Updated: August 19, 2026, 2:59 PM IST
| New York
امریکی حکومت نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی صدر ٹوموکو اکانے اور سینئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ واشنگٹن کے اس اقدام پر آئی سی سی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی پابندیاں قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے۔ تصویر: آئی این این
امریکی محکمۂ خارجہ نے منگل کو کہا کہ اس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی صدر ٹوموکو اکانے، جو جاپانی شہری ہیں، اور آئی سی سی کےسینئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے، جو سینیگال سے تعلق رکھتے ہیں، پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت امریکہ کے دائرۂ اختیار میں موجود ان کے کسی بھی اثاثے کو منجمد کر دیا جائے گا، یا وہ اثاثے جو امریکی مالیاتی نظام کے رابطے میں آئیں گے، منجمد ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا، ’’ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت ایک بدعنوان اور انتہائی سیاسی زدہ بین الاقوامی عدالت ہے، جس نے بدنیتی سے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ ہم ریاستی خودمختاری پر اس کے حملے کو برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر: ایران جنگ و امیگریشن پرعوامی رائے
یہ اقدام آئی سی سی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ ترین کارروائی ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ عدالت نے اسرائیل اور امریکہ جیسے ان ممالک کے فوجیوں، کمانڈروں اور سیاسی عہدیداروں کی تحقیقات یا مقدمات چلا کر اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے، جو عدالت کے رکن نہیں ہیں۔ آئی سی سی نے بھی فوری ردعمل دیتے ہوئے، جیسا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ اقدامات کے موقع پر کیا تھا، کہا کہ یہ پابندیاں ’’قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں۔ ‘‘ عدالت نے کہا، ’’جب قانونی کارروائی کرنے والے عدالتی اہلکاروں کو قانون پر عمل درآمد کرنے کی پاداش میں دھمکایا جاتا ہے تو خود بین الاقوامی قانونی نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔‘‘