو صرف ملازمتیں ختم کرنے کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے نوجوانوں کو نئی مہارتیں سکھانے، پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے اور انہیں بدلتی ہوئی معیشت کے لیے تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون بھی اہم ہوگا۔
عالمی بینک نے روزگار کے بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے نجی سرمایہ کاری بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ایسے شعبوں کو فروغ دینے پر زور دیا ہے جہاں بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ ان میں زراعت اور زرعی کاروبار، بنیادی صحت کی خدمات، سیاحت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ قدر میں اضافہ کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف نئی ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں بلکہ مقامی کاروبار، چھوٹے اداروں اور نوجوانوں کے لیے آمدنی کے پائیدار ذرائع بھی سامنے آسکتے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے سرمایہ کاری کے ضوابط بہتر بنانے اور روزگار پیدا کرنے والے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد حکومتوں کو سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے، کاروباری رکاوٹیں کم کرنے اور نوجوانوں کی مہارتوں کو صنعتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دینا ہے۔ ان اقدامات کے لیے عالمی بینک گروپ اور دیگر ترقیاتی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:الکاراز نے ’ایرسٹے بینک اوپن‘ میں شرکت کے لیے وائلڈ کارڈ قبول کرلیا
ماہرین کے مطابق آئندہ برسوں میں نوجوان آبادی ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی ترقی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو مناسب تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، سرمایہ کاری اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر حکومتیں اور نجی شعبہ بروقت اقدامات کرنے میں ناکام رہے تو بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی معاشی اور سماجی دباؤ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر روزگار پیدا کرنے کی مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے تو یہی نوجوان آبادی پیداوار، کاروبار اور معاشی خوشحالی کو نئی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے۔
عالمی سطح پر ۸۰؍ کروڑ ملازمتوں کی متوقع کمی کا انتباہ دراصل حکومتوں، سرمایہ کاروں اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ مستقبل کے روزگار کے بحران سے نمٹنے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔ یہ اعداد و شمار پیش گوئی پر مبنی ہیں، حتمی نتیجہ نہیں؛ مناسب پالیسیوں، سرمایہ کاری اور تربیت کے ذریعے مستقبل میں ملازمتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔