Updated: January 08, 2026, 8:00 PM IST
| Copenhagen
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کے بیانات کے بعد ایک دہائیوں پرانا ڈنمارکی فوجی قانون دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے، جس کے تحت حملے کی صورت میں فوج کو فوری جوابی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ ڈنمارک نے واضح کیا ہے کہ۱۹۵۲ء کا یہ قانون آج بھی نافذ ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں فوج بلا حکم مزاحمت کرے گی۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم اور امریکی صدر ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
ڈنمارک کے فوجی، ایک دہائیوں پرانے فوجی قانون کے تحت، اگر امریکہ طاقت کے ذریعے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تو ’پہلے گولی چلائیں، بعد میں سوال کریں ‘ کے اصول پر عمل کریں گے۔ یہ ڈنمارک کا کوئی نیا بیان نہیں ہے، بلکہ یہ۱۹۵۲ء کے ایک قانون سے ماخوذ ہے جس کے تحت فوجیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی حملہ آور قوت پر ’فوراً‘ حملہ کریں، بغیر کسی حکم کا انتظار کئے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ روسی اور چینی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنےکیلئے امریکہ کو گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس بارے میں اب تک کی تمام معلومات درج ذیل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے امریکہ سے۶۶؍ بین الاقوامی تنظیموں کو نکالنے کے حکم نامے پر دستخط کردیا
’بندوقیں لے کر فوراً حملہ‘
۱۹۵۲ء سے نافذ ایک قانون کے مطابق، حملے کی صورت میں ڈنمارک کے فوجیوں کو’بندوقیں لے کر فوراً میدان میں اترنے‘ کا حکم ہے۔ ڈنمارک کی وزارتِ دفاع نے بدھ (۷؍ جنوری) کو ڈنمارک کے اخبار برلِنگسکے کو تصدیق کی کہ یہ قانون ’ابھی تک نافذ العمل ہے۔ ‘ڈنمارک کی اس اشاعت کے مطابق، اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو قانون یہ کہتا ہے کہ ’’جس فورس پر حملہ ہو، وہ فوراً لڑائی شروع کرے گی، بغیر کسی حکم کا انتظار کئے یا حکم مانگے، چاہے متعلقہ کمانڈرز کو اعلانِ جنگ یا حالتِ جنگ کا علم ہی نہ ہو۔ ‘‘
قانون کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے، ڈنمارک کی وزارتِ دفاع نے کہا:’’ملک پر حملے اور جنگ کے دوران فوجی دفاع کیلئے احتیاطی اقدامات سے متعلق حکم اب بھی نافذ ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ: امریکی ویزا بونڈ پالیسی میں مزید ۲۵؍ ممالک شامل
کیا اس کی ضرورت پڑے گی؟
حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں دی ہیں، چاہے وہ خریداری کے ذریعے ہو یا طاقت کے استعمال سے۔ امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کو ’قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ ‘ وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ خودمختار علاقے کو خریدنے کی ممکنہ امریکی پیشکش اس وقت ’صدر اور ان کی قومی سلامتی ٹیم کے زیرِ غور ہے‘، تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے فوجی طاقت کے استعمال کو بھی رد نہیں کیا۔ لیویٹ نے کہا:’’جب صدر ٹرمپ امریکی مفادات کا جائزہ لیتے ہیں تو تمام آپشنز ہمیشہ میز پر ہوتے ہیں لیکن صدر کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہوتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کیلئے فوج کے استعمال سمیت دیگر متبادلات پر تبادلہ خیال کررہے ہیں: وہائٹ ہاؤس
گرین لینڈ کی ’’علاقائی سالمیت ‘‘کے دفاع کیلئے یورپ تیار
منگل (۶؍جنوری) کو یورپ کے سات لیڈروں نے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور ڈنمارک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ گرین لینڈ کا دفاع’کبھی ترک نہیں کریں گے۔ ‘ اس بیان نے ٹرمپ کو مزید ناراض کر دیا، جنہوں نے ٹروتھ سوشل پر امریکہ کے نیٹو اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یاد دلایا کہ ’زیادہ تر اپنے بل ادا نہیں کر رہے تھے۔ ‘ٹرمپ نے کہا:’’تمام بڑے نیٹو مداحوں کیلئے یاد رکھیں، وہ ۲؍ فیصد جی ڈی پی پر تھے، اور زیادہ تر اپنے بل ادا نہیں کر رہے تھے، یہاں تک کہ میں آیا۔ امریکہ بے وقوفی سے ان کیلئے ادائیگی کر رہا تھا! میں نے، احترام کے ساتھ، انہیں ۵؍ فیصد جی ڈی پی تک پہنچایا، اور اب وہ فوراً ادائیگی کرتے ہیں۔ ‘‘اور ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے’’اکیلے ہی ۸؍جنگیں ختم کیں۔ ‘‘