پاکستان اور قطر کا کہنا ہے کہ ہم اُس وقت ثالثی جاری رکھیں گے، جب تک امریکہ اور ایران کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ جاتے۔
میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
بورگن اسٹاک میں اتوارکو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا باضابطہ پہلا دور مکمل ہوا ۔ فریقین جلد ہی پھر ملاقات کے وعدہ کیساتھ رخصت ہوئے۔ ایرانی وفد کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی ہدف جنگ کے خاتمے کیلئے تمام فریقین کے درمیان عبوری معاہدہ پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔مذاکرات میں پاکستان اور قطر ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قطر نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے مابین حتمی معاہدے کے لیے فنی اور تکنیکی گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات ایک دیرپا اور جامع معاہدے پر منتج ہوں گے۔ مذاکرات کے آغاز سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی، جس میں امریکی ایلچی اسٹیو بھی موجود تھے۔سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت کی بنیاد پر مذاکرات کا نیا دور ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے تمام وفود کی بورگن اسٹاک آمد کی تصدیق کر دی ہے، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد، محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اور ثالث ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیرِ اعظم نے گفتگو کی۔ لیکن اس موقع پر ایرانی وفد موجود نہیں تھا۔یہ تقریب براہِ راست نشر کی جا رہی تھی، اس دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کچھ دیر کے لیے کانفرنس ہال میں آئے، لیکن کچھ لمحوں بعد ہی واپس چلے گئے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، جے ڈی وینس اور قطری وزیرِ اعظم کی گفتگو کے بعد وہاں موجود میڈیا نمائندگان کو وہاں سے بھیج دیا گیا، جس کے بعد مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔۱۷؍ جون کو مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کے بعد۲۱؍ جون کو سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے موقع پر پاکستانی اور قطری وزرائے اعظم کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے۔
’اسلام آباد اور یہاں کے سوا، یعنی گذشتہ چند مہینوں سے پہلے، اس سطح پر ایرانی اور امریکی قیادت کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ صدر نے ہمیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ ہم ایک نیا باب کھولیں اور ایران کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو تبدیل کریں، اور ان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔’پیغام یہ ہے کہ اگر ایران کی قیادت خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینا چھوڑ دے، اگر وہ طویل مدت کے لیے جوہری ہتھیاروں کی خواہش ترک کر دے، تو امریکہ اس ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ ہم نے گذشتہ چند گھنٹوں میں ہی خاصی پیش رفت کی ہے۔‘
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اس موقع پر کہا کہ قطر اُس وقت ثالثی جاری رکھے گا، جب تک امریکہ اور ایران کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ جاتے۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات بہت تاریخی موقع ہے اور نہ صرف خطے کی سکیورٹی بلکہ دُنیا بھر کے امن و سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔قطری وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ جشن کا موقع تو نہیں ہے، لیکن اس کا آغاز تو ضرور ہو گیا ہے۔قطری وزیر اعظم نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا۔