• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوکرین: ریلوے اسٹیشن، پیٹرول پمپ، بحری جہازوں پر روسی حملے، دو ہلاک

Updated: September 23, 2026, 10:02 PM IST | Kyiv

یوکرین کے ریلوے اسٹیشن، پیٹرول پمپ، بحری جہازوں پر روس نے حملےکئے، جس کے نتیجے میں دو افرا ہلاک ہوگئے، یوکرین کا کہنا ہے کہ شہری نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شدت اختیار کر رہے ہیں۔

Smoke is seen rising from a Ukrainian facility following a Russian attack. Photo: X
روسی حملے کے بعد یوکرین کی ایک تنصیب سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تصویر: ایکس

یوکرین بھر میں شہری نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں کے بعد کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔ نئے حملوں نے ملک کی ریلوے، پیٹرول اسٹیشنز اور جہاز رانی کو نقصان پہنچایا۔کیف اور اس کے گرد و نواح میں، ایک۴۲؍ سالہ شخص جو پیٹرول اسٹیشن پر حملے میں زخمی ہوا تھا، بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا۔ ایک ریلوے ملازم جو اپنی شفٹ کے بعد گھر واپس جا رہا تھا، بھی بموں کے ٹکڑے سے زخمی ہو گیا۔یوکرینی ریلوے کے سربراہ اولیکسینڈر پرسووسکی نے کہا کہ کیف کا ریل نیٹ ورک ”زیرِ حملہ“ ہے اور دارالحکومت کے مرکزی اسٹیشن استعمال کرنے والے مسافروں پر زور دیا کہ وہ ”زیادہ سے زیادہ“ چوکسی برتیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: صدر ٹرمپ کو ایران جنگ، تیل کی قیمت ،غیر مقبول پالیسیوں پر تنقید کا سامنا

یوکرین کی ریلوے فروری۲۰۲۲ء میں شروع ہونے والے روس کے مکمل پیمانے کے حملے کے دوران مسلسل چلتی رہی، جو شہریوں اور وسیع تر معیشت کے لیے ایک اہم رابطہ فراہم کرتی ہے۔ پرسووسکی نے پہلے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ہر ہفتے بدتر ہو رہے ہیں۔ جبکہ ایک حالیہ حملے نے پولش سرحد کے قریب سفارت کاروں کو لے جانے والی ٹرین کو بھی نشانہ بنایا۔ بعد ازاں صدر ولودیمیر زیلینسکی نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ نقل و حمل اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے ذریعے ”معیشت کو مفلوج کرنے اور لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنے“ کی کوشش کر رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیر اعظم کا ظہران ممدانی پر یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا الزام

روسی حملے یوکرین کے بحیرہ اسود کے جہاز رانی راستوں تک بھی پھیل گئے، جہاں جنوبی بندرگاہ اوڈیسا کے قریب حملے میں ایک کارگو جہاز کا کپتان ہلاک ہو گیا۔اوڈیسا کے علاقائی گورنر اولیگ کیپر نے کہا کہ یوکرینی کپتان اینٹیگوا اور باربوڈا کے جھنڈے والے جہاز کا انچارج تھا۔یہ واقعہ بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی سے متعلق وسیع تر کشیدگی کے دوران پیش آیا۔ بعد ازاں ترکی کے آئی ایم ای اے کے چیمبر آف شپنگ کا کہنا ہے کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے کم از کم۲۲۶؍ شہری اور تجارتی جہاز نشانہ بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے۱۶۳؍ حملے تقریباً۷۰؍ فیصد اس سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں ہوئے۔ تاہم ترکی نے تجویز دی ہے کہ روس اور یوکرین شہری جہازوں پر حملے بند کریں، لیکن کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حالیہ حملے ناقابل قبول ہیں، چاہے ذمہ دار کوئی بھی ہو۔“ 

یہ بھی پڑھئے: حوثی حملوں کا مقابلے کیلئے برطانیہ فضاء میں ایندھن بھرنے والے طیارے فراہم کرےگا

واضح رہے کہ روس کا کہنا ہے کہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا،اور یوکرین کے علاقے پرتازہ حملوں کا ہدف ایک گودام اور یوکرین کی مسلح افواج کے لیے ڈرون تیار کرنے میں ملوث کاروبار تھے۔اس نے یہ بھی کہا کہ اوڈیسا علاقے میں اسی طرح کی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا، اس کے ساتھ فوجی سامان لے جانے والے ایک جہاز کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK