امریکہ ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنا چاہتا ہے: رپورٹ

Updated: September 29, 2020, 12:44 PM IST | Agency | Washington

 امریکا عالمی برادری میں ایران کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کے لئے ایران کے پورے مالیاتی نظام پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ  بنا رہا ہے۔ خبررساں ایجنسی بلومبرگ نے پیر کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران میں 14 بینکوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے ، جو ابھی تک امریکی پابندیوں کے تحت کسی نئی مالی پابندیوں سے بچے ہوئے تھے۔ اگر اس منصوبے کو منظور کرلیا گیا تو کانکنی ، تعمیرات  اور دیگر صنعتی یونٹ ان ایرانی بینکوں کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کرسکیں گے۔

USA and Iran - Pic : INN
ایران اور امریکہ ۔ تصویر : آئی این این

 امریکا عالمی برادری میں ایران کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کے لئے ایران کے پورے مالیاتی نظام پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ  بنا رہا ہے۔
خبررساں ایجنسی بلومبرگ نے پیر کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔
اس رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران میں 14 بینکوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے ، جو ابھی تک امریکی پابندیوں کے تحت کسی نئی مالی پابندیوں سے بچے ہوئے تھے۔ اگر اس منصوبے کو منظور کرلیا گیا تو کانکنی ، تعمیرات  اور دیگر صنعتی یونٹ ان ایرانی بینکوں کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کرسکیں گے۔
یہ تجویز جو ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر الگ کرتی ہے ، ابھی تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش نہیں کی گئی ہے۔
لگ بھگ 10 دن پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ 2015 سے پہلے کی طرح ایران پر بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں کا نفاذ ہونے والا ہے اور اس کے علاوہ وہ اس پر دوسری پابندیاں عائد کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہاہے۔ امریکہ نے ایران پران پابندیوں  کا احتجاج کرنے  والے مملک کے خلاف  بھی کارروائی  کرنے کا انتباہ دیاتھا۔
 روس ، چین ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی  سمیت سلامتی کونسل کے زیادہ تر ممبر ممالک شامل ہیں ، نے اس امریکی اقدام کی مخالفت کی ہے۔ ان تینوں ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھ کر ایران کو پابندیوں سے راحت دینے کی اپیل کی ہے۔
خیال رہے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لئے ایران اور چھ عالمی طاقتوں ، امریکہ ، برطانیہ ، چین ، روس ، فرانس اور جرمنی کے مابین 2015 میں ویانا میں ایک تاریخی جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ 

مئی 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو معاہدے سے  الگ کرلیاتھا ۔ تب سے ، دونوں ممالک کے مابین تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK