امریکہ کےصدارتی امیدوار جو بائیڈن نے سی اے اے اوراین آرسی کی مخالفت کی

Updated: June 27, 2020, 4:06 AM IST | Washington

کشمیر میں حقوق انسانی کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا، شہریت ترمیمی ایکٹ اورنیشنل رجسٹر آف سٹیزن کو ہندوستان کی طویل سیکولر روایات کےمنافی قرار دیا۔

Joe Baydon Photo: INN
جوبائیڈن۔ تصویر: آئی این این

 امریکہ میں  ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی الیکشن کے امیدوار اور ملک کے سابق نائب صدر جو بائیڈن نے ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کی مخالفت کرتےہوئے انہیں  اس ملک کی طویل سیکولر اور جمہوری روایات کےمنافی قراردیا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں  نے حکومت ہند سےکشمیر میں عوام کے بنیادی اورانسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی پالیسی سے متعلق پیپر’امریکی مسلمانوں  کیلئے جوبائیڈن کا ایجنڈہ‘ کے مطابق’’یہ اقدامات(سی اے اے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن) ہندوستان کی کثیر مذہبی اور مختلف ذاتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی جمہوری اور طویل سیکولر روایات کے منافی ہیں ۔‘‘ یاد رہے کہ حال ہی میں  امریکی ہندوؤں کے ایک گروپ نے جو بائیڈن سے رابطہ کیاتھا اوران کی انتخابی مہم میں    ہندوستان کے تعلق سے استعمال کی گئی زبان پر ناراضگی کااظہار کیاتھا۔ اس گروپ نے بائیڈن سے اپنے نظریات پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔ جو بائیڈن نے جس طرح  امریکہ میں  مقیم مسلمانوں  کیلئے پالیسی پیپر جاری کیا ہے، امریکی ہندوؤں  نے ان کیلئے بھی ایسے ہی پالیسی پیپر کا مطالبہ کیا ہے۔ بہرحال بائیڈن کی انتخابی مہم میں  اب تک اس مطالبے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ 
 مسلمانوں سےمتعلق پالیسی پیپر میں  مسلم اکثریتی ممالک اور وہ ممالک جہاں  مسلمانوں  کی خاصی آبادی ہے وہاں کے تعلق سے امریکی مسلمانوں کی تشویشات کااعتراف کرتےہوئے چین میں  ایغور مسلمانوں  پر مظالم کے ساتھ کشمیر اور آسام میں  مسلمانوں کی صورتحال کو بھی شامل کیاگیا ہے۔ پالیسی پیپر میں  کہاگیا ہے کہ ’’کشمیر میں  تمام شہریوں  کے حقوق کو بحال کرنےکیلئے حکومت کو تمام تر اقدامات کرنے چاہئیں ۔ اختلاف رائے کے اظہار اور پر امن مظاہروں پر پابند ی اور انٹرنیٹ کی رفتار کم کردینے سے جمہوریت کمزور پڑتی ہے۔‘‘ شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے تعلق سے پالیسی پیپر میں  کہاگیا ہے کہ ’’حکومت ہند کےذریعہ آسام میں  نیشنل سٹیزن رجسٹر (این آر سی ) کے نفاذ اور اس کےبعد کی صورتحال نیز شہریت ترمیمی ایکٹ کی منظوری سے جوبیڈن پریشان اور فکر مند ہیں ۔‘‘ یاد رہے کہ مودی سرکار نے گزشتہ سال ۵؍ اگست کو آرٹیکل ۳۷۰؍ کو بے اثر کرتےہوئے جموں  کشمیر کا نہ صرف خصوصی درجہ ختم کردیا بلکہ اسے مرکز کے ۲؍ زیر اقتدار علاقوں   لداخ اور جموں  کشمیر میں  تقسیم کردیاگیا۔ اس کے بعد یہاں  عوامی مظاہروں  کے امکانات کو دیکھتے ہوئے غیر معمولی پابندیاں  عائد کردی گئی تھیں ،ا نٹرنیٹ بند کردیاگیاتھا اور پورے کشمیر میں  کرفیو نافذ کرکے شہریوں کو گھروں پر بند کردیاگیاتھا۔ حالانکہ اب پابندیاں  ہٹانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے مگر اب بھی لاک ڈاؤن جیسی ہی کیفیت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK