Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی تاریخ میں اس سے زیادہ بدعنوان صدر نہیں دیکھا: الہان عمرکا ٹرمپ پرسخت حملہ

Updated: June 04, 2026, 5:01 PM IST | Washington

امریکی کانگریس رکن الہان عمر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مینیسوٹا اور صومالی نژاد امریکیوں پر تنقید کے بعد سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ گارجین میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں انہوں نے ٹرمپ پر نسل پرستی، سیاسی انحراف اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ عمر نے متعدد متنازع معافیوں، مالی بدعنوانی اور مینیسوٹا میں میڈیکیڈ فنڈنگ روکنے کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔

US Congresswoman Ilhan Omar, Democrat. Photo: X
امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن الہان عمر۔ تصویر: ایکس

امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن الہان عمر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مینیسوٹا اور صومالی نژاد امریکی کمیونٹی پر حالیہ تنقید کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی تاریخ میں ’’اس سے زیادہ ڈھٹائی سے بدعنوان صدر کبھی نہیں آیا۔‘‘ گارجین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں الہان عمر نے الزام لگایا کہ ٹرمپ اپنی سیاسی ناکامیوں اور بدعنوانیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بار بار ان اور صومالی برادری کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’کوئی بھی سنجیدہ مبصر یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب بھی ٹرمپ کی اپنی ناکامیاں اور بدعنوانی نمایاں ہوتی ہیں تو وہ میرے اور صومالی کمیونٹی کے خلاف دشمنی کو ہوا دینے لگتے ہیں۔ وہ مسلسل جھوٹ، نسل پرستی اور توجہ ہٹانے کی پرانی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں۔‘‘
گزشتہ ہفتے کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران ٹرمپ نے مینیسوٹا میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے صومالی نژاد افراد اور الہان عمر پر سخت تنقید کی تھی۔ صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ بعض صومالی نژاد افراد ریاست میں مالیاتی فراڈ کے واقعات سے منسلک رہے ہیں۔ الہان عمر نے جواب میں کہا کہ ٹرمپ درحقیقت مالی بدعنوانی کے خلاف نہیں بلکہ سیاسی فائدے کے لیے اس موضوع کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کو دھوکہ دہی یا فراڈ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے بارہا بڑے مالی جرائم میں ملوث افراد کو معاف کیا یا ان کے لیے نرمی برتی ہے۔‘‘
انہوں نے متعدد ایسے افراد کا حوالہ دیا جنہیں ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں معاف کیا تھا یا جن کی سزاؤں میں کمی کی گئی تھی، جن میں صحت کی دیکھ بھال، بینک فراڈ اور مالیاتی جرائم سے وابستہ شخصیات شامل تھیں۔ الہان عمر نے مینیسوٹا میں ’’فیڈنگ آور فیوچر‘‘ اسکینڈل کا بھی ذکر کیا، جس میں کووڈ ۱۹؍ وبا کے دوران بچوں کے کھانے کے پروگرام کے لیے مختص رقوم میں مبینہ بدعنوانی سامنے آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ضروری تھی، تاہم اس واقعے کو پوری صومالی کمیونٹی کے خلاف استعمال کرنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب کو اس نقصان پر تشویش ہونی چاہیے جو ان مجرموں نے عوامی اعتماد کو پہنچایا، لیکن دھوکہ دہی کے خلاف یکساں کارروائی کے بجائے ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے اسے نسل پرستانہ اور سیاسی تماشے میں بدل دیا ہے۔‘‘
الہان عمر نے مزید الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مینیسوٹا کے خلاف وفاقی میڈیکیڈ فنڈنگ کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے ریاست کے لیے مختص ۳۵۰؍ ملین ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں روک دی ہیں اور مزید اربوں ڈالر کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو ریاست کے تقریباً ۱۲؍ لاکھ افراد کی صحت کی سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اپنے مضمون کے اختتام پر الہان عمر نے کہا، ’’ٹرمپ اور ریپبلکن قیادت بدعنوانی کے خلاف حقیقی جنگ میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ عوامی وسائل سے فائدہ اٹھانے، اپنی بدعنوانی سے توجہ ہٹانے اور اپنے سیاسی اتحادیوں کو نوازنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ امریکی عوام ایک ایسے صدر سے بہتر کے مستحق ہیں جو احتساب کے نام پر اپنے مخالفین کو نشانہ بناتا ہو۔‘‘
واضح رہے کہ الہان عمر اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدگی نئی نہیں۔ ۲۰۱۹ء میں کانگریس میں منتخب ہونے کے بعد سے عمر متعدد بار ٹرمپ کے حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں، جبکہ ٹرمپ کے ناقدین ان تبصروں کو نسل پرستانہ اور امتیازی قرار دیتے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK