اپنی میسر شدہ نعمتوں کو دیکھیں کہ ہمارے پاس پہلے ہی اتنا کچھ ہے جس کے شکر کیلئے شاید زندگی کم پڑ جائے۔ حقیقی شکر یہی ہے کہ دوسروں سے موازنہ چھوڑ کر خاموشی سے ملی ہوئی اپنی نعمتوں کو پہچانیں، جتنی اور جیسی بھی ہوں ان کی قدر کریں اور قناعت اور متانت کے ساتھ خود کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ عافیت سے گزرنے والا ایک دن یا ایک پُرسکون رات بھی اللہ تعالیٰ کی قیمتی نعمت ہے؟ تصویر: آئی این این
ہماری زندگی میں تعلیم، روزگار، کریئر، تعلقات، حیثیت، دولت، ثروت، طرزِ زندگی، سماجی رتبہ، کام، مکان، اولاد، جسمانی حسن و خوبی وغیرہ کے معاملے میں موازنہ جاری رہتا ہے۔ موازنہ کی عادت کی شرح عموماً خواتین میں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ گھر پڑوس اور بہنوں و کزنز کے مابین ظاہری حسن و خوبصورتی، لباس، قد و قامت، آرائشی مصنوعات، کھلونے، تعلیمی کارکردگی، امور خانہ داری وغیرہ کے تعلق سے اپنے متعلق موازنہ وہ بچپن ہی سے بڑی شدت و تواتر سے دیکھتی، سنتی اور برداشت کرتی رہی ہیں۔
جس گھر اور ماحول میں ایک دوسرے کیساتھ مقابلے کی ریس لگی رہتی ہو، لڑکیوں کے معاملات میں خصوصی تقابلی جائزے اور توقعات کا چلن عام ہوتا ہو، وہاں موازنہ اور تقابل غیر محسوس طور پر ہماری خواتین کا مزاج اور عادت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ماحول کے اثرات ہی انسان کی فطرت ثانیہ بنتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی یہ عادت ہمیں اس موڑ تک لے آتی ہے جہاں ہم اپنی زندگی سے مطمئن نہیں رہ پاتے، دوسروں کو حاصل چیزیں اضافی اور خود کو میسر نعمتیں کم محسوس ہونے لگتی ہیں۔ پھر ہم اپنے حالات و معاملات کو دوسروں کے حالات کے ساتھ تولتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پیسٹل پلیٹڈ انارکلی سیٹ: ٹی پارٹی کیلئے عمدہ
کبھی ہمارے ساتھ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کی خوشی دیکھ کر دل میں خفیف سی مایوسی اتر آتی ہو؟ زیادہ محنت مشقت اور تلاش کے بغیر کسی کو اچھا گھر، بہترین رشتہ، اولاد، کامیابیاں ملتی دیکھ کر دل نے پوچھا ہو کہ یہ سب مجھے اتنی آسانی سے کیوں نہیں ملا؟ اور اس سوال نے دل پر ایک بوجھ ڈال دیا ہو؟ ہم نے اپنے آپ کو کسی کے مقابلے میں کم پایا ہو تو خود کو نا اہل سمجھ لیا ہو؟ جب ہم عادتاً خود کو دوسروں کے ساتھ خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ پرکھتے ہیں جو زیادہ کامیاب پرکشش یا ماہر نظر آتے ہیں تو ہم اپنا نفسیاتی بوجھ بڑھا لیتے ہیں اسی لئے ہمیں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھنے کی تلقین ہے تاکہ ہم کسی احساسِ محرومی اور نا شکری سے بچے رہیں۔
اپنے سے اوپر والوں کو دیکھتے رہنے اور نعمتوں کو موازنہ کے ترازو میں تولنے سے نعمت تو نہیں بڑھتی الٹا دل کا سکون ہی کم ہو جاتا ہے۔ خود اعتمادی میں کمی اور حسد و طمع جیسے برے جذبات بھی فروغ پاتے ہیں۔ سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ انسان شکر کرنا بھول جاتا ہے، جس ناشکرے دل میں میسر کی قدر باقی نہ رہے وہ دل رب کی تقسیم سے بھی شاکی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اسی نے ہمارے درمیان روزی تقسیم کی ہے، کم یا زیادہ اس کی مرضی اور حکمت۔ جب نصیب اور رزق کی تقسیم رب کے دست قدرت میں ہے تو اس کے بندوں کے مال و متاع، ہنر اور حیثیت سے موازنہ کرکے دل چھوٹا کیوں کرنا؟ جب ہم دوسروں کے حصے پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے مقدر کی نعمت اور رب کی تقسیم پر راضی رہنا سیکھ لیں تو ہمارا دل خود بخود ہلکا اور مطمئن ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ہائی پروٹین بیری چیا اسمودھی کی ترکیب
ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کسی کی خوبصورتی، امیری، عہدے اور آسائشیں فوراً نظر آجاتی ہیں مگر ان کے پیچھے چھپی ہوئی آزمائشیں نظر نہیں آتیں۔ ہم دوسروں کی نعمتیں دیکھ پاتے ہیں مگر امتحان نہیں۔ اپنی محرومی دکھائی دیتی ہے مگر اس میں چھپی حکمت نہیں کہ وہی محرومی ہمیں اللہ سے زیادہ قریب کر دیتی ہے۔ جن امور پر انسان کو اختیار نہیں ان میں موازنہ کرنا صرف ناشکری حسرت اور احساس کمتری میں مبتلا کرتا ہے۔ اس لئے اگر کبھی ہم دوسروں کے طرز زندگی سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کو کم سمجھیں تو ذرا سوچ لیں۔
اپنے قدموں پر چلنا، اپنے ہاتھوں سے اپنے کام کر پانا، نماز کے لئے کھڑے ہونا، سَر پر چھت، عزت کا رزق، آرام دہ نینداور اس کے بعد ایک نئی خوبصورت صبح، اپنوں کے ساتھ رہنا، دل کھول کر ہنسنا وغیرہ یہ سب وہ نعمتیں ہیں جن کے احسان مند اور مشکور ہونے کے بجائے ہم انہیں زندگی کا معمول سمجھ کر نظر انداز کرجاتے ہیں۔ وہیں ہمارے اطراف میں ایسے کئی لوگ ہیں جو ان معمولی سمجھی جانے والی نعمتوں کے لئے ترستے ہیں، دعائیں کر رہے ہیں۔ لہٰذا قدردانی اور شکرگزاری کے لئے ہم مزید نعمتوں کا انتظار کیوں کریں؟
یہ بھی پڑھئے: خواتین کے تحفظ کی شروعات گھر سے ہونی چاہئے
جس طرح ہر عمل کے دو پہلو ہوتے ہیں اسی طرح یہ فطری جبلت بھی نافع اور ضرر رساں ہوسکتی ہے چونکہ موازنہ کی عادت کسی نہ کسی درجے میں ہر انسان میں فطری طور پر موجود ہوتی ہے اس سے مکمل خلاصی ناممکن ہے مگر تھوڑی سی ذہنی و اخلاقی تربیت سے اس عادت کو نافع بنایا جاسکتا ہے۔ موازنہ اگر مثبت سوچ عمل کے ساتھ ہوں تو ہمہ جہت تعمیر و ترقی کا سبب بن سکتے ہیں۔ دوسروں کی بہترین کارگردگی اور بہتر اہداف سے موازنہ ہمیں حقیقت پسندانہ، خود احتسابی کی ترغیب اور درست سمت میں ترقی کی تحریک دیتا ہے۔ مثبت موازنہ ہمیں کچھ سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ لہٰذا شفا یابی کی طرف سفر کرنے کیلئے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے آج سے تمام منفی رجحانات کو دور کریں اپنی زندگی کو ان چیزوں سے مت ناپیں جو ابھی نہیں ملی ہیں، ذرا سا انتظار کریں، صحیح سمت میں کوشش کریں تو نتیجے بہتر ہوسکتے ہیں۔