Inquilab Logo Happiest Places to Work

محمود خلیل کی حراست کے ایک سال بعد کولمبیا یونیورسٹی میں مظاہرین کی ریلی

Updated: March 10, 2026, 5:05 PM IST | New York

نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے باہر طلبہ، اساتذہ اور کارکنوں نے فلسطین حامی کارکن محمود خلیل کی حراست کو ایک سال مکمل ہونے پر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی ختم کرنے اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن روکنے کا مطالبہ کیا۔

A scene from a demonstration in support of Mahmoud Khalil. Photo: INN
محمود خلیل کے حق میں مظاہرے کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

فلسطین حامی کارکن محمود خلیل کی حمایت میں پیر کو نیویارک شہر میں کولمبیا یونیورسٹی کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر ان کی امریکی امیگریشن حکام کی حراست کو ایک سال مکمل ہونے پر احتجاج کیا گیا اور ان کے ساتھ دیگر فلسطین نوازمظاہرین کے خلاف ملک بدری کی کارروائیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ طلبہ، اساتذہ اور کارکنوں نے یونیورسٹی کے مارننگ سائیڈ کیمپس کے دروازوں کے قریب ریلی نکالی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر لکھا تھا: ’’ آئی سی ای کو تعلیمی اداروں سے باہر نکالو‘‘، ’’پہلے وہ محمود کیلئے آئے تھے‘‘ اور’’مہاجرین یہاں خوش آمدید ہیں۔ ‘‘محمود خلیل، جو کولمبیا یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور امریکہ کے قانونی رہائشی ہیں، کو گزشتہ سال مارچ میں کیمپس میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے باعث امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں نے حراست میں لے لیا تھا۔ بعد میں ایک وفاقی امیگریشن جج نے انہیں رہا کر دیا، تاہم، ان کے خلاف ملک بدری کا مقدمہ اب بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر ملک تقسیم کرکے تیل پر قبضے کی سازش کا الزام

ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ خلیل کی موجودگی امریکی خارجہ پالیسی کیلئے خطرہ ہے اور ان پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ یہود دشمنی پھیلا رہے ہیں، تاہم، اس کیلئےکوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ جون میں امریکی ڈسٹرکٹ جج مائیکل ای فاربیارز نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا اور حکام کو ہدایت کی کہ انہیں دوبارہ حراست میں نہ لیا جائے اور نہ ہی ملک بدر کیا جائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے محمود خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی پر الزام لگایا کہ اس نے فلسطین کے حق میں سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو ممکن بنانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا:’’انہوں نے بورڈ آف ٹرسٹیز کے مفادات کے تحفظ کیلئے اپنی ساکھ، اپنے ادارے اور اپنی تعلیمی آزادی کو نقصان پہنچانے کا انتخاب کیا۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے امید ہے کہ کولمبیا کوئی قدم اٹھائے گا، مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس ادارے میں فلسطین مخالف نسل پرستی بہت گہرائی تک جڑی ہوئی ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے بیان سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ

انہوں نے مزید کہا:’’وہ نہیں چاہتے کہ کوئی فلسطین کیلئے آواز اٹھائے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی انسانی حقوق کی بات کرے، اور اسی لئے مجھے نشانہ بنایا گیا۔ ‘‘منتظمین نے لیقہ قردیہ کے کیس کو بھی اجاگر کیا، جو ایک فلسطینی مظاہرہ کرنے والی ہیں اور مارچ۲۰۲۵ء سے آئی سی ای کی حراست میں ہیں۔ انہیں کولمبیا یونیورسٹی کے قریب فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK