• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک میں اقوام متحدہ کی ۸۱ ویں جنرل اسمبلی کا آغاز: عالمی لیڈران نے غزہ کے بحران کو اجاگر کیا

Updated: September 23, 2026, 9:43 PM IST | New York

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بین الاقوامی برادری کے طرزِ عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا نے فلسطینی-اسرائیلی تنازع کا سامنا کرنے کے بجائے اسے صرف ’سنبھالنے‘ کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، تشدد اور بے دخلی فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی دانستہ پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔ قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے سخت ترین الفاظ میں کہا کہ ”اس وقت تک کسی منصفانہ بین الاقوامی نظام کی بات نہیں ہو سکتی جب تک فلسطین اس کے اندر ایک اندھا گوشہ (blind spot) بنا رہے گا۔“ انہوں نے غزہ میں جنگ کو "لفظ کے ہر مفہوم میں نسل کشی" قرار دیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی کے ۸۱ ویں اجلاس کا آغاز نیویارک میں واقع یو این کے صدر دفتر میں ہوگیا ہے۔ اس سالانہ `جنرل ڈیبیٹ` میں دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت و حکومت نے شریک ہوئے ہیں۔ یہ اجلاس روایتی طور پر بین الاقوامی مسائل کے وسیع دائرہ کار کا احاطہ کرتا ہے، لیکن ابتدائی دنوں میں تقریباً مکمل طور پر ’غزہ میں جاری جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے تک اس کے اثرات‘ کا موضوع چھایا رہا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے افتتاحی کلمات سے لے کر مختلف ممالک کے خطابات کے سلسلے تک، لیڈران نے اپنے خطابات میں محصور فلسطینی علاقے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا، مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے خاتمے سے خبردار کیا اور تباہ حال خطے میں فوری تعمیر نو کی کوششوں پر زور دیا۔

یو این کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے ابتدا میں ہی بحث کی سمت متعین کرتے ہوئے اعلان کیا کہ "دو ریاستوں کی حمایت محض زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھنی چاہئے۔" انہوں نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلسل تشدد، جبری بے دخلی اور بستیوں کی توسیع ’امن کی راہ کو بلڈوز‘ کر رہی ہے۔ اس نے ’نسلی صفائی کے آسیب‘ نامی خطرے کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: غزہ جنگ پر ڈاکیومینٹری بنانے والے ہدایتکاروں کی شہریت منسوخ کرنے پر غور

فرانس نے غزہ پر پابندیوں کو ’عالمی برادری کیلئے شرم کا مقام‘ قرار دیا 

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے نمایاں طور پر خود تنقیدی لہجہ اختیار کرتے ہوئے اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ تک انسانی امداد کی رسائی پر مسلسل پابندیوں پر ”ہم سب کیلئے شرم کا مقام ہے۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امداد کی فراہمی فوری طور پر بحال نہ کی گئی تو بین الاقوامی برادری کا اپنا وقار داؤ پر لگ جائے گا۔

ترکی نے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے کوشاں رہنے کا عزم دہرایا

ترک صدر رجب طیب اردگان نے اپنے خطاب کو، جیسا وہ گزشتہ برسوں میں بھی کرتے رہے ہیں، محض بیان بازی کے بجائے شواہد پر مبنی مقدمہ پیش کرنے کیلئے استعمال کیا، جس میں انہوں نے غزہ میں قحط سالی کے حالات سے لے کر ایک ڈوبے ہوئے بچے کی ۲۰۱۵ء کی تصویر سمیت کئی دستاویزات اور مناظر کا حوالہ دیا گیا۔ انہوں نے ’وقت ضائع کئے بغیر‘ غزہ کی تعمیر نو شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یو این کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں۔ اردگان نے مزید کہا کہ ترکی پچھلے سال شرم الشیخ میں دستخط کئے گئے ایک معاہدے پر بدستور قائم ہے اور اس کے نفاذ کیلئے دباؤ جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی دکھ کا اظہار کیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس مسلسل دو سال سے اسمبلی میں شرکت کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ انہوں نے اسے ایسی ناانصافی قرار دیا جو ’ضمیروں کو زخمی کرتی ہے۔‘ اردگان نے عہد کیا کہ ترکی ان کی غیر موجودگی میں ”آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کی آواز“ بنا رہے گا۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین: سرکاری نشریاتی ادارے کا اسرائیل کی شرکت پر یوروویژن کے بائیکاٹ کا منصوبہ

انسانی جانی نقصان کا رخ کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ غزہ، دنیا میں بچوں کا سب سے بڑا قبرستان اور عالمی سطح پر بچوں کے اعضاء کٹنے کی سب سے زیادہ شرح والا خطہ بن گیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ تین برسوں میں تقریباً ۷۴ ہزار فلسطینیوں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا گیا۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کی کوششوں کو بالآخر ناکام قرار دیتے ہوئے ۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر مبنی، مشرقی یروشلم کے بطور دارالحکومت، ایک آزاد ریاست کی امید کا اظہار کیا۔

اردن اور قطر کی بین الاقوامی برادری پر تنقید

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بین الاقوامی برادری کے طرزِ عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا نے فلسطینی-اسرائیلی تنازع کا سامنا کرنے کے بجائے اسے صرف ’سنبھالنے‘ کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، تشدد اور بے دخلی فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی دانستہ پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی پر نیتن یاہو کی ویڈیو، امریکی سینیٹر کی شدید تنقید

قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے سخت ترین الفاظ میں کہا کہ ”اس وقت تک کسی منصفانہ بین الاقوامی نظام کی بات نہیں ہو سکتی جب تک فلسطین اس کے اندر ایک اندھا گوشہ (blind spot) بنا رہے گا۔“ انہوں نے غزہ میں جنگ کو "لفظ کے ہر مفہوم میں نسل کشی" قرار دیا۔

کنیڈا نے غیرقانونی اسرائیلی بستیوں کو امن کیلئے خطرہ قرار دیا، فلسطین کیلئے امداد

کنیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مشرق میں ای-ون بستیوں کے منصوبے کی اسرائیلی توثیق کو ”امن کیلئے براہ راست خطرہ“ قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینیوں کیلئے ۱۰۰ ملین کنیڈین ڈالر (تقریباً ۷۱ ملین امریکی ڈالر) کی امداد کا وعدہ کیا، جس میں ۸۰ ملین کنیڈین ڈالر انسانی امداد اور ۲۰ ملین کنیڈین ڈالر امن و سلامتی کی صلاحیت بڑھانے کیلئے وقف کئے جائیں گے۔ کارنی نے کہا کہ کنیڈا ہچکچاہٹ کے ساتھ، غیرقانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والے سامان پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کی بڑھتی ہوئی فہرست، جس میں ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں، میں شامل ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی حکام اگلے ماہ ای-ون منصوبے کے تحت ہزاروں اضافی بستیوں کے یونٹوں کیلئے ٹینڈر کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی ناکہ بندی کے سبب دو دنوں میں دوسرااسپتال بند

برطانیہ نے خاموش تماشائی نہ بنے رہنے کا اعلان کیا

اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ ۷ اکتوبر کو حماس کا حملہ غزہ یا مغربی کنارے میں اسرائیل کے بعد کے اقدامات کو ’جواز نہیں بخشتا۔‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "بہت زیادہ لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔" انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینیوں کی تکالیف اور مصائب میں مسلسل اضافے پر برطانیہ ”خاموش تماشائی بن کر نہیں رہے گا۔“

مباحثے میں تاریخی پہلو شامل کرتے ہوئے، بوسنیائی صدارت کے چیئرمین ڈینس بیکیرووچ نے خبردار کیا کہ غزہ پر بین الاقوامی برادری کا دھیما ردعمل ۱۹۹۰ء کی دہائی میں بوسنیا کی اپنی نسل کشی کی ناکامیوں کی بازگشت تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ بڑھتی ہوئی آمریت، یوکرین میں جنگ، اور سوڈان اور خلیج کے بحرانوں نے مل کر دنیا کو شدید عدم استحکام کے دور میں دھکیل دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK