امریکی عوام میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ ایران کے ساتھ طویل تنازع، بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت اور امیگریشن کے حوالے سے کم ہوتی عوامی حمایت ہے۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 2:23 PM IST | New Delhi
امریکی عوام میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ ایران کے ساتھ طویل تنازع، بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت اور امیگریشن کے حوالے سے کم ہوتی عوامی حمایت ہے۔
امریکی عوام میں ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ ایران کے ساتھ طویل تنازع، بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت اور امیگریشن کے حوالے سے کم ہوتی عوامی حمایت ہے۔ یہ صورتحال وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔ محض ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں امریکی عوام کا ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں موقف انتہائی منفی ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ ’’میک امریکا گریٹ اگین‘‘ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے اہم وعدوں میں بیرونی شہریوں کے لیے امیگریشن راستوں میں کمی کرنا اور ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل تھا۔
اس ماہ کے اوائل میں کئے گئے ایک سروے میں ان کی مقبولیت۳۵؍ فیصد تک گر گئی تھی، جو ان کی موجودہ مدت کی سب سے کم سطح تھی، لیکن پیر (امریکی وقت) کو ختم ہونے والے نئے رائٹرز سروے نے اس عدد کو مزید نیچے پہنچا دیا۔چار روزہ روئٹرز/ایپسوس پول، جس میں ملک بھر کے۱۱۶۶؍ بالغ امریکیوں نے شرکت کی اور جو۱۷؍ اگست کو آن لائن بند ہوا (جس میں غلطی کا امکان۳؍ فیصد تھا)، نے ظاہر کیا کہ ٹرمپ کی مقبولیت ان کی صدارت کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ صرف۳۳؍ فیصد امریکی جواب دہندگان نے ریپبلکن لیڈرکی قیادت کی توثیق کی، جبکہ۶۴؍ فیصد اکثریت نے ناپسندیدگی ظاہر کی۔ نئے رائٹرز پول کے یہ اعداد و شمار دسمبر۲۰۱۷ء میں ان کی گزشتہمدت کے کم ترین سطح کے برابر ہیں۔حیران کن طور پر۸۰؍ فیصد امریکیوں کو یقین ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی، جس نے ٹرمپ کی مسلسل گرتی ہوئی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ ۲۰۲۵ءمیں جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپس آئے تو امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جو کہ ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جس سے دنیا کی۲۰؍ فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ نتیجتاً،۲۸؍ فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے امریکیوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ جبکہ موجودہ واقعات ٹرمپ کے خود ساختہ ’امن پسند‘ عالمی لیڈراور افراطِ زر پر قابو پانے کے وعدوں کے بالکل برعکس ہیں۔نئے رائٹرز پول سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً۸۰؍ فیصد امریکیوں (جن میں۸۷؍ فیصد ڈیموکریٹس اور۷۱؍ فیصد ریپبلکن شامل ہیں) کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ امریکی جنگ ’طویل عرصے تک جاری رہے گی‘۔ صرف۱۶؍ فیصد بالغ امریکیوں کو یقین ہے کہ یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: گوتم اڈانی کو مقدمات سے بری کیوں کیا گیا؟
دریں اثنا، روئٹرز اور ایپسوس پول کے مطابق، صرف پانچ میں سے ایک امریکی (جس میں صرف نصف ریپبلکن شامل ہیں) کا خیال ہے کہ ایران کی جنگ اس کے قابل تھی۔ جبکہ ٹرمپ نے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو ایران کے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام سے مشروط کردیا۔مجموعی طور پر، نیویارک ٹائمز کی مرتب کردہ مختلف سروے رپورٹس کے مطابق، کچھ پولنگ اداروں نے ٹرمپ کی مقبولیت۳۰؍ فیصد تک گرتی اور۴۰؍ فیصد تک بڑھتی ہوئی پائی ہے۔حالیہ کوئنیپییک یونیورسٹی کے پول میں۶۰؍ فیصد رائے دہندگان نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی مخالفت کی، جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ وہ فروری کے آخر میں تہران کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کرنے پر ’کبھی معافی نہیں مانیں گے‘۔
اسی طرح سی این این اور ایس ایس آر ایس کے ایک اور پول سے پتہ چلا کہ۷۴؍ فیصد امریکیوں (جن میں۴۳؍ فیصد ریپبلکن شامل ہیں) نے کہا کہ مغربی ایشیا کی جنگ اس کے قابل نہیں تھی، خاص طور پر امریکہ پر اس کے مالی بوجھ اور امریکی ہلاکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ بعد ازاں پینٹاگون کے سرکاری جنگی ہلاکتوں کے ڈیٹا بیس، جو۱۱؍ اگست کو آخری بار اپ ڈیٹ ہوا، کے مطابق ابتدائی امریکہ-ایران جنگ (جسے آپریشن ایپک فیوری کہا جاتا ہے) میں۱۴؍ امریکی اہلکار ہلاک اور ۴۱۷؍زخمی ہوئے ہیں۔دوسری طرف، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے۲۱؍ جولائی کو سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ ایران کی جنگ کا تخمینہ۳۷؍ اعشاریہ ۵؍ ارب ڈالر ہے۔ جبکہ یہ عدد مئی کے اوائل میں تقریباً۲۹؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر سامنے آیا۔اس افراتفری کے پیشِ نظر۱۴؍ سے۱۷؍ اگست ۲۰۲۶ءکے تازہ ترین رائٹرز/ایپسوس پول میں یہ بھی پایا گیا کہ اب زیادہ امریکی ڈیموکریٹس کو زندگی کی لاگت کے حوالے سے بہتر نقطۂ نظر رکھنے والا سمجھتے ہیں جو ایک دہائی میں پہلی بار ہوا ہے۔۳۸؍ فیصد امریکی ووٹروں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹس معیشت کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں، جبکہ۳۵؍ فیصد ریپبلکن کے طریقۂ کار پر اعتماد رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ تبدیلی خاص طور پر ایک تشویشناک الٹ پھیر ہے جسے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل معیشت کے محاذ پر ریپبلکن کی مقبولیت کیلئے ایک بار معمول سمجھا جاتا تھا۔یہ خدشات ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل ایجوکیٹرز اور ریسرچ فرم جے بی انٹرنیشنل کی پیش گوئیوں سے بھی ہم آہنگ ہیں، جن کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کریک ڈاؤن سے امریکی معیشت کو ممکنہ طور پر ۳؍ اعشاریہ ۴؍رب ڈالر کے محصولات اور ملک بھر میں تقریباً۴۰؍ ہزار ملازمتوں کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ- ایران۶۰؍ روزہ مفاہمت نامہ کی مدت ختم، اہم اہداف حاصل نہ ہوسکے
معیشت کا ممکنہ نقصان اس رپورٹ سے جڑا ہوا ہے جس میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بین الاقوامی طلبہ کا مجموعی اندراج۹؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد (۱۱۱۰۰۰ کم ہو جائے گا۔اگرچہ امریکی امیگریشن کے معاملے پر ریپبلکن نقطۂ نظر کو ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ترجیح دیتے رہتے ہیں، لیکن ان کے درمیان خلا خطرناک حد تک کم ہو کر ایک فیصدی نقطہ پر آ گیا ہے۔تازہ ترین رائٹرز پول کے مطابق، تقریباً۴۰؍ فیصد رجسٹرڈ رائے دہندگان نے کہا کہ ریپبلکن کا امیگریشن کے حوالے سے بہتر نقطۂ نظر ہے، جبکہ۳۸؍ فیصد نے ڈیموکریٹس کو چنا۔ذہن نشین رہے کہ جنوری ۲۰۲۵ءمیں جب ٹرمپ دوبارہ دفتر آئے تو ریپبلکن۲۶؍ پوائنٹس کی برتری رکھتے تھے، لیکن یہ خلا ۲؍ فیصد تک گر گیا ہے جو MAGA لیڈر کی مدت کی کم ترین سطح ہے۔
دراصل، امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے ریپبلکن کی مقبولیت کا تعلق سرحدی گزرگاہوں میں ڈرامائی کمی اور مجموعی غیر قانونی امیگریشنکے خلاف کارروائی سے ہو سکتا ہے۔ تاہم، حالیہ مہلک فائرنگ کے واقعات (جس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ICE اور بارڈر پٹرول ملوث تھے)، اور حراست میں لیے گئے افراد (بشمول بچے) کی بڑھتی ہوئی تعداد، اور امریکی شہریوں کے ساتھ جھڑپوں نے ان گرتے ہوئے اعداد و شمار میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔رائٹرز کے ICE ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۴ء تک امریکی امیگریشن سہولیات میں اوسطاً روزانہ آبادی کی بنیاد پر ہر ۳۸۴۸؍حراستوں پر سالانہ ایک موت واقع ہوتی تھی۔ تاہم، ٹرمپ کی دوسری مدت شروع ہونے کے بعد یہ شرح دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہے، جو جون کے اوائل تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہر ۱۶۳۰؍افراد پر ایک موت تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جیسن آرڈے کی موت پر لندن میں ہزاروں افراد کا خراجِ عقیدت، اہل خانہ کا ردعمل
علاوہ ازیں ایک علاحدہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ۲۰۲۵ء میں دفتر سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ کی امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت۵۰؍ سے زیادہ فعال ڈیوٹی سروس اراکین کے والدین اور شریک حیات کو حراست میں لیا گیا ہے۔ کم از کم چھ کو ملک بدر کر دیا گیا ہے اور ایک نے خود کو ملک بدر کروا لیا، جبکہ امریکی سروس اراکین کے کم از کم آٹھ قریبی خاندان کے افراد اب بھی وفاقی امیگریشن حراست میں ہیں۔اس کے علاوہ،سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، محکمۂ داخلہ کی ابتدائی شماریات کے مطابق، جولائی میں ICE نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ماہانہ ریکارڈ قائم کیا، جب۴۶۰۰۰؍ سے زیادہ افراد کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا اور حراست میں لیا گیا۔