• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ نے ایران کے فضائی شعبے کو مفلوج کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کردیں

Updated: September 09, 2026, 7:02 PM IST | Tehran

امریکہ نے ایران کی ہوا بازی کی صنعت کے خلاف اب تک کی اپنی سب سے وسیع کارروائیوں میں سے ایک کرتے ہوئے ۳۶؍ اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان پر تہران کے فضائی نیٹ ورکس، ہتھیاروں کی منتقلی اور غیر قانونی خریداری کے منصوبوں میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

Iran Vs America.Photo:INN
ایران اور امریکہ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ نے ایران کی ہوا بازی کی صنعت کے خلاف اب تک کی اپنی سب سے وسیع کارروائیوں میں سے ایک کرتے ہوئے ۳۶؍ اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان پر تہران کے فضائی نیٹ ورکس، ہتھیاروں کی منتقلی اور غیر قانونی خریداری کے منصوبوں میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا ہدف ایران کی تمام باقی فعال ایئرلائنز کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ثالث، فرنٹ کمپنیاں اور دیگر ادارے ہیں، جو مبینہ طور پر ایران کو طیارے، طیاروں کے پرزے اور ہوا بازی سے متعلق ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں مدد فراہم کررہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی نے کہا کہ امریکہ ایران کے فضائی شعبے کی مدد کرنے والے مختلف دائرہ اختیار میں موجود ۳۶؍ اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کرکے  آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ  پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق ایران کا یہ شعبہ حکومت کو دنیا بھر میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور دہشت گردی میں معاونت کے قابل بناتا رہا ہے۔ یہ کارروائی  آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ  کے تحت کی گئی ہے۔ یہ مہم امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ۲۴؍ اگست کو شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد واشنگٹن کے مطابق ایرانی حکومت کے باقی ماندہ مالی وسائل کا راستہ بند کرنا ہے۔
بیسنٹ نے کہاکہ آج ہم نے اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں جو اب بھی مہان ایئر کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہیں۔  انہوں نے ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ آپ کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیے جانے کا خطرہ ہے۔  او ایف اے سی نے ایگزیکٹیو آرڈر ۱۳۹۰۲؍ کے تحت ایران کی ۲۷؍ ایئرلائنز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اس حکم نامے کے تحت ایران کی معیشت کے مختلف شعبوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ بیان کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی فضائی کمپنیوں میں ایران ایئر ٹور، ایران آسمان ایئرلائنز، کیش ایئرلائنز، قشم ایئر، صہا ایئرلائنز، سپہران ایئرلائنز، وارش ایئرلائنز، زاگرس ایئرلائنز اور دیگر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’دِرِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کا ٹریلر جاری،آخری مقابلے میں راز کھلنے کا خطرہ

امریکی حکام کے مطابق ایرانی کمرشیل ہوا بازی کو اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور ایرانی حکومت کے دیگر اداروں کی جانب سے ہتھیاروں، اہلکاروں اور غیر قانونی سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ تازہ ترین کارروائی کا مقصد ایران کے فضائی شعبے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی نظام میں کام کرنا مزید مشکل بنانا ہے۔ ان پابندیوں سے مہان ایئر پر بھی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ واشنگٹن اس سے قبل مہان ایئر پر آئی آر جی سی کی القدس فورس کی حمایت اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں سہولت کاری کے الزامات عائد کرچکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تیسرے ممالک کی کمپنیوں نے پابندیوں کے باوجود مہان ایئر کو طیارے حاصل کرنے اور بین الاقوامی پروازیں چلانے میں مدد فراہم کی۔محکمہ خزانہ کے مطابق ۲۰۲۶ء کے موسم گرما کے دوران کم از کم تین بوئنگ ۷۷۷؍ طیارے متحدہ عرب امارات اور عمان سے گزرنے والے راستوں کے ذریعے مہان ایئر تک پہنچے۔ امریکی حکام نے متحدہ عرب امارات اور ترکی میں موجود بعض کمپنیوں کی شناخت ان طیاروں کی منتقلی میں ثالث کے طور پر کی اور مہان ایئر کی مبینہ معاونت پر ان کمپنیوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا۔ مزید برآں، او ایف اے سی نے کہا کہ وہ ایران سے متعلق ہوا بازی کے شعبے کی تین اجازتیں معطل کررہا ہے۔ ان میں ایسی دفعات بھی شامل ہیں جن کے تحت بعض پروازوں کو ایرانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت تھی اور غیر امریکی ایئرلائنز کو امریکی ساختہ یا امریکی کنٹرول میں موجود کمرشل طیاروں کو ایران لے جانے کی اجازت حاصل تھی۔ او ایف اے سی نے کہا کہ ہوا بازی کی حفاظت سے متعلق درخواستوں پر اب بھی  کیس ٹو کیس  بنیاد پر غور کیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا کہ پابندیوں کا دائرہ صرف ایرانی ایئرلائنز تک محدود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بین شیلٹن نے بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے الکاراز کو یو ایس اوپن سے باہر کردیا

محکمہ خزانہ نے کہاکہ کوئی بھی غیر ملکی کمپنی یا فرد جو پابندیوں کی زد میں آنے والی ایرانی ایئرلائنز کو سہولت فراہم کرے گا، خواہ طیاروں کی منتقلی، کارگو خدمات یا جنرل سیلز ایجنٹ کی معاونت کے ذریعے، اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔  یہ انتباہ طیارے فراہم کرنے والی کمپنیوں، کارگو سروسیز، جنرل سیلز ایجنٹ کی خدمات اور خریداری کے نیٹ ورکس میں معاونت فراہم کرنے والے اداروں پر بھی لاگو ہوگا۔ محکمہ خزانہ نے کہا کہ ایران نے امریکی ساختہ طیاروں اور ہوا بازی کے آلات کی حتمی منزل ایران ہونے کو چھپانے کے لیے فرنٹ کمپنیوں اور تیسرے ممالک میں موجود ثالثوں کا استعمال کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK