Updated: October 12, 2026, 6:01 PM IST
| Tehran
ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے تہران کی سات شرائط پر واشنگٹن کا جواب ”ناکافی“ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان، قطر اور عراق کے ذریعے ایران سے رابطہ کیا تھا اور ایران نے تقریباً دو ہفتے قبل اپنی ۷ شرائط پہنچائی تھیں، اور واضح کیا گیا تھا کہ جب تک وہ پوری نہیں ہوتیں آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔
ایران نے پیر کے روز تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور وہ مذاکرات کیلئے امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان اور قطر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں جن کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم مذاکرات کیلئے امریکیوں کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کسی بھی قسم کے مذاکرات کیلئے ایران کی پیشگی شرائط کی پاسداری لازمی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ روس بھی ایران کی جوہری فائل پر ”تعمیراتی“ کردار ادا کر رہا ہے، اگرچہ باضابطہ ثالثی پاکستان اور قطر کے پاس ہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی: ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کا تازہ حملہ، ہلاکتوں کی تعداد ۱۸؍ ہوگئی
بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رونما ہونے والی پیش رفت ۲۸ فروری سے ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے ان تاثرات کو مسترد کر دیا کہ تہران کے اقدامات کا مقصد مذاکرات میں فائدہ حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”موجودہ امریکی طرزِ عمل سے سیکوریٹی واپس نہیں آئے گی۔“ ان امریکی دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ ایران اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔
ایران کی ۷ شرائط
ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے تہران کی سات شرائط پر واشنگٹن کا جواب ”ناکافی“ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان، قطر اور عراق کے ذریعے ایران سے رابطہ کیا تھا اور ایران نے تقریباً دو ہفتے قبل اپنی ۷ شرائط پہنچائی تھیں، اور واضح کیا گیا تھا کہ جب تک وہ پوری نہیں ہوتیں آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ رضائی نے کہا کہ امریکہ نے کچھ شرائط قبول کر لی ہیں جبکہ دیگر غیر واضح رہیں، چونکہ واشنگٹن پہلے ہی اپنا جواب جمع کرا چکا ہے اس لئے تہران اب جواب دینے کے عمل میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: کیپٹل کے باہر سیکڑوں کا مظاہرہ، اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس سے قبل کہا تھا کہ تہران قطری ثالثی کے تحت تیار کردہ ایک منصوبے کے تحت ۷ دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے جس میں ایک مرحلہ وار امریکی ردِعمل شامل ہوگا، جس کے بعد جہاز رانی کی بحالی اور حتمی مذاکرات ہوں گے۔ ایران کے مطالبات میں دشمنی کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری، تیل کی برآمد پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔