Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران امریکہ اسرائیل جنگ: حملے، ردعمل اور عالمی اثرات ، تازہ اَپ ڈیٹس

Updated: March 05, 2026, 3:59 PM IST | Tehran

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے فوجی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ شروع ہو گئی ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس جنگ میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت، خطے میں میزائل اور ڈرون حملے، عالمی سفارتی ردعمل اور توانائی اور تجارت پر بڑے اثرات دیکھنے میں آئے ہیں۔

People in Iran praying for the country. Photo: PTI
ایران میں عوام ملک کے حق میں دعا کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

جنگ کی ٹائم لائن: تازہ ترین سے ابتدائی واقعات
امریکی جرنیلوں کا اعتراف: ایرانی ڈرون مکمل طور پر نہیں روکے جا سکتے
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ میں مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ہم جنگی محاذ پر بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اگر اسے ۱۰؍ میں سے نمبر دینے ہوں تو ۱۵؍ دوں گا۔ ‘‘ تاہم اسی وقت امریکی فوجی حکام نے قانون سازوں کو خبردار کیا کہ تمام ایرانی ڈرون روکنا ممکن نہیں۔ کچھ ڈرون امریکی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ کم لاگت والے شاہد ڈرون کم بلندی اور سست رفتار سے پرواز کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں روایتی دفاعی نظام سے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے امریکی حکام اب ڈرون مار گرانے کے بجائے لانچ سائٹس کو تباہ کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

ایران کی اسرائیل کے دیمونا جوہری مرکز پر حملے کی دھمکی
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی تو اسرائیل کی اہم جوہری تنصیب دیمونا کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ تنصیب اسرائیل کے نیگیو صحرا میں واقع ہے اور ملک کے جوہری پروگرام کا مرکزی حصہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کی قیادت کا جو بھی جانشین ہوگا وہ ’’واضح ہدف‘‘ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی پاسداران انقلاب کا آنے والے دنوں میں حملے مزید شدید اور وسیع کرنے کا اعلان

چین کا سفارتی اقدام: خصوصی ایلچی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اعلان کیا کہ بیجنگ مشرق وسطیٰ میں ثالثی کے لیے ایک خصوصی ایلچی بھیجے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کی ’’سرخ لکیر‘‘ عبور نہیں ہونی چاہیے۔ تنازع کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ واضح رہے کہ چین پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مخالفت کر چکا ہے۔

عالمی تجارت متاثر: مارسک نے خلیجی کارگو بکنگ معطل کر دی
دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیMaersk نے اعلان کیا کہ اس نے خلیجی ممالک کے لیے کارگو بکنگ عارضی طور پر روک دی ہے۔ متاثرہ ممالک میں ہیں، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، عراق اور عمان۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے کمپنی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت بھی روک دی تھی، جو عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔

امریکی سیاست میں تنازع: گورنر گیون نیوزوم کا ٹرمپ سے سوال
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے ٹرمپ انتظامیہ سے وضاحت طلب کی کہ ایران میں ایک پرائمری اسکول پر بمباری کیوں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’کیا خطرہ تھا جس نے کمسن بچیوں کے اسکول پر حملہ جائز بنایا؟‘‘ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے وار پاورز ایکٹ کے تحت کانگریس کو باضابطہ اطلاع نہیں دی۔

ہندوستان کا ردعمل: ایرانی جنگ میں بھارتی بندرگاہوں کے استعمال کی تردید
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ امریکی بحریہ ایران پر حملے کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ دعوے جعلی اور جھوٹے ہیں… ہم ایسے بے بنیاد تبصروں سے خبردار کرتے ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ یہ دعویٰ امریکی فوج کے سابق کرنل ڈگلس میکگریگر نے ایک انٹرویو میں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی ہتھیار دشمن کیلئے قہر بن گئے ہیں

ایران کا الزام: خلیجی حملوں کے پیچھے اسرائیل
ایران نے الزام لگایا کہ خلیجی ممالک میں کچھ ڈرون حملے دراصل اسرائیل نے کیے تاکہ جنگ کو مزید وسیع کیا جا سکے۔ نشانہ بننے والے مقامات میں شامل ہیں:سعودی عرب کی راس تنورا آئل ریفائنری، ریاض میں امریکی سفارت خانہ، اور عمان کی دقم بندرگاہ۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’’یہ علاقائی امن کو سبوتاژ کرنے اور پڑوسیوں کے درمیان اتحاد کو کمزور کرنے کی اسرائیلی کوشش ہے۔‘‘

حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف مکمل جنگ کا اعلان
لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ ان کی تنظیم اسرائیل کا ’’مکمل حد تک مقابلہ کرے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا انتخاب دشمن کا بھرپور مقابلہ کرنا ہے اور ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘‘ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے جس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے کیے۔

اقوام متحدہ: جنگ کے پہلے دو دنوں میں تہران سے ایک لاکھ افراد نکلے 
اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے نے رپورٹ دی کہ جنگ کے پہلے دو دنوں میں تقریباً ایک لاکھ افراد تہران چھوڑ گئے۔ یہ نقل مکانی ۲۸؍  فروری اور یکم مارچ کے امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد ہوئی۔ جنگ اب پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل چکی ہے جس میں لبنان، عراق، شام اور خلیجی ممالک بھی شامل ہو گئے ہیں۔

ایران کا دعویٰ: پانچ دنوں میں ۵۰۰؍ امریکی فوجی ہلاک
ایران کے سینئر سیکوریٹی اہلکار علی لاریجانی نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے پہلے دنوں میں ۵۰۰؍ سے زائد امریکی فوجی مارے گئے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’اب ٹرمپ کو جواب دینا ہوگا کہ ۵۰۰؍ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھی کیا امریکہ پہلے آتا ہے یا اسرائیل؟‘‘ تاہم پینٹاگون نے صرف چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

جنگ کا آغاز: ایران پر امریکہ اسرائیل کا مشترکہ حملہ
۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایک بڑا فوجی حملہ شروع کیا جسے بعض رپورٹس میں آپریشن لاینس رور کہا گیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر شہید ہوئے۔ اس کے بعد ایران نے اسرائیل، خلیجی امریکی اڈوں اور خطے کے دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔ یہ تنازع اب پورے خطے میں پھیل کر ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان یہ جنگ اب صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ لبنان، خلیجی ریاستیں، عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیاں، سب اس کے اثرات محسوس کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ بحران مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی علاقائی جنگوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK